غریب کی جورو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر سال پہلے دو ملک بنے، ایک نے عوام کو ہی ترقی اور طاقت کا محور سمجھا اور دوسرے نے دس سال میں ہی اس رستے سے اوب کے طاقت کو حاکمیت کا منبہ قرار دے دیا۔ ابتدائی دس سالوں میں بھی اپنے ہی دوسرے حصے مغربی پاکستان کے لئے ایک متعصبانہ اور تحقیر آمیز رویہ ملکی پالیسی میں نظر آتا تھا۔

وقت پے سنبھلنے کے بجائے اس معاملے کو جس سفاکانہ انداز میں نمٹانے کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ دولخت ہونے کی اذیت کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

کاش کہ اس تجربے سے ہی سبق لے لیا جاتا۔ صد افسوس یہ بھی نہ ہو سکا۔

ایسا نہیں کہ پڑوس میں سب اچھا رہا۔ ایمرجنسی لگی۔ ملکی معیشت کئی بار گری۔ اقلیت کو علیحدگی سے روکنے کے لئے گولڈن ٹیمپل بھی ہوا۔ نکسلائیٹ اور کسان سدھار مہم کو بھی کچلا گیا، ناگا لینڈ، لداخ اور کشمیر بھی گاھے گاھے پکتے رہے۔ بہار میں کمیونسٹ پارٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ دو وزیرِ اعظم دہشت گردی کی نظر ہوئے۔ مگر ایک اصول کبھی نہیں توڑا گیا کہ کوئی وردی میں آکے کہے۔ میرے عزیز ہم وطنو۔ ۔ ۔

اسمبلیوں پے کوئی اسٹیٹ پولیس نافذ نہیں کی گئی۔

ہم اج ایشین ٹائیگر سے بھیگی بلی بن چکے ہیں اور وہ کچھوا جسے ہم اپنی نئی نئی ریال کی کمائی کے زعم پے خود سے کم تر سمجھتے تھے۔ ہمیں لگتا تھا، جاپانی گاڑیاں، وی سی آر، پیلا سونا، ٹیپ ریکارڈر، اقامے اور چند نوکریاں جو ان ملکوں میں ہمیں مل رہی ہیں انہی سے معیشت چل جائے گی، کرنسی مستحکم رہے گی۔ عوام خوشحال اور ہم عالمی برادری میں معتبر۔

لیکن یہ اہم بات نہ سمجھ پائے کہ ہم ”غریب کی جورو سب کی بھابی“ بن چکے ہیں۔ جس کو مزدور اور مین پاور یا قابل انجینر ڈاکٹر بینکر چاھیے تھے اس نے ادھار لے لئے اور قیمت دی۔ جسے سپاہی چاھیے تھے۔ اس نے سپاہی اور اڈے لئے، جسے پروپیگنڈا کروانا تھا اس نے مدرسوں کے لئے فنڈنگ کی۔ ہم وہ سگھڑ غریب بھابی بن گئے جو کبھی کسی کے شادی یا موت والے گھر میں رسوئی سنبھال کے بظاہر گھر والوں کی قریبی ہو جاتی ہے، اس کے عوض اس کے بچوں کو ہفتہ مہینہ اچھا کھانا مل جاتا ہے، شادی ہو تو کپڑے بنوا دیے جاتے ہیں اور پھر رخصت ہوتے ہوئے کچھ پیسے کسی شگن یا محبت کا بہانہ بنا کے محنتانہ بھی ادا کر دیتے ہیں۔ مگر ایک بات طے ہوتی ہے کہ یہ بھاوج اور اس کی اولاد کبھی اس قابل نہیں سمجھے جاتے کہ ان سے رشتے ناتے کیے جائیں۔

کبھی اگر ایسی کوئی سیدھی بی بی اپنی غریبی اور عقل پے ساتھ پردہ ڈال کے گھر والوں سے کسی بچے کا رشتہ مانگ بیٹھے تو چھوٹا منہ بڑی بات پے ایسی منہ کی کھانی پڑتی ہے اور جو مخمل میں لپیٹ کے اوقات جتائی جاتی ہے الامان! دل کے سو سو ٹکڑے ہو جاتے ہوں گے کہ ان کی خاطر اپنا گھر بار ترک کیے مہینوں یہاں پڑی رہی کہ زچہ بچہ، باقی بچوں اور گھر کو سنبھال لوں۔

اس سے بہتر وہ رہتی ہے جو اپنے ہی وسائل میں اولاد کو قناعت سے پال لے مگر ان کا وقار اور عزت مجروح نہ ہونے دے۔ چٹنی روٹی کھا کے بھی بچے کچھ بن جاتے ہیں تو برادری کے امیر کبیر خود دور کے رشتے کو بھی قریبی کرنے کے دس ڈھنگ نکال لیتے ہیں۔

پاکستانی عوام اور حکومت دونوں اس وقت انڈین وزیرِ اعظم مودی کو عرب امارات کی جانب سے ملنے والے سرکاری اعزاز پے جیسے تلملا رہے ہیں وہ غریب کی جورو کا جیسا حال ہے۔

بات یہ ہے کہ جو سبق ستر سال میں بار بار ٹھوکر کھانے اور دکھ اٹھانے پر بھی نہ سیکھا وہ اب کیا سیکھا جائے گا؟ دوسرے شاید اب چڑیاں کھیت چگ گئی ہیں۔ وہ وقت نکل گیا۔ جسے کہتے ہیں کہ گیا تو واپس نہیں آتا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •