راہِ نجات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

[ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ]
تحریر: نجم عبّاسی
ترجمہ: یاسر قاضی

وہ خیالوں کے طُوفان سے پیچھا نہیں چُھڑا پا رہا تھا۔ اس نے اُٹھ کر ریڈیو لگایا۔ اور اُس کی آواز بلند کر دی۔ مگر اس کے کان، باہر کی آواز کی جانب مُتوجّہ نہیں ہو پائے۔ وہ نہانی تذبذُب کی سرگوشیاں سن رہے تھے۔

وہ اخبار اُٹھا کر تازہ نرخ نامہ پڑھنے لگا، پر اُس کی نظریں اخبار پر ہونے کے باوجُود بھی، دُور، بہت دُور، بہت دُور کا نظارہ دیکھ رہی تھیں، جہاں اس کے ماضی کی سینکڑوں داستانیں پھیلی ہوئی تھیں۔

بے آرامی نے اُسے پلنگ پر سونے نہ دیا، اور وہ اُٹھ کر، کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا اور باہر کی طرف دیکھنے لگا۔ سامنے اپنے دوست کا بنگلہ دیکھ کر، پھر گذشتہ واقعات اور پرانی یادیں، اس کے ذہن میں اُبھرنے لگِیں۔

ابھی گزشتہ شب ہی تو اُس کے مرحوم دوست نے، اُسی بنگلے میں ایک حسین رقاصہ بلوائی تھی، اور نصف شب تک عیّاشی کی تھی، اور صبح اُسے اطلاع ملی کہ اس کا وہی پیارا دوست، موٹر کار کے حادثے میں مر گیا۔ دکھ اور غم کے مارے، اُس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ اشک بہنے لگے۔

دوست کی موت کی وجہ سے، اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس نے اپنی زندگی میں کتنے زیادہ گناہ کیے ہیں۔ اس کی تمام عُمر کا سرمایہ فقط ظلم اور دھوکے بازی ہے۔ اور اگر وہ اس حالت میں مر گیا (کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں! ) تو وہ کس مُنہ سے خدا کے سامنے جائے گا؟ آخرت کا اُس کے پاس کیا ثمر ہے؟ وہ تو سیدھا پوچھ گَچھ کے بغیر ہی دوزخ میں جائے گا۔ یہ سب سوچ کر، وہ کانپ رہا تھا۔ وہ آج زندگی میں پہلی بار خدا کے خوف سے لرزا تھا۔ اس سے پہلے، موت کبھی بھی اتنا بھیانک لباس پہن کر اس کے خیالوں میں وارد نہیں ہوئی تھی۔

اس نے اپنی حیاتِ رفتہ پر نگاہ ڈالی۔ وہ بہت گنہگار تھا۔ کچھ خاص واقعات، اُس کے ذہن پر اُبھر آئے:

اُس نے لاکھوں روپوں کے چاول اور اناج دیگر ممالک کو سمگل کیے تھے، اور اُس نے دیکھا تھا کہ اس وجہ سے اپنے دیس میں قحط آیا تھا، لاتعداد غریب لوگ روٹی تک کھانے کے لیے محتاج ہوئے تھے، اور مہنگائی بڑھی تھی۔

سعید کے خُون میں بھی اُس کے ہاتھ رنگے تھے، یہ خیال، ذہن میں آتے ہی، اُس کے ہاتھ خُود بخُود اُس کی آنکھوں کے آگے آ گئے، اور اُس کی نگاہیں بے اختیار اُن کی طرف اُٹھ گئیں، جیسے سچ مُچ اُن پر وہ خُون لگا ہو اور وہ اُسے دیکھ رہا ہو۔

سعید، اس کے کارخانے میں کام کرتا تھا، اور مزدُوروں کی یونین کا لیڈر تھا۔ مزدُوروں نے ہڑتال کی اور کام بند کیا۔ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ سب، سعید کے ورغلانے پر ہُوا ہے۔ اُس کو راستے سے ہٹانے کے لیے، ہزاروں روپے دے کر، اس نے دو کرایے کے بدمعاش اُس کے پیچھے لگا دیے، جنہُوں نے سعید کو قتل کر دیا، اور اس قتل کی کوئی داد و فریاد نہیں ہوئی۔

ولی محمّد کے ساتھ اس نے جو حشر کیا تھا، وہ بھی اسے خُود بخُود تمام جُزئیات کے ساتھ یاد آ گیا۔ ولی محمّد نے اس سے کسی مجبوری کی حالت میں 2 سو روپے سُود پر اُدھار لیے تھے، اور وہ سُود، اس سیٹھ نے اس چالاکی سے مُقرر کیا، کہ ولی محمّد دو سو کے عوض دو ہزار نقد دے چکا تھا، اپنا گھر بھی سیٹھ کے حوالے کر چکا تھا، پھر بھی اس کا قرضہ نہیں اتر پایا۔ اُس نے جب اس میں اور کوئی امید نہیں دیکھی تو، ولی محمّد پر جھوڻا مقدمہ کر کے، اسے حوالات داخل کروا دیا۔ پیچھے ولی محمّد کے بال بچّے دربدر ہو گئے۔ ان کا اور کوئی کمانے والا کفیل نہیں تھا، وہ بیچارے بھیک مانگ کر گزر اوقات کرنے لگے۔

عزیزہ والی بپتا تو ابھی تازہ تھی۔ وہ اس کی جواں عمر نوکرانی تھی، جوبن اور امنگوں سے بھرپُور۔ اُس نے بدنامی سے بچنے کی غرض سے، زہر کھا کر، خودکشی کر لی، کیونکہ وہ ماں بننے والی تھی، سیٹھ کے بچے کی ماں۔

آج یہ تمام واقعات آگ کے تودے بن کر، سیٹھ کے دل اور دماغ کو روند رہے تھے۔ وہ حد سے زیادہ پریشان ہو رہا تھا۔ اُن تمام خیالوں سے نجات حاصل کرنا چاہ رہا تھا، مگر وہ ہر گزرتے لمحے اس کو مزید جَکڑتے جا رہے تھے۔ دوست کے حادثے نے، اُسے نیا احساس دیا تھا۔ موت، دوزخ اور خدا کے خوف نے اس کے حوصلے پست کر دیے تھے۔

اُس کو اپنی زندگی کی کتاب کے اوراق پر صرف دھوکی بازیوں، فراڈ، بے ایمانیوں، چور بازاریوں، ظلم اور زیادتیوں ہی کے عنوان نظر آ رہے تھے۔ وہ مہا شرابی تھا، وہ بڑا سمگلر تھا، وہ بڑا جُواری تھا، اور ان تمام سیاہ کار گزاریوں میں اس کا وہی دوست، اس کا ساتھی اور مُشیر رہ چکا تھا۔

وھ سوچنے لگا کہ نیک کام تو میں نے کبھی بُھول کر بھی نہیں کیا ہوگا۔ عبادت کے ساتھ بھی تمام عمر میرا بَیر ہی رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہُوا کہ میں جہنمی ہوں۔ ”جہنم“ کا لفظ، اُس کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اُتر رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ”میری آخرت، شبِ تاریک کی طرح اندھیری ہے، دشت کی طرح ویران، اور افریقا کے جنگلات سے زیادہ بھیانک!“

وہ جذبات کی شدّت سے کانپ رہ تھا۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے عیاں تھے۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

”میں نے تمام عمر عیش ہی کیا ہے، میرے جیون کی ایک ایک گھڑی گناہ میں گزری ہے۔ وہ کون سا مزہ ہے، جو میں نے نہ لُوٹا ہو، میرے پاس دولت کے انبار ہیں، اور دولت سب کچھ کر سکتی ہے۔ مگر یہ موت، یہ دوزخ۔ اب میں کیا کروں۔ کیا کوئی چارہ ہی نہیں؟“

اچانک اس کے رنگ رُوپ میں تبدیلی آ گئی۔ اس میں نئی جان پڑ گئی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے، اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ ”میں اس سال حج پہ جاؤں گا۔ میرے تمام گناہ اور برائیاں دُھل جائیں گی، اور میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے نومُولود کی طرح معصوم ہو کر لوٹوں گا! “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •