پی آئی اے کا نوحہ، قطر کا دوحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کے ہوائی اڈے پر ایسے رش تھا جیسے یہاں سے پوری دنیا کے لیے پروازیں جا رہی ہوں، سامنے بورڈ پر نظر پڑی تو معلوم ہوا دو گھنٹے کے وقفے سے بمشکل چھ پروازیں جائیں گے، یہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ رش نہیں ہڑبونگ مچی ہے، جانے والے کم تھے اور انہیں با ر بار جپھیاں ڈال کر الوداع کرنے والے زیادہ، ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جہاز کی دُم سے لٹک کر ساتھ چلے جائیں۔ سیکورٹی والے لوگوں کو قطار میں لگنے کا مطلب سمجھا رہے تھے اور لوگ انہیں سمجھا رہے تھے کہ قطار وہ پاکستان سے باہر جا کر بنائیں گے۔

میں جب بھی سفر کرتا ہوں ہمیشہ یہی کچھ دیکھتاہوں، اور یہ بد نظمی ہوائی اڈے سے شروع نہیں ہوتی بلکہ سفر کا ارادہ باندھنے سے شروع ہو جاتی ہے۔ آپ پی آئی اے کی ویب سائٹ پر جائیں اور ٹکٹ بک کرنے کی کوشش کریں، پہلا تجربہ آپ کو یہ ہوگا کہ ویب سائٹ آسانی سے نہیں کھلے گی اوراگر کھل گئی تو ٹکٹ تلاش کرنے میں دماغ گھوم جائے گا، مثلاً فرض کریں آپ نے اسلام آباد سے بارسلونا جانا ہے تو آپ کو سیدھے طریقے سے تاریخیں درج کرکے پتا چل جانا چاہیے کہ ٹکٹ کتنے کی ہے مگر نہیں پہلے آپ یہ معلوم کریں کہ فلائٹ کس دن کی ہے اور یہ علیحدہ ایک پورا کام ہے، یہ کام مکمل کرنے کے بعد شاید آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کس دن کتنے پیسوں میں جا سکتے ہیں مگر پی آئی کی ویب سایٹ شاذو نادر ہی اتنی مدد گار ہوتی ہے۔

ہر ائیر لائن نے اپنی ویب سائٹ پر فلائٹ کے ساتھ ساتھ ہوٹل بکنگ اور کار رینٹ کے آپشن بھی دیے ہوتے ہیں تاکہ مسافر وہیں سے پورا ٹور بک کروا سکے مگر پی آئی اے ایسی کوئی ڈیل نہیں دیتا۔ اپنی تمام نا اہلی کے باوجود پاکستانیوں کی پہلی ترجیح پی آئی اے ہوتی ہے کیونکہ یہاں سے آپ کو یورپ، کنیڈا، چین وغیرہ کی براہ راست پرواز کم پیسوں میں مل جاتی ہے مگر اس کے باوجود لوگ زیادہ پیسے خرچ کرکے طویل راستے والی غیر ملکی پروازوں پر سفر کرتے ہیں۔

کیوں؟ اس لیے کہ پی آئی اے کی پروازیں محدود ہیں، پیرس جانا ہے تو شاید ہفتے میں ایک پرواز ہے، فلائٹ کے اندر تفریح نام کی کوئی سہولت نہیں، اس کے برعکس غیر ملکی ائیر لائنز کی ٹکٹ مہنگی ہے مگر وہ روزانہ لے جاتی ہے، جہاز کے اندر سہولیات ایسی کہ سفر کا پتا ہی نہیں چلتا۔ ٹوکیو جانے کے لیے بھی پی آئی اے کی براہ راست پرواز ہے مگر وہ بیجنگ میں رکتی ہے، آپ جہاز سے باہر نہیں جا سکتے اور دو تین گھنٹے جہاز میں بیٹھنا پڑتا ہے سو لوگ تھائی ائیر کو ترجیح دے کر براستہ بنکاک جانا پسند کرتے ہیں، قیمت میں بھی کوئی خاص فرق نہیں۔

سب سے اہم بات یہ کہ دنیا بھر میں اب لوگ موبائل فون ایپ کے ذریعے ٹکٹ بک کرواتے ہیں، بے شمار ایپس یہ کام کرتی ہیں، مگر یہاں بھی پی آئی اے بازی لے گئی، آپ کسی بھی ایپ میں وہ پرواز ڈال کر دیکھیں جو پی آئی اے آپریٹ کرتی ہے، ستّر فیصد امکان اس بات کا ہے کہ ایپ پر پی آئی اے کی ٹکٹ نمودار ہی نہیں ہو گی۔ مختصراً یہ کہ پی آ ئی اے نے اس بات کا خاص اہتمام کر رکھا ہے کہ لوگ اس پر سفر نہ کریں حالانکہ یہ کم خرچ اور بالا نشیں ہے۔

میرا ارادہ پی آئی اے کی شان میں قصیدہ لکھنے کا ہرگز نہیں تھا مگر دوحہ کے ہوائی اڈے سے نکلتے ہوئے میرا ارادہ بدل گیا، سوچا کہ اس چھوٹے سے ملک کے ہوائی اڈے سے لگ بھگ ڈیڑھ سو پروازیں آتی جاتی ہیں، رش یہاں بھی ہے مگر ہڑبونگ نہیں، آدھ پون گھنٹے میں ہم مفت ویزے کی سہولت لے کر ہوائی اڈے سے باہر نکل آئے۔ میرے کالج کے زمانے کا دوست سرمد ہوائی اڈے پر مجھے وصول کرنے پہنچا ہوا تھا، سرمد ایک ہنس مکھ آدمی ہے آپ اس کی کمپنی میں بور نہیں ہو سکتے، ویسے بھی کالج کی دوستیاں انمول ہوتی ہیں، جو بے تکلفی کالج کے دوستوں میں ہوتی ہے وہ بعد میں زندگی میں کسی سے نہیں ہو پاتی۔

دوحہ میں گرمی تھی، شدید گرمی اور ساتھ میں حبس مفت۔ اس گرمی کو شکست دینے کے لیے یہاں لوگوں نے نہایت دلچسپ انتظام کر رکھا تھا، وہ دھوپ میں نہیں نکلتے، گاڑی، گھر اور دفتر میں ائیر کنڈیشن لگا کر رکھتے ہیں، دھوپ میں صرف غریب باہر کام کرتے ہیں۔ دوحہ شہر میں داخل ہوتے ہی آپ کو شدت سے ایک بات کا احساس ہوتا ہے کہ شہر کے چپے چپے پر پیسہ لگا ہے، عمارتیں نہ صرف خوبصورت ہیں بلکہ ان کے ڈیزائن بھی منفرد ہیں، شہر کا کوئی حصہ ایسا نہیں جسے بنانے کے لیے پانی کی طرح دولت نہ بہائی گئی ہو، اور یہ بات محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً بھی درست ہے۔

ایک نیا علاقہ وینس کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، عمارتوں کا رنگ، نقشہ، طرز تعمیر سب وینس جیسا ہے، سمندر کے پانی کو کھینچ کھانچ کر اس علاقے میں پہنچایا گیا ہے، عمارتوں کے بیچوں بیچ پُل تعمیر کر کے نہر بنا دی گئی ہے اور انہیں اسی طرح نام بھی دیا گیا ہے جیسے وینس میں ریالٹو برج ہے، بندہ دیکھ کر دم بخود ہو جاتا ہے کہ کیسے ایک پورے شہر کی اس قدر خوبصورت نقل کی گئی ہے۔ قطر کی آبادی تیس لاکھ ہے جس میں سے اڑھائی لاکھ مقامی جبکہ باقی لوگ باہر کے ہیں، یوں سمجھیں کہ اڑھائی لاکھ لوگوں کے لیے ساڑھے ستائس لاکھ لوگ دوحہ میں کام کرتے ہیں تاکہ انہیں بہترین زندگی میسر کی جا سکے۔

دوحہ کا مقابلہ دراصل دبئی سے ہے، فی الحال دبئی آگے ہے مگر جیسے قطر نے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی ”جیتی“ ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اگلے چند برسوں میں دوحہ دبئی کے برابر آ سکتا ہے مگر اس کے لیے دوحہ میں وہ آزادی دینے پڑے گی جو دبئی میں غیر ملکیوں کو حاصل ہے۔ دوحہ میں ایک نیا شہر فٹ بال کے ورلڈ کپ کے لیے بسایا جا رہا ہے، اس کے باوجود پوری دنیا سے آنے والوں کو شہر کے ہوٹلوں میں ٹھہرانا ممکن نہیں، اس کا قطری حکومت نے ایک دلچسپ حل نکالا ہے، حکومت نے بڑے بحری جہاز حاصل کیے ہیں جن میں ہوٹل موجود ہیں، وہاں لوگوں کے ٹھہرانے کا بندو بست کیا گیا ہے۔

قطر کے تعلقات سعودی عرب اور امارات سے اب تک منقطع ہیں، دنیا کا خیال تھا کہ قطر شاید یہ پابندیاں برداشت نہ کر سکے مگر ایسا نہیں ہوا، قطر پورے اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا ہے۔ قطر سے مخاصمت کی ایک بڑی وجہ الجزیرہ چینل ہے، ویسے تو باقی خلیجی ممالک کی طرح قطر میں بھی میڈیا پر پابندیاں ہیں مگر الجزیرہ قطر کے علاوہ باقی پوری دنیا کی خبریں بی بی سی کے معتبر انداز میں دیتا ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوئی پابندی الجزیرہ پر نہیں۔ مگر خود قطری میڈیا کا یہ حال ہے کہ اس کے اخبارا ت میں تین قسم کی خبریں ملتی ہیں، کھیلوں کی، موسم کی اور مبارکبادوں کی۔ روزانہ کوئی نہ کوئی اٹھ کر امیر قطر کو اس کے کسی کام پر مبارکباد پیش کرتا ہے اور وہ جواب میں کسی دوسرے کو مبارکباد دیتا ہے اور یوں سب ہنسی خوشی رہتے ہیں۔

تفنن برطرف، قطر نے جو فاؤنڈیشن بنائی ہے اس پر وہ واقعی مبارکباد کا مستحق ہے، اس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام دنیا کی دس بہترین یونیورسٹیوں، جس میں جارج ٹاؤن امریکہ بھی شامل ہے، کے کیمپس دوحہ میں قائم کیے گئے ہیں، یہاں دنیا کی بہترین تعلیم آپ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ دوحہ شہر کو دیکھ کر آدمی دم بخود ہو جاتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جو مزدور تپتی گرمی میں اس شہر کو خوبصورت بنانے میں لگے ہیں ان کے لیے یہ شہر کچھ نہیں کرتا، آٹھ سو ریال سے سولہ سو ریال ماہانہ ایک مزدور کی تنخواہ ہے اور جب کوئی مزدور ناکارہ ہو جاتا ہے تو اسے واپس اس کے ملک بھیج دیا جاتا ہے، دراصل یہ انسان نہیں مشینیں ہیں جو امپورٹ کی جاتی ہیں اور استعمال کے بعد پھینک دی جاتی ہیں، یہی دنیا کا اصول ہے۔
”ہم سب“ کے لئے خصوصی طور پر ارسال کردہ مضمون۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 351 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada