خارجہ پالیسی کی کشتی کو کس گھاٹ باندھنا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پاکستانی بہت ہی عجیب قوم ہیں۔ بہت جلد لوگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ کبھی یک دم بہت ماڈرن اور کبھی انتہائی مذہبی ہو جاتے ہیں۔ کبھی مکہ مدینہ جانے کے لیے دل بیٹھا جا رہا ہوتا ہے تو کبھی امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہر نماز میں شہادت کی موت کی دعا کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں کبھی اس کے لئے کوشش نہیں کرتے۔

بحیثیت عوام ہماری نفسیات میں کچھ چیزیں شامل ہیں جیسا کہ چلتے موٹر سائیکل پر سپیڈ لگا کر موٹر سائیکل والے کو کہنا کہ بھائی اسٹینڈ اوپر کر لیں، باجی آپ کا دوپٹہ ویل میں آجائے گا، ہاتھ کے اشارے سے موٹر سائیکل والے کو بتانا کہ آپ کی فرنٹ لائٹ چل رہی ہے، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں مرد حضرات کا خواتین کے کام کو بڑی خوش دلی سے کرنا اپنا کام چاہے ایک مہینے سے ہی متاثر ہو رہا ہو، اپنے گھر اور اپنی زندگی کے معاملات کو چھوڑ کر دوسروں کی زندگی اور گھروں میں ان کے معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے مفید مشورے دینا۔

یہ وہ باتیں ہیں جو اس پوری قوم میں رچ بس چکی ہیں اور ان کی عادت کا حصہ بن گئی ہیں چاہے وہ عام عوام ہوں یا حکمران۔

ستر اور اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والے لوگوں کو جہاد کی اہمیت، مرد مومن مرد حق ضیاء الحق کا نفاذ اسلام، طالبان کی اہمیت و عزت اور ہر گلی چوک میں کیمپ لگا کر جذباتی ترانے بجانے کا منظر بڑی اچھی طرح یاد ہوگا۔

اسی طرح کے اور جذباتی نعرے جیسا کہ کشمیر بنے گا پاکستان، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے، کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے، کشمیر پاکستان کا دل ہے، ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مسجد میں ہر جمعہ نماز کے بعد کشمیر کی آزادی اور اسرائیل کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعا ہم بچپن سے ہی سنتے چلے آئے ہیں۔ آج اتنے سال بیت گئے نہ تو کشمیر آزاد ہوا اور نہ ہی اسرائیل کی توپ میں کیڑے پڑے۔

ہمارے دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں اللہ تعالی ہماری صدائیں کیوں نہیں سنتا، اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمارے قول اور فعل میں بہت تضاد ہے۔

احساس، رواداری، محبت اور اخوت جو کہ ایک خوبصورت معاشرے کی پہچان ہوتی ہے ہم لوگوں میں رہی ہی نہیں۔ ہم لوگ نفرت، غیبت، چغلی، حسد جمع کرتے رہے اور دوسری اقوام محبت رواداری اخلاص اور ٹیکنالوجی کی وجہ بہت آگے نکل گئے۔ ہم اسلحہ جمع کرتے رہے اور معیشت کو برباد کر دیا جبکہ دوسری اقوام ٹیکنیکل علوم حاصل کرتی رہیں اور معیشت کو آسمان پر پہنچا دیا۔

ٹیکنالوجی کی افادیت بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ ایک کمزور شخص کے پاس آٹومیٹک گن ہو اور اس کے سامنے دس طاقتور پہلوان ڈنڈے لے کر کھڑے ہوں تو ظاہر ہے وہ طاقتور پہلوان اس آٹومیٹک گن والے شخص کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے، اس اکیلے ٹیکنیکل شخص کا ایک اشارہ دس طاقتور پہلوانوں کو چند سیکنڈ میں ڈھیر کر سکتا ہے۔

جرمنی، جاپان اورچین تین ایسے ممالک ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی مادری زبان اور کلچر کو فوقیت دی اور دنیا میں ترقی کرکے دکھائی۔ ان اقوام نے انگریزی کو کبھی بھی کامیابی اور قابلیت کی علامت نہیں سمجھا۔ یہاں تک کہ جدید سائنسی علوم کو بھی اپنی مادری زبان میں ترجمہ کرکے اپنے ملک کے عام انسانوں تک پہنچایا۔

زمانہ بہت تیزی سے بدل چکا ہے دنیا میں صرف وہی اقوام ترقی کر سکتی ہیں جو سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہوں۔ ہر وقت اپنے آباؤ اجداد کے قصے سنانے اور اپنے مذہب پر فخر کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہم ہمیشہ دنیاوی ترقی کے لیے امریکہ اور آخرت کی کامیابی کے لیے سعودی عرب کو ہی دیکھتے رہے۔ اور آج ملکی حالات یہ ہیں کہ دونوں ملکوں نے ہم سے آنکھیں بدل لی ہیں۔ حال ہی میں مسلم ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعظم مودی کو اعلی سول ایوارڈ سے نوازا ہے جبکہ وہی مودی انڈیا میں گجرات اور کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔

وطن عزیز میں صورت حال یہ ہے عوام اور حکمران یہ احتجاج کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک بھارت کا ساتھ کیوں دے رہے ہیں۔ اور ان مسلم ممالک نے مودی جیسے شدت پسند اور خون کے پیاسے انسان کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے کیوں نوازا ہے۔ پاکستان میں ان مسلم ممالک کے خلاف عوام اور حکمرانوں میں غم اور غصہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔ ہم یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ مسلم ممالک ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا ہی ساتھ دیں گے چاہے ہم ان سے پوری زندگی ہی امداد کیوں نہ مانگتے رہیں۔

پاکستان اور بھارت کے صاحب اقتدار لوگوں کی سوچ میں صرف یہی فرق ہے کہ ہم لوگ صرف امداد مانگتے ہیں جبکہ بھارت کے لوگ کاروبار کرتے ہیں۔

اگر سوچا جائے تو ہم نے امریکہ اور سعودی عرب کے کہنے پر کیا کچھ نہیں کیا۔ ہماری عقیدت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ کسی زمانے میں ایران کی محبت میں سکولوں میں فارسی پڑھائی جاتی تھی اور پھر جب یہ محبت سعودی عرب سے بڑھی تو اسکولوں میں عربی پڑھائی جانے لگی اور جب 21 ویں صدی کے شروع میں امریکہ سرکار سے یارانہ بڑھا تو تمام سکولوں کو انگلش میڈیم قرار دے دیا گیا۔ اردو جس کو ہم اپنی قومی زبان قرار دیتے ہیں آپ کو کہیں بھی نظر نہیں آئے گی۔

ایک وقت میں ہم ترکی سے اتنا متاثر ہوتے ہیں کہ ہمارے ملک کا حکمران یہ کہتا ہے کہ مجھے کمال اتا ترک جیسا نظام یہاں پر لانا ہے۔ آپ کو پاکستان میں کئی جگہ پر پاک ترک اسکول کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کبھی ہم افغانستان کی محبت میں اتنے دیوانے ہو جاتے ہیں کہ پورے کا پورا ملک اٹھا کر پاکستان لے آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز کی حالت یہ ہے کہ صاحب اقتدار لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ کس ملک کے ساتھ رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •