بجلی کی فراہمی کا بوسیدہ نظام، نجات کب ملے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارش کو رحمت گردانا جاتا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ناقص حکومتی انتظامات کی وجہ سے یہ وطن عزیز کے عوام کے لیے ہمیشہ ہی زحمت کا باعث ثابت ہوتی ہے۔ عیدالاضحیٰ سے قبل ملک بھر میں خوب بارشیں ہوئیں، اس بار تو مینہ اس شدّت سے برسا کہ نتیجتاً ملک بھر میں بہت سے افراد کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات و واقعات میں ہلاک ہوگئے۔ خصوصاً کراچی سب سے زیادہ متاثر ہوا کہ جہاں ناصرف سب سے زیادہ نقصانات جانی و مالی دونوں صورتوں میں دیکھنے میں آئے بلکہ حکومتی بے حسی اور عدم توجہی کی انتہائیں بھی شہرِ قائد کے عوام کے لیے دُکھ کا باعث ٹھہریں۔ بدانتظامی کی بدترین نظیریں قائم کی گئیں۔

عالم یہ ہے کہ کئی مقامات پر بارش کے جمع پانی کی تاحال نکاسی نہیں کی جاسکی ہے جب کہ عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کی آلائشیں لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کچرا خانوں تک پہنچائیں اور وہ وہیں پڑی سڑتی اور پورے شہر کی فضا کو پُرتعفن بناتی رہیں، اُنہیں اُٹھانے اور ٹھکانے لگانے والا کوئی نہ تھا، اس لیے ہر سو تعفن کا راج اب تک برقرار ہے۔ اس باعث ہزاروں لوگ مختلف امراض کا شکار بھی ہوئے۔ اس غفلت اور لاپروائی کا ذمے دار شہری اور صوبائی حکومت ایک دوسرے کو ٹھہراتی رہیں۔ اس معاملے میں شہر کی بہتری اور صحت و صفائی پر کسی کی توجہ نہیں گئی، بس سیاست چمکانے کو ہی فوقیت دی گئی۔

کراچی میں عید سے دو روز قبل شروع ہونے والی بارش بروز عید اختتام پذیر ہوئی۔ اُس وقت تک ناصرف دو درجن سے زائد شہری برسات میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے بلکہ عیدالاضحیٰ کی مناسبت سے لائے گئے کئی جانور بھی بجلی کے جھٹکوں کے باعث قربانی سے قبل ہی قربان ہوگئے۔ خونی کھمبوں نے کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھاڈالی، جس نے نادانستگی میں بجلی کے کھمبے کے پاس سے گزرنے کی غلطی کی، کرنٹ اُسے دُور سے ہی گھسیٹ کر سیکنڈوں میں موت کی وادی میں جادھکیلتا۔

ڈیفنس کراچی کے علاقے سے موٹر سائیکل پر گزرنے والے تین دوستوں کی کرنٹ سے الم ناک موت پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ایسے میں بجلی کی فراہمی کے متبادل اور محفوظ نظام کی ضرورت خاصی شدّت سے محسوس ہوتی ہے۔ بجلی کی فراہمی کے لیے کھمبوں اور بالائی تاروں کا نظام بیسویں صدی کا ہے جو موجودہ حالات سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتا۔ ملک کے قریباً تمام شہروں میں بجلی کے کھمبے اور تار برسات میں موت کا پیام ہی ثابت ہوتے ہیں، جن کو تبدیل کرنا ناگزیر اور ان کے بجائے محفوظ ترسیلی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آئندہ کبھی برسات کسی کے لیے موت کا باعث بن سکے۔

دوسری طرف اسلام آباد کا جائزہ لیا جائے جو ملک کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ اور جدید ترین شہر ہے۔ کئی لحاظ سے وفاقی دارالحکومت ملک کے دیگر شہروں سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے، وہاں کا بجلی کی فراہمی کا نظام بھی دیگر شہروں سے مختلف اور محفوظ ہے۔ شہرِ اقتدار میں بجلی کی ترسیل کا جال زیرِ زمین بچھا ہوا ہے، کھمبے ضرور ہیں لیکن تعداد میں انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر جب کہ وہاں ملک کے دیگر شہروں کی بہ نسبت بجلی کے تاروں کا گنجلک جال تو قطعاً نہیں ہے۔

وہاں ملک کے دیگر حصّوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ برسات سے سڑکوں پر پانی جمع ہوتا ہے اور نہ اس موقع پر کرنٹ لگنے سے اموات سننے میں آتی ہیں۔ نکاسئی آب کا بھی بہترین نظام وفاقی دارالحکومت کا حصّہ ہے، اسی لیے بارش کے تھوڑی دیر بعد سڑکیں خشک ہوجاتی ہیں۔ اسلام آباد کے سوا ملک کے دیگر حصّوں میں تیز اور مسلسل بارش کئی زندگیوں کے زیاں کی وجہ بنتی ہے۔

اس میں شبہ نہیں کہ بجلی کے کھمبے، گنجلک تار اور اُس کا بوسیدہ ترین نظام پورے ملک کے عوام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس نظام سے نجات میں ہی عافیت ہے۔ ہمیں بجلی کے محفوظ اور متبادل نظام کے لیے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز سامنے رکھنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ یہ قابل عمل اور مفید نظام وطن عزیز کے دارالحکومت میں کامیابی سے چل رہا ہے، اُسی کی دیکھا دیکھی کراچی کے نئے آباد ہونے والے رہائشی علاقے ڈیفنس فیز 8 میں بھی زیر زمین بجلی کی ترسیل کا نظام متعارف کرایا گیا ہے اور بھی کچھ نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں بھی اسے اپنایا گیا ہے تو پھر کیوں نہ اس نظام کو پورے ملک میں رواج دیا جائے کہ انسانی زندگیوں کو تحفظ مل سکے۔

عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ مانا زیر زمین بجلی کا جال بچھانا مشکل اور محنت طلب کام ضرور ہے لیکن اگر عزم مصمم کرلیا جائے تو کوئی مشکل، مشکل نہیں رہتی۔ ضروری ہے کہ پورے ملک میں اسے قائم کرنے کے ضمن میں سنجیدگی دِکھائی جائے اور آہستہ آہستہ ہی سہی اس حوالے سے کام کا آغاز کیا جائے، تمام شہروں کے ایک ایک علاقے سے کام کی ابتدا ہو اور کچھ عرصے بعد اُسے مکمل کرکے دوسرے علاقے میں اس کی شروعات کی جائے تو اس طرح چند برسوں میں ہی ملک کے طول و عرض میں زیر زمین بجلی کی فراہمی کا نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔

اس ضمن میں تاخیر کی چنداں گنجائش نہیں، لہٰذا فوری موثر حکمت عملی ترتیب دی جائے اور اس حوالے سے کام کا آغاز کردیا جائے۔ اس کے علاوہ ملک کے تمام شہروں میں نکاسئی آب کے نظام پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس مسئلے کو بہر صورت حل کیا جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو آئندہ بارشیں ملک بھر کے عوام کے لیے زحمت و آفت کے بجائے رحمت و عافیت کا سبب ثابت ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •