کیا سچ کی کوئی حقیقت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نطشے نے اپنے خارا شگاف انداز میں کہا تھا کہ پورے عہد نامہ جدید میں صرف ایک جملہ ہے جو فلسفیانہ اہمیت کا حامل ہے۔ اور وہ جملہ اس رومی گورنر کی زبان سے ادا ہوا تھا جس کے سامنے جناب مسیح علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے بعد پیش کیا گیا تھا۔ دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد اس کے پوچھا تھا سچ کیا ہے؟ فلسفے میں اس کو اس رومی گورنر کے نام پر پیلاطوس کا سوال قرار دیا جاتا ہے۔

صداقت کی تعریف متعین کرنے پر فلسفے کی کتابوں میں بہت صفحات سیاہ کیے گئے ہیں لیکن سوائے کاغذ اور سیاہی کے ضیاع کے اور کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ انیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں منطق میں ایک انقلاب برپا ہوا۔ جرمنی کے ریاضی دان گوٹلب فریگہ (Gottlob Frege) نے منطقی مقدمات کی تحلیل اور دلائل کو پرکھنے کے نئے ضوابط وضع کیے۔ اس کا بنیادی مقصد تفکر کو میکانکی بنانا تھا جو آگے چل کر کمپیوٹر کی ایجاد کا سبب بنا اور آج کل مصنوعی ذہانت اسی منہاج کا ثمر ہے۔ فریگہ کی منطق ارسطو کے بعد ایک واقعی انقلاب آفریں قدم تھا۔ اس نے ارسطو کے محدود سے تصور کو رد کرتے ہوئے معیاری منطقی قضایا کا دائرہ بہت وسیع کر دیا۔ اور سچ پر ہونے والے لاینحل مباحث کا کسی حد تک خاتمہ کر دیا۔ فریگہ کے کام کے نتیجے میں استخراجی منطق کا دائرہ بہت وسیع اور کشادہ ہو گیا۔ ارسطو کی منطق اس کا ایک بہت قلیل سا جز ہے۔

یہاں یہ وضاحت کر دینا ضروری ہو گا کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ارسطو کی منطق رد ہو گئی ہے تو اس بات کا کیا مطلب ہے۔ ارسطو نے منطقی استدلال کی صحت کا جو اصول بیان کیا تھا وہ آج بھی اتنا ہی درست ہے۔ استدلال کے درست ہونے کی دو شرائط ہیں: مقدمات اور نتیجے میں لازمی تعلق کا ہونا اور نتیجے میں کسی ایسی بات کا نہ ہونا جو پہلے سے مقدمات میں موجود نہ ہو۔ دوسرے الفاظ میں منطقی استدلال میں نتیجہ مقدمات میں دی گئی معلومات سے آگے نہیں جا سکتا۔ اس کو منطقی زبان میں کہا جاتا ہے کہ نتیجہ مقدمات سے ضعیف ہوتا ہے۔ اگر نتیجہ مقدمات سے قوی ہو، یعنی زیادہ معلومات کا حامل ہو تو وہ منطقی استدلال نادرست ہو گا۔ اس لیے جدید منطق کو ارسطو کی منطق کی توسیع کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔

Gottlob Frege

اس منطق کی رو سے زبان کے جملوں کی تین اقسام ہیں: خبر، امر اور استفہام۔ وہ جملے جن میں کوئی حکم بیان کیا گیا ہو یا جو سوالیہ ہوں، ان پر سچ یا جھوٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ امر کی اطاعت کی جاتی ہے یا اس کی نافرمانی۔ لیکن امر بیان کرنے والا جملہ صادق یا کاذب نہیں ہوتا۔ یہی صورت استفہام کی ہے۔ سوال کا جواب دیا جاتا ہے۔ سوال بجائے خود صدق و کذب کا حامل نہیں ہوتا۔ صرف خبریہ جملہ ہے جو صادق یا کاذب ہو سکتا ہے۔ منطق صرف خبریہ جملوں سے بحث کرتی ہے۔

برف سفید ہے۔

وھیل ممالیہ ہوتی ہیں۔

جہلم پاکستان کا صدر مقام ہے۔

ان تین جملوں میں پہلے دو سچ ہیں کیونکہ یہ جملے حقیقت کے عین مطابق ہیں۔ تیرا جملہ کاذب ہے کہ تاحال پاکستان کا صدر مقام اسلام آباد ہے نہ کہ جہلم۔ یعنی تیسرا جملہ امر واقعہ کے برعکس ہے۔

مندرجہ بالا گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صدق اور کذب جملوں کی صفت ہے۔ یعنی ہم کسی خبریہ جملے کو صادق یا کاذب قرار دے سکتے ہیں۔ صداقت کا کوئی عمومی معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے پاس کوئی ایسا پارس پتھر نہیں ہو سکتا جس کے ساتھ مس کرکے ہمیں یہ پتہ چل سکے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ چنانچہ صداقت کیا ہے کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ صداقت کی تین اقسام معروف ہیں:

منطقی صداقت

واقعی یا مادی صداقت

نسبتی صداقت

منطقی صداقت کے حامل جملے اپنی ساخت کی بنا پر صادق یا کاذب ہوتے ہیں۔ کل بارش ہو گی یا نہیں ہو گی۔ یہ جملہ کسی بھی صورت حال میں کاذب نہیں ہو سکتا۔ شیر گوشت خور ہیں اور گوشت خور نہیں ہیں۔ یہ جملہ ہر صورت حال میں کاذب ہو گا کیونکہ یہ متناقض ہے۔ میں کلاس میں طلبہ سے کہا کرتا تھا کہ یہ جملہ اس جہان میں کاذب ہے اور اگلے جہان میں بھی کاذب ہو گا۔ منطق اور ریاضی کے دائرے سے باہر ہمیں ایسے جملوں سے واسطہ نہیں پڑتا جن کو ہم منطقی صداقت کا حامل قرار دے سکیں۔ منطقی صداقت شک اور شبہ سے بالا ہوتی ہے۔ فریگہ کا کہنا تھا کہ دو جمع دو چار کی ریاضیاتی صداقت پر شک کرنے کے لیے بہت ہی خاص قسم کا پاگل پن درکار ہے۔

واقعی یا مادی صداقت سے مراد یہ ہے کہ خارجی دنیا میں صورت حال وہی ہو جو جملے میں بیان ہوئی ہے۔ اوپر جو تین مثالیں بیان کی گئی ہیں وہ واقعی صداقت کی ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم عمومی جملوں کو سچ ثابت نہیں کر سکتے۔ تمام کوے کالے ہیں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ جملہ سچ ہے لیکن ہم اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکتے۔ یہاں مسئلہ ہمارے محدود علم کا ہے۔ ہمارا علم تمام حقائق کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اگر کسی جملے کی صداقت حقائق پر مبنی ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کبھی کوئی ایسی حقیقت دریافت ہو سکتی ہے جو ان معلوم حقائق سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ آسٹریلیا کی دریافت سے پہلے برطانیہ میں منطق کی کتابوں میں یہ مثال بہت عام تھی: تمام سوان سفید ہوتے ہیں۔ لیکن آسٹریلیا میں سیاہ سوان بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے سوان کے سفید ہونے والا جملہ غلط ثابت ہو گیا۔

جو جملے منطقی صدق و کذب کے حامل ہوتے ہیں وہ ہمیں خارجی دنیا کے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کرتے کیونکہ ان کا صدق و کذب ان کی خاص ہیئت پر مبنی ہوتا ہے۔ کل بارش ہو گی یا نہیں ہو گی۔ یہ جملہ سچ ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ کل موسم کیسا ہو گا۔ آئن سٹائن کہا کرتا تھا جو جملے سچ ہوتے ہیں وہ کائنات کے متعلق کچھ نہیں بتاتے۔ جو کائنات کے بارے میں خبر دیتے ہیں افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ سچ نہیں ہوتے۔

جملوں کی ایک تیسری قسم ہے جن میں کسی تعلق یا نسبت کو بیان کیا جاتا ہے۔ الف کی ب سے شادی ہوئی ہے۔ اسلام آباد لاہور کے شمال میں ہے۔ الف بے کا بھائی ہے۔ ان تینوں جملوں میں کچھ فرق و امتیاز ہے۔ پہلے جملے میں الف کا جو رشتہ ب سے ہے، ب کا وہی رشتہ الف سے ہے۔ دوسرے جملے میں رشتہ یک طرفہ ہے یعنی اگر اسلام آباد لاہور کے شمال میں ہے تو لاہور اسلام آباد کے شمال میں نہیں ہو سکتا۔ تیسرے جملے میں دو طرفہ تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی کیونکہ ممکن ہے ب الف کا بھائی نہ ہو بلکہ بہن ہو۔ نسبتوں کے ان کے علاوہ بھی کئی اوصاف ہوتے ہیں جن کو بیان کرنے کا موقع نہیں۔

مندرجہ بالا بحث سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

1۔ منطقی یا ریاضیاتی صداقت چونکہ صوری (فارمل) ہوتی ہے اس لیے حقیقی دنیا کے مسائل و مشکلات کو سمجھنے میں ہماری مدد نہیں کر سکتی۔ منطق کو البتہ ہم ایک آلہء تنقید کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنا چاہیے۔ منطق فکری تضادات اور تناقضات کو رفع کرنے میں بہت مددگار ہو سکتی ہے۔

2۔ خارجی طبعی دنیا اسباب و علل کی دنیا ہے۔ اس میں حقائق کی دریافت کے لیے بہت کوشش و کاوش کرنا پڑتی ہے لیکن پھر بھی ہم عمومی کلیوں، جنہیں قوانین کا نام بھی دیا جاتا ہے، کی صداقت کا منطقی ثبوت فراہم نہیں کر سکتے۔ کارل پوپر کا کہنا تھا کہ ہم عمومی کلیوں کو غلط ثابت کر سکتے ہیں لیکن ان کو سچ ثابت نہیں کر سکتے۔ جس کلیے کے حق میں زیادہ قوی شواہد ہوں گے، ہم اس کو تسلیم کر لیں گے تاوقتیکہ وہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔

طبعی علوم میں شواہد کا معیار بڑی حد تک طے ہو چکا ہے اس لیے وہاں کسی نظریے کے ردوقبول کا معاملہ نسبتاً آسان ہے اور کسی حد تک ان علوم کے ماہرین میں اتفاق رائے بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس سماجی علوم کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ یہاں نہ کسی منہاج پر اتفاق ہے نہ شواہد کے معیار پر، اس لیے اس قسم کے جملے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں کہ ہر ایک کا اپنا اپنا سچ ہوتا ہے۔ تاریخ کا معاملہ تو اور بھی الجھا ہوا ہے۔ ان دنوں ایک نظریہ بہت مقبول ہو رہا ہے کہ تاریخ علم نہیں بلکہ ادبیات کی ایک شاخ ہے۔ کیا تاریخ کے متعلق یہ نظریہ درست ہے؟ اس بحث کو آئندہ کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •