آخری جنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ رشید کہتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی افواج کو 72 سال سے آج کے دن کے لیے تیار کیا ہے اور اب بھارت کے ساتھ آخری جنگ ہو گی۔ شعلہ بیاں وزیر ریلوے ہمیشہ سے ہی کشمیر کے معاملے میں انتہائی جذبات کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو اپنے آپ کو سب سے دبنگ قرار دینے والے موصوف نے ڈر کے مارے جہاز کی فلائِٹ پکڑی اور ملک سے باہر چلے گئے جہاں انہوں ایک سفیر کے کمرے میں بیٹھ کر خبر سنی کے پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر دیے ہیں اور سب ٹھیک ٹھاک ہے۔

جس کے فورأ بعد وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ آج کل شیخ صاحب کو اس خطے میں پھر جنگ کے اثرات نظر آرہے ہیں اور وہ لوگوں کو ڈرا رہے ہیں کہ اگر جنگ ہوئی تو اس خطے میں کچھ نہیں بچے گا۔ ادھر وزیراعظم عمران نے مایوسی کے عالم میں ایک امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اب بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اب وہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ایٹمی قوتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں اور اس پر پوری دنیا کو تشویش لاحق ہونی چاہیے۔

شیخ رشید ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان آخری جنگ ہو گی۔ کیوں کہ ہم اس وقت ہر جنگ کو آخری جنگ سمجھ کر لڑ رہے ہیں۔ ایک جنگ ہم سفارتی محاذ پر لڑ رہے ہیں جہاں جنہیں ہم اپنا سمجھتے تھے وہ بھی ہمارا ساتھ دینے سے گریزکر رہے ہیں۔ ہم شاید بھول جاتے ہیں کہ ہر کسی کے اپنے مفادات ہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر جتنے حساس ہم تھے شاید عرب ممالک کشمیر پر نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین ایوارڈ دے دیا جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے عرب ’دوست‘ ملک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کشمیر پر حمایت کی بجائے ایسے موقع پرانسانی حقوق کی پامالی کے صلے میں موجودہ دور کے ’ہٹلر‘ مودی کو تمغوں سے نوازا جا رہا ہے۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ پاکستانی عوام کیا سوچیں گے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے 16 سال قبل درست کہا تھا کہ کوئی دوست ملک نہیں سب کے اپنے مفادات ہیں۔ کاش ہم میں کوئی غیرت ہوتی کہ ہم ان کی دی ہوئی امداد واپس کردیتے۔ مگریہ ہو نہیں سکتا۔ راحیل شریف مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کے سپہ سالار بن کربیٹھے ہیں۔ وہ استعفی بھی نہیں دے سکتے اور نہ ہی ہم ان کا این او سی منسوخ کرسکتے ہیں کیونکہ یہی ممالک ہماری مالی امداد کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ سفارتی جنگ ہم کہاں جا کر لڑیں؟ واقعی شاید یہ بھی آخری جنگ ہے اس کے بعد ہمیں ایک نئی سفارتی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔

بھارت سے ایک جنگ میں ہم نے ملک کا ایک بڑا حصہ کھو دیا۔ پھرامریکہ کی ایک جنگ ہم نے افغانستان میں لڑی جس کے بعد ملک بھر میں جہاد، کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر متعارف کروایا اور ایک بار پھر امریکہ کی دہشت گردی کی جنگ لڑی جس نے ملک بھر کے شہروں میں دہشت گردی کے انمٹ نشانات چھوڑ دیے اور معاشی طور پر اس کا خمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔ یہ بھی طے کرلیں کہ اس کے بعد ہم کسی غیر کی جنگ نہیں لڑیں گے۔

ایک جنگ ہم چاہتے نا چاہتے ہوئے اندرونی خلفشار اور شدت پسندی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اور یہ جنگ ہمیں ہر صورت جیتنا ہو گی ورنہ معاشی طور پرہم اتنے کمزور ہر جائیں گے کہ کوئی اور جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ آئی ایم ایف اور فاٹف نے ایسی کڑوی شرائط عائد کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے ہمیں سر دھڑ کی بازی لگانا پڑ رہی ہے۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے مالیاتی ادارے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں حبکہ دوسری طرف کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو ایسا خاموش کیا ہے کہ کشمیر ہر ایک بیان بھی دینے سے کترا رہے ہیں۔

بھلا بھی اسی میں ہے کہ ایسے موقع پر ہم دنیا میں یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کشمیریوں کی اپنی ہے اور انہیں کہیں سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ دنیا بھر کے میڈیا میں کشمیر پر آزادانہ کوریج سے یہ تاثر ابھرا بھی ہے کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ یہی ہماری جیت ہے۔ لہٰذا ہمیں شدت پسندی کے خلاف اسے آخری جنگ سمجھ کر ہی لڑنا ہو گا اور دنیا کو عملی طور پر بتانا ہو گا کہ پاکستان کی سرزمین کسی صورت دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی پاکستان میں کارروائی قبول نہیں۔

ایک جنگ ہم نے کئی دہائیوں سے ملکی سیاست میں چھیڑرکھی ہے۔ جسے ہم ہمیشہ آخری جنگ سمجھ کر لڑتے ہیں اور عارضی طور پر جیت بھی جاتے ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد پھر جنگ کا ماحول بن جاتا ہے۔ کبھی وہ جنگ بھٹو خاندان کے خلاف لڑی گئی تو کبھی شریف خاندان اس کا نشانہ بنا۔ اب یہ ضد کی جنگ بھی آخری مراحل میں ہے۔ اس معرکے نے بھِی ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے خدا کرے کہ یہ بھی آخری جنگ ہی ثابت ہو کیوں کہ ہمیں شاید معلوم نہِیں عوام انتہا سے زیادہ اکتا چکے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ پھر دیر ہوجائے۔
ان تمام جنگوں کو چھوڑ کر ہمیں امن، برداشت، تعلیم، صحت، معیشت اور غربت کے خاتمے کی جنگ لڑنی ہے اور اپنے عوام کوحقیقی طور پرخوشحال بنانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •