چار شکست خوردہ تاریخی کردار اور پاکستانی سیاسی جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان صاحب کو اللہ لمبی عمر اور سکون کی زندگی دے۔ ان کا مایوسانہ تاریخی اظہاریہ بڑا دل شکن ہے۔ تاریخ سب کو اچھی لگتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ بندے کی اپنی تاریخ اچھی ہو۔ ہماری تاریخ، بہادر اور فتحیاب کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ اگرچہ ان میں زیادہ تر نے ہمیں یعنی برصغیر کے باشندوں کو شکستیں دی تھیں۔ لیکن شکست خوردہ تاریخ تھوڑی لکھتے ہیں۔ تاریخ تو فاتحین کی کہانی ہے۔ اس لیے ہم اپنے بچوں کے نام، خود کو شکست دینے والے غیر ملکی حملہ آوراور فاتح سکندر کے نام پر رکھتے ہیں۔ اور اس کا ذکر کرتے ہوئے آج بھی پوری عزت کے ساتھ اسے سکندر اعظم کہتے ہیں۔ اور اپنے پنجابی ہم وطن پورس کا نہ پورا نام یاد ہے نہ قوم اور قبیلہ، اور نہ آج تک پورس کسی کا نام سنا ہے۔

ہر کوئی جیتنے والے جلوس میں شامل ہوتا ہے۔ ہارنے والا اکیلا شکست کھاتا ہے۔ چونکہ پورس شکست خوردہ تھا اس لیے ہم آج تک اپنا تعلق سکندر اعظم سے جوڑتے ہیں۔ اگر سکندر اعظم کا نام رکھنے اور ان سے تعلق پر ہمارا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا تو مسلمان، حملہ آور فاتحین تھوڑے ہیں۔ قاسم ثقفی کے چھوٹے لڑکے محمد سے لے کر غزنی کے محمود، غور کے غوری، فرغانہ کے بابر، اور قندھار کے ابدالی تک، ایک سے بڑھ کر ایک فاتح، جرنیل اور بادشاہ موجود ہے۔

لیکن عمران خان صاحب جب بھی کسی بیرون ملک دشمن کو تڑی دیتے ہیں تو یہ سب نام، یہ سارے کردار، یہ سارے تاریخی فاتحین، جنہوں نے کبھی جنوب سے اور کبھی شمال سے، کبھی سمندر سے اور کبھی پہاڑوں سے، کبھی راجہ داہر کو اور کبھی مرہٹوں کو شکستوں پر شکستیں دی ہیں، بھول جاتے ہیں۔ اور خودکشی پر تلے مایوس انسان کی طرح اردگرد جو جمع ہونے والوں کو، قریب آنے پر، اپنی جان لینے کی دھمکی دیتا ہو۔ آخر کیوں بوڑھے، بے اختیار غزل خواں، جاں بلب، بہادر شاہ ظفر، ایسے وقت میں، وزیراعظم صاحب کو یاد آجاتے ہیں؟ کون ہے جو یہ مایوس کن تھیم وزیراعظم صاحب کو دیتے ہیں؟ یا واقعی حالات آخری مغل (برائے نام) شہنشاہ والے ہیں؟

ایسے مواقع پر وزیراعظم صاحب جس دوسرے شکست خوردہ اور اپنی پسندیدہ شخصیت کا ذکر کرتے ہیں، اور خود کو ان کی جگہ دیکھتے ہیں، وہ میسور کے ٹیپو سلطان ہیں۔ جنگ جان دینے کے لئے نہیں لڑی جاتی بلکہ دشمن کی جان لینے اور اسے شکست دینے کے لئے لڑی جاتی ہے۔ کہتے ہیں برے وقت میں بزدل سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ مزید دل دہلا دیتا ہے۔ برے وقت میں بہادر سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ برے وقت کو اچھے وقت میں تبدیل کرنے کے لئے وسائل اور سپاہ کے علاوہ حوصلہ مردوں کی شمشیر ہوتا ہے۔ ٹیپو سلطان اور بہادر شاہ ظفر سے جان چھڑانے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم صاحب کو اپنے بزدل مشیروں سے بھی جان چھڑانی چاہیے۔ کیونکہ اگر گھر والا اپنے گھر میں ڈر کے مارے کانپتا ہے تو گھر کے باہر چوری کی نیت سے آیا ہوا چور کتنا ڈرتا ہوگا؟

کمیونسٹ ممالک کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں صرف دو سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ ایک حکومت میں اور دوسری اس ریاست کی جیل میں۔ عمران خان صاحب کی خوش قسمتی سے ان کے سیاسی حریف بھی کسی نہ کسی وجہ سے جیل میں ہیں۔ میدان میں صرف ایک مولانا صاحب ہیں۔ جن کا کل سیاسی اثاثہ، مختلف اوقات میں، مختلف وجوہات کی بنا پر، مذہب کی پُر خطر صورت حال پر مبنی بیانیہ، اور مقتدرہ قوتوں کے ساتھ دیرینہ، آزمودہ اور تاریخی تعلقات ہیں۔ اگر عمران خان صاحب اپنے آپ کو راج سنگھاسن کا دلارا سمجھتے ہیں تو حق بجانب ہیں۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو ناگزیر سمجھتے ہیں تو سخت ترین مغالطے کے شکار ہیں۔ دراصل مولانا صاحب اور عمران خان صاحب ایک چہرے کی دو انکھیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان صاحب کے بارے میں کوئی حتمی بات کرنا، خود کو شرمندہ کرنے والی حرکت ہے۔ وہ جہاندیدہ سیاستدان، مقتدرہ کے سب سے زیادہ آزمودہ اور قابل اعتماد حلیف اور مذہبی حلقوں میں جاں پھونکنے والا اور جاں نکالنے والی کرامات کے مالک ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کب خرگوش کے ساتھ بھاگنا ہے اور کب شکاری کے ساتھ۔ وہ جانتے ہیں کیسے اُنکو مطمئن کرنا ہے اور کیسے ِانکو ڈرانا ہے۔ انہوں نے کبھی بھی میاں افتخار کی طرح مورچے کے سامنے پڑی بوری کے پیچھے بیھٹنے والے پر وار کرنے کی بات نہیں کی ہے بلکہ ہمیشہ اونچی اواز میں کہا ہے کہ (بقول ان کے ) ”مقتدر قوتوں کو اس نا اہل حکومت کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔“

بھٹو صاحب شملہ معاہدے کے لئے انڈیا جا رہے تھے تو پنڈی میں اپنے خلاف خود جلوس نکلوائے تاکہ اندراگاندھی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے دوران اپنی ”مجبوریوں“ کی وجہ سے انڈیا کو زیادہ مراعات نہ دینی پڑیں۔ اسی طرح بش کے کسی وزیر کے ایک فون پر لیٹنے والے ڈکٹیٹر مشرف نے پختونخوا اور بلوچستان کے پختون علاقوں میں ایم ایم اے (ملا ملٹری الائینس) کو الیکشن میں واضح اکثریت دلاکر بش کے مزید فرمائشوں سے بچنے کے لئے، ان کو کو اپنے ”بندھے ہوئے“ ہاتھوں کا رونا رو کر سمجھایا تھا۔

جبکہ اُس وقت مولانا صاحب قصہ خوانی میں لاکھوں کے جلسے میں امریکہ کو تڑی دے کر کہتا تھا ”میں اسامہ ہوں، آجاؤمجھے گرفتار کرو۔“ لیکن آج تک کسی ملکی نہ غیرملکی حکومت نے، مولانا صاحب سے پوچھا کہ آپ ایک بین الاقوامی ملزم کا ساتھ کیوں دے رہے تھے؟ آپکا کیا تعلق تھا؟ ہاں سچ! مشرف کو دوبارہ منتخب کروانے کے لئے پختونخوا کی اسمبلی نہ تڑواکر موقع بھی مولانا صاحب نے فراہم کیا تھا۔ چوہدری پرویز الہی تو خالی خولی اعلانات کرتا پھرتا رہا کہ ”دس دفعہ بھی مشرف کو وردی سمیت منتخب کراؤنگا“ جبکہ اصل الیکشن کمشنر تو مولانا صاحب تھے۔ کیونکہ مولانا صاحب اس وقت اسمبلی توڑ دیتے تو چوہدری پرویز الہی صاحب کبھی بھی مشرف کو دوبارہ منتخب نہیں کرواسکتے تھے۔

لگتا ہے اب پھر کہیں پر مذاکرات ہونے جارہے ہیں۔ حکومت اور مقتدرہ کو آج پھر ایک سرپھرے مولوی سے ”خطرے“ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی مجبوریوں اور بندھے ہوئے ہاتھوں کا رونا رو کر ناقابل برداشت مراعات دینے سے بچ جائے۔ مجھے بھی اپکی طرح یہ باتیں لایعینی سی نظر آتی ہیں۔ لیکن کیا کروں؟ زرداری اور نواز شریف دونوں کسی نہ کسی وجہ سے جیل میں ہیں۔ اور ان دونوں کا شریک، حکومتی اتحادی، دھڑلے سے عمران خان صاحب کی حکومت کو گرانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

جب مولانا صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ نیب والے گرفتار کر لینگے تو وہ ایک استہزائیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہتے ہیں ”یہ کچھ نہیں کرسکتے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔“ اتنا اعتماد کسی مضبوط کھونٹے کے بغیر ممکن نہیں۔ یہاں ایک دن سکندر مرزا بھی تھا۔ حکومتیں تو آنی جانی ہے۔ مولانا اور اُنہوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔ نیازی بھی اگرچہ مولانا صاحب کی طرح کئی بار ”کام“ آئے ہیں۔

ولی خان جیسے دیوقامت سیاستدان کو سیاست سے مایوس کرنے والے اور ان سے اسٹیبلشمنٹ کی گلوخلاصی کرانے والے بھی یہی حضرت تھے۔ اس لیے عمران خان صاحب مولانا صاحب کو ہلکا سمجھیں نہ ان کی دھمکی کو سرسری لیں۔ عمران خان صاحب مولانا صاحب کو مولانا ڈیزل کہہ کر استہزا کا نشانہ بناتے ہیں۔ اب مولانا صاحب نے بھی کشمیری مورچہ پکڑ کر تاریخی کرداروں کے ذریعے عمران خان صاحب کو ”گلاب سنگھ نیازی“ کا نام دیا ہے۔ گلاب سنگھ اور نیازی بھی جدید تاریخ میں دوشکست خوردہ کردار رہے ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ حسب خواہش حل ہوا تو کریڈٹ عمران کو نہیں مل سکتا کیونکہ ہر جاننے والا جانتا ہے کہ عمران خان اپنے وزیر خود لے سکتے نہ نکال سکتے ہیں تو کشمیر جیسا مکمل عسکری معاملہ کیسے حل کرسکتے ہیں۔ البتہ نتائج حسب خواہش نہ نکلے تو پھر مولانا صاحب، عمران کا وہی حشر کریں گے جو تاشقند معاہدے کے بعد، بھٹو نے ایوب خان کا کیا تھا۔ میدان تیار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •