ہم خود اپنے ساتھ دشمنی کرتے رہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس امت مسلمہ کی پونچھ پکڑ کے ہم نے اپنی دھرتی ماں کے ہیروز کو دروغ گوئی پر مبنی تاریخ کے کفن لپیٹ کر غداری کی قبروں میں دھکیل دیا، بیرونی لٹیروں کو سر متھے بٹھایا اور اپنے کلچر، ثقافت غرض اپنے مفادات تک کی منجی ٹھوک دی، جن کے پیچھے ہم چالیس سال سے اسرائیل سے دشمنی اور ایران سے شریکا لگائے بیٹھے ہیں ان سے ہم  کشمیر پر پولی سی حمایت نہیں لے سکے (اور دوسری طرف کافر ملک انڈین فوجیوں کے ویزے بند کرتا ہے کشمیر کے قتل عام پر) آج اسی امت مسلمہ کے سر پنچ مودی جی کو سول ایوارڈ سے نوازتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ”گدھو مفادات اپنے اپنے۔“

مطلب گاڑیاں ڈرائیو کرنے اور افواج بھجوانے کے لئے ہم اور تجارتی معاہدوں اور پہلو میں بٹھانے کے لئے کشمیریوں کے قاتل مودی جی۔ وائے رے دو قومی نظریے کے مطالعہ پاکستانی پاسبانو۔ اب ہی سوچ لو کہ خارجہ پالیسی کی جو بنیاد میں ہم نے تشکیل دے رکھی ہے وہ اب کھوکھلی اور کچی ریت کی دیواریں ثابت ہو چکیں لہٰذا اس سے آگے بڑھو اور ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے ملک کا بہترین اورمضبوط چہرہ پیش کرنے کی سوچو۔

کیا موجودہ حالات میں ہماری خارجہ پالیسی میں اتنا دم ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر کے اپنے لئے دنیا کے وسیع تر افق کھولے جائیں اوربہت سی ڈائریکٹ اوران ڈائریکٹ مخالفتوں کے باب بند کردیے جائیں۔ نام نہاد تنازعات اور اپنے علاقوں میں ان کی خفیہ کارروائیاں بند کروانے کے راستے نکالیں جائیں۔ تجارتی مفادات حاصل کیے جائیں،کیا ہماری خارجہ پالیسی میں دم ہے کہ ایران کو اپنا بہترین اور سیکنڈ آپشن بنا لیا جائے۔ کیا ہماری خارجہ پالیسی میں اتنا دم ہے کہ اسلامی ممالک ہماری سنیں نا کہ بھارت کی۔ خارجہ پالیسی کی ناکامی کا حال یہ ہے کہ امت مسلمہ انڈیا کو او آئی سی میں بلاتی ہے اور ہماری بائیکاٹ کی دھمکی کو جوتے کی نوک پر رکھتی ہے۔

کیا اب ہم پر لازم نہیں ہے کہ اب ہم امت مسلمہ کے دھوکے کی بجائے دھرتی ماں کے مفادات پر مبنی پالیسی بنائیں۔ اپنے ہیرو، اپنے لوگ، اپنا کلچر، اپنی سوچ اور اپنا مفاد۔

کبھی ملک سے باہر رہنے والے با شعور پاکستانیوں سے پوچھیں کہ بحثیت ملک و قوم ہم کتنے ذلیل و رسوا اور شرمندہ پھرتے ہیں جب ان سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کی سیاست، آپ کی پارلیمنٹ، آپ کے فیصلے اور آپ کی پالیسی کون ہینڈل کرتا ہے۔

یہاں آج تک عالمی افق پر ہم ایک سے دوسری تجارتی منڈی اور سیاسی آپشن نہیں رکھ سکے۔ وہی گھسے پٹے آپشن اور گھسی پٹی پالیسی کہ تیرا در چھوڑ کے جائیں کہاں۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے ملک میں بات کس سے کرنی ہے اصل میں۔ حال یہ ہے کہ کشمیر میں قتل عام کرنے والے مودی جی ہماری فضا استعمال کرتے ہوئے ہماری نام نہاد امت مسلمہ کے بابوں سے جا کرسول ایوارڈ وصول کرتے ہیں اور ہم منہ دیکھتے رہتے ہیں۔

اور جس اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے اجلاس بلائے جانے کا ہم کریڈٹ لیتے ہیں وہ ریزولیوشن کبھی کامیاب ہی نہیں ہوا۔ مگر ہم توبند کمرے کی بات چیت کو ہی اجلاس سمجھ لیتے ہیں۔

ہم کس سے تجارت کریں گے، کس سے نہیں، کس سے معاہدے کریں گے، کہاں سے قرضے لیں گے، کہاں سے واپس کریں گے، کون سے ممالک ہمارے فیورٹ ممالک ہوں گے، کون ہمارا بیسٹ آپشن ہو گا، کون کون ہماری لابنگ ٹیم کا حصہ ہو گا، ہماری لابنگ کا ہدف اور دورانیہ کیا ہوگا، ہمارے پروٹوکولز اوران کے ہدف کیا ہوں گے، ہمارے سفیر کون ہوں گے؟ کسی کو کچھ پتا نہیں کہ یہ فیصلے کب کہاں اورکون کرے گا۔ فارن افیئرز آفس ایک معذور و نکما ادارہ بن چکا ہے۔

حال یہ کہ ایک سفیر کا عہدہ جوملک کے ذہین ترین افراد اور اعلی ترین دماغوں کو دیا جاتا ہے وہاں ہم خانہ پریاں کرتے ہیں۔ جن کو وزارتیں نہیں ملتیں ان کو سفیر بنا کر بھیجتے ہیں، جن کو نوازنا ہو ان کو بھیجتے ہیں۔ سفیر لوگ ہمارے ملک کا چہرہ، کان، آنکھ، دماغ اور جسم ہوتے ہیں دوسرے ممالک میں مگر اس حساس ترین عہدے پر ہم ”ڈنگر“ بھیجتے ہیں۔ لولی لنگڑی پالیسی اوپر سے نکمے سفیر۔ ان کی بلا جانے خارجہ پالیسی، لابنگ، پروٹوکولز اور جدید تقاضے۔ ان کو اپنے اللوں تللوں سے فرصت نہیں ملتی ہمارے لیے لابنگ خاک کریں گے۔

ہماری عقل میں یہ بات شاید بیٹھ ہی نہیں پا رہی کہ یہ گلوبل ایج ہے یہاں جنگ اور جہاد اسلحے بارود سے میدانوں میں نہیں بلکہ سفارتی اور عالمی میزوں پر لڑنے کی ضرورت ہے۔

نتیجتاً گجرات میں قتل عام، کشمیر میں نسل کشی اور قبضہ گیری اور بلوچستان کے حالات اوران میں در اندازی پر تو امت مسلمہ کی حمایت ہم لے نہیں پائے الٹا روس، اسرائیل، ایران، بنگلہ دیش افغانستان، اور پتا نہیں کس کس سے دشمنی ضرور لے لی۔ اپنے چاروں بارڈر ہم غیر محفوظ کر چکے، آدھا ملک گنوا چکے، کشمیر کا تقریباً بیڑا غرق کروا چکے، سی پیک لٹکا کے بیٹھے ہیں، گوادر کو رسک پر رکھے بیٹھے ہیں، باہر جاؤ تو سوال ہوتا ہے معاہدہ کرنا کس سے ہے، گارنٹی دینی کس نے ہے، بلا بلا۔ مگر ”المطالعہ باکستانی نظریہ“ کے مطابق ہمیں امت مسلمہ کے وسیع تر مفادات کا تحفظ کرنا ہے، کیونکہ

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

اور ہمارے اپنے ملک میں چاہے جو بھی حال ہو دنیا کے کسی کونے میں اسلامی ملک پر کوئی آنچ آئے ہم فنڈ اکٹھا کریں گے، جہاد کے نعرے لگائیں گے، وہاں جائیں گے، ان کو یہاں پناہ دیں گے، کیونکہ ہم نے پڑھ رکھا ہے کہ چبھے کانٹا جوکابل میں، تو ہندوستان کا ہرپیرو جواں بیتاب ہو جائے۔ چاہے ہمارا اپنا ملک ہم سے سنبھالا نہ جائے۔ اور چاہے امت مسلمہ ہمیں گھاس بھی نہ ڈالے۔ اور ہمارے گوانڈھیوں کو اپنی منجی پر سجی سائیڈ میں بٹھا کر نیلے رنگ کا پٹکا پہنائے۔ امت مسلمہ کے بابے ہمارا عشق ہیں اور۔

عشق میں مرضیاں نہیں چلتی
جس طرح یار کہے بسم اللّٰہ

اس کو کہتے ہیں ”پلے نہیں سیر آٹا تے ہینگدی دا سنگھ  پاٹا“ یا پھر ”ہلیا جاوے نہ تے فٹے مونہہ گوڈیاں دا“۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان خارجہ پالیسی میں شرمناک حد تک کمزور اور ناکام موڑ پر ٹھہرا ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ ہم غیر ملکی احباب سے بات کرنے سے کتراتے ہیں بلکہ منہ لٹکائے پھرتے ہیں کہ مبادا ہم سے کوئی ایسا سوال نہ پوچھ لیں جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنے!

پر میں کیوں مانوں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •