پولیس اہلکار یا روبوٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل ائی جے پی روڈ پر لگے اسکینر سے گزرا، پولیس والے حسب معمول چیکنگ کر رہے تھے، پانچ سات منٹ تک آئی ٹین ہی پہنچا تھا کہ دہشتگردوں کے حملہ کی اطلاع ملی، فوری طور پر وہاں پہنچا۔ دو اہلکار موقع پر شہید ہو چکے تھے، سفاک درندوں نے سروس روڈ سے آ کر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔

تیسرا اہلکار جس کی ٹانگ میں گولی لگی تھی اس کا خون انتہائی تیزی سے بہہ رہا تھا، ضلع بھر میں وائرلیس چل چکی تھی تمام افسران اور میڈیا کا رخ جائے وقوعہ کی جانب تھا۔

وہ آئی جے پی روڈ جہاں رات کو بھی ٹریفک کا رش ہوتا ہے وہاں بیسیوں گاڑیوں میں ایک بھی کوئی ایسا انسان نہیں تھا جو اس اہلکار کے جسم سے خون کے فوارے نکلتے دیکھ کر اسے اپنی گاڑی میں قریبی اسپتال منتقل کرے۔

اسی اثنا میں کچھ لوگوں نے زخمی اہلکار جہانزیب کو رکشہ میں ڈال کر پمز کے لئے روانہ کر دیا، کچھ دیر بعد پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے کمانڈر کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچ چکے تھے، بڑی بڑی باتیں، بلند و بانگ دعوے اور مجھے یہ ہمیشہ کی طرح رسمی لگ رہا تھا۔

ایک عام سپاہی جو چند ہزار روپوں کے عوض اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لئے مامور ہوتا ہے کیا اس کے لئے پولیس کے پاس ایک بھی ایمبولینس نہیں ہے، بلٹ پروف جیکٹ اور گن تھما کر کیا اعلیٰ حکام کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، یہی پولیس اہلکار جن سے روبوٹس کی طرح کام لیا جاتا ہے اور عوام کی لعن طعن بھی سننا پڑتی ہے انہیں چھٹی بھی لینا ہو تو منشی کی مٹھی لازمی گرمانہ پڑتی ہے۔

اس سے قبل بھی آئی جے پی کے اطراف کئی پولیس اہلکارایسے ہی دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں اس کے باوجود نہ تو اس سروس روڈ پہ کوئی پولیس پٹرولنگ شروع کی گئی اور نہ ہی کیمرہ لگانے کی زحمت کی گئی ہے۔

اس افسوسناک واقعہ کے بعد آئی جی صاحب نے پولیس کی ہر چوکی پر مورچہ بنانے کے ساتھ ساتھ نہ صرف جدید ہتھیار دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے بلکہ ڈیوٹی بھی 12 گھنٹوں سے کم کر کے 8 گھنٹے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس حملے کا تھریٹ پہلے سے موجود تھا تو کیا ان اقدامات کے لئے اس سانحے کا ہونا ضروری تھا۔

اس ہجوم کی بے حسی دیکھ کر احساسات مر جاتے ہیں، قلم و ضمیر پر سکتہ طاری ہو جاتا۔ قوم کے مجموعی مزاج کی طرح ہم سب ان سانحات کو چند گھنٹوں میں بھلا کر ردی کی ٹوکری کی نظر کر دیتے ہیں۔

وزیر داخلہ صاحب آپ بھاگ دوڑ کر کے جنازوں پر بھی پہنچ جاتے ہیں، اعلانات بھی صادر فرماتے ہیں لیکن خدارا ان کو انسان سمجھیں، ان جوانوں کو آپ کے پیسوں سے زیادہ انسان کا درجہ دینے کی ضرورت ہے، انہیں روبوٹ مت سمجھیں، ان کا اپنے ادارے پر اعتماد بحال کریں، انہیں شودر مت سمجھیں، ایک گھنٹے کے لئے شہر سے ہٹا کے دیکھیں شاید آپ کو ان کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے۔ کسی نے خوب کہا ہے

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •