اسرائیل کو تسلیم کرنے کی فروعی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کامران خان صاحب اور میں نے انگریزی صحافت کے لئے رپورٹنگ کا آغاز تقریباََ ایک ساتھ کیا تھا۔ میں اپنے بچپن میں لیکن ’’بیمارشمار‘‘ رہا تھا۔ لہذا بہت ترقی نہ کرپایا۔ کامران خان صاحب بہت توانائی سے آگے بڑھتے چلے گئے۔ Celebrity صحافی اور اینکر شمار ہوتے ہیں۔کئی معاملات کے بارے میں ان کے تجزیے کو حرفِ آخر گردانا جاتا ہے۔ ربّ کریم انہیں مزید کامرانیوں سے نوازے۔

چند روز قبل کامران خان صاحب اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے اپنے مداحین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے وزیر اعظم کے علاوہ وزیر خزانہ صاحب سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان کے علاوہ ریاستی فیصلہ سازی کے حوالے سے اہم مناصب پر فائز لوگوں سے بھی ان کی گفتگو ہوئی۔ ان سب ملاقاتوں کے بعد خان صاحب نے قوم کو یہ نوید سنائی کہ ایک مشہور شعر والے ’’فریاد کے دن‘‘ تھوڑے رہ گئے ہیں۔پاکستان کو افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے ’’اچھی خبریں‘‘ ملنے والی ہیں۔ معیشت بھی درست سمت کی جانب بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔کچھ عرصے بعد استحکام اور خوش حالی کی صورتیں رونما ہونا شروع ہوجائیں گی۔

اتوار کے روز مگر انہوں نے ایک اور ٹویٹ لکھ دیا۔ غالباََ بھارت کے وزیر اعظم کو ایک ’’برادر ملک‘‘ کی جانب سے ملے اعلیٰ ترین اعزاز سے ناراض ہوکر اس ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے اس خواہش کا اظہار کردیا کہ پاکستان کو اسرائیل کے حوالے سے اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

خان صاحب سے گفتگو کئے بغیر میں ذاتی طورپر یہ باور کرنے کو ترجیح دیتا ہوں کہ مذکورہ ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا۔ ہمارے ہاں لوگوں کو مگر دو جمع دو کرکے چار نکالنے کی عادت ہے۔ کئی افراد سوشل میڈیا پر واویلا مچانا شروع ہوگئے ہیں کہ کامران خان صاحب ’’اسرائیل کو تسلیم‘‘ کرنے کے لئے ہمارے عوام کو تیار کرنا شروع ہوگئے ہیں۔غالباََ اسلام آباد میں حالیہ قیام کے دوران ان کی جن اہم لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی انہوں نے کامران خان صاحب کو یہ ’’فریضہ‘‘ سوپنا ہوگا۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر گرماگرم بحث چھڑگئی۔ رونق لگ گئی۔

ہمیں یا دنہ رہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80لاکھ انسانوں پر مسلط ہوئے لاک ڈائون کے 20دن گزرگئے ہیں۔اس میں نرمی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں زندگی کو لیکن ’’نارمل‘‘ بتائے چلی جارہی ہے۔’’معمول کے مطابق‘‘ رواں زندگی کو دیکھنے سے روکنے کے لئے البتہ نہروخاندان کے سیاسی وارث اور بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کو سری نگرایئرپورٹ پراُترنے کے فوری بعددوسری پرواز ہی سے نئی دہلی لوٹادیاجاتا ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ کئی ممالک کے سربراہوں اور وزرائے خارجہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ عالمی اداروں کے نمائندوں کو بھی فون پر گفتگو میں مصروف رکھتے ہیں۔ ان تمام تر پیش قدمیوں کے باوجود مودی سرکار لاک ڈائون میں نرمی لانے کو تیار نہیں ہورہی۔

میری ناقص رائے میں اس وقت پاکستان کے لئے بنیادی اور سب سے بڑا سفارتی چیلنج یہ ہے کہ وادیٔ کشمیر کی وسیع وعریض جیل میں محصور ہوئے مظلوموں کو یہ خبر ملے کہ ہماری مسلسل کاوشوں کی بدولت ان کی اذیت میں تھوڑی کمی آئی۔مزید آسانیوں کی راہ بھی نکل رہی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی موضوعات ’’سفارت کاری‘‘ کے نام پر اچھالے جارہے ہیں وہ اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کا باعث ہوں گے۔جان کی امان پاتے ہوئے یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک ’’برادرملک‘‘ کی جانب سے نریندرمودی کو اپنے ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دینا بھی فی الوقت اس ماتم کنائی کا مستحق نہیں جو رواں رکھی جارہی ہے۔

’’اُمہ‘‘ کی محدودات محض اس اعزاز سے آشکار نہیں ہوئی ہیں۔ 1980کی دہائی میں ایران اور عراق آٹھ برس تک ایک دوسرے کے خلاف وحشیانہ جنگ میں مصروف رہے تھے۔ ’’اُمہ‘‘ اسے روکنے میں ناکام رہی۔ دونوں ممالک خود ہی تھک کر جنگ بندی کو تیار ہوگئے۔ 1990کی دہائی میں ’’اُمہ‘‘ عراق کا کویت پر قبضہ نہ روک پائی۔کویت کو امریکہ نے ’’آزاد‘‘ کروایا۔ افغانستان اورعراق پر ’’دہشت گردی‘‘ کے خاتمے کے نام پر مسلط ہوئی جنگوں کا بھی اس صدی کے آغاز میں ’’اُمہ‘‘ کے پاس کوئی توڑ موجود نہیں تھا۔

اب کئی برسوں سے یمن میں خانہ جنگی جاری ہے۔اس خانہ جنگی کی بدولت لاکھوں کی تعداد میں معصوم بچے فاقہ کشی کا شکار ہوئے۔شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں پانچ لاکھ مسلمانوں کی ہلاکت ہوئی۔ حلب جیسا تاریخی شہر تباہ وبرباد ہوگیا۔ لاکھوں شامی پناہ کی تلاش میں ترکی سے ہوتے ہوئے یورپی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ یورپی ممالک میں اس کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف تعصب بھرپورنفرت کی صورت رونما ہوناشروع ہوگیا۔انتخابات میں ان جماعتوں کو حیرت انگیز کامیابیاں ملنا شروع ہوگئیں جو انتخابی مہم کے دوران انتہائی ڈھٹائی سے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف وحشیانہ نفرت کا اظہار کرتی پائی گئیں۔ برما سے سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ریاستی سرپرستی میں ہوئی نسل کشی کے ذریعے جلاوطنی پر مجبور کردیا گیا۔ان کی اکثریت اب بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جانوروں سے بھی بدترزندگی گزاررہی ہے۔’’اُمہ‘‘ کے پاس ان کے دُکھوں کا بھی کوئی مداوا نہیں۔وادیٔ کشمیر کے مظلوموں کی ’’اُمہ‘‘ اس تناظر میں کیا مدد کرپائے گی؟

دُکھی دل سے یہ بات تسلیم لینے میں کوئی حرج نہیں کہ آفت کی اس گھڑی میں لاک ڈائون کی اذیت سہتے کشمیری لاوارث نظر آرہے ہیں۔پاکستان مگر اخلاقی اعتبار سے ان کی ہر نوعیت کی مدد کرنے کا پابند ہے۔ ہمیں اجتماعی طورپر اپنی تمام تر توجہ اس فرض کی ادائیگی پر مرکوز رکھنا ہوگی۔ اس کے علاوہ جو بھی ہورہا ہے اسے فی الحال نظرانداز کریں۔ بنیادی ہدف سے توجہ کو اِدھراُدھر بھٹکنے نہ دیں۔

کئی بار اس کالم میں بہت غور کے بعد اس رائے کا اظہار کرتا رہا ہوں کہ آفت کی اس گھڑی میں کشمیریوں کو فقط امریکہ کی معاونت سے ٹھوس حوالوں سے فوری ریلیف فراہم کی جاسکتی ہے۔ٹرمپ نے بذاتِ خود 22جولائی کے روز ہمارے وزیر اعظم کو وائٹ ہائوس میں اپنے دائیں ہاتھ بٹھاکر ثالثی کا وعدہ کیا تھا۔پیرکے روز اس کی بھارتی وزیر اعظم سے فرانس میں ایک ملاقات ہونا ہے۔ ٹھوس اطلاعات تک رسائی کے بغیر میں ربّ کریم سے فریاد ہی کرسکتا ہوں کہ مودی،ٹرمپ ملاقات سے قبل پاکستان نے امریکی صدرکو اس کا وعدہ یا ددلانے کا ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا ہوگا۔ شاید اسی باعث وزیر اعظم عمران خان صاحب پیر کے روز قوم سے خطاب کرنا چاہ رہے تھے۔ ہوسکتا ہے انہیں امید دلائی گئی ہو کہ ٹرمپ،مودی ملاقات کے دوران امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم سے مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوئے ’’لاک ڈائون‘‘ کے ازالے کے لئے مؤثراقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے متوقع اور ممکنہ مطالبے کے اظہار کے بعد مودی سرکار اپنے رویے میں کس حد تک نرمی لاتی ہے اس کے بارے میں پیش گوئی سے گریز کو مجبور ہوں۔ربّ کریم سے خیر کی امید رکھنا مگر ضروری ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے میری دانست میں جو ’’فروعی‘‘ بحث چھڑگئی ہے اس کے بارے میں فی الوقت آپ کو اتنا یاد دلاکر یہ کالم ختم کرنا ہوگا کہ جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن اکتوبر کے مہینے میں اسلام آباد پر یلغار کے پروگرام پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔نون لیگ کے جو رہ نما ابھی تک احتساب والوں سے بچے ہوئے ہیں اس معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں۔مولانا اپنی جماعت کو ’’ناموس رسالتؐ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے متحرک کررہے ہیں۔ حکومت کو اب تک قوی امید ہے کہ وہ مولانا کی تحریک کو ریاستی قوت کے بھرپور استعمال سے پرواز بھرنے بھی نہیں دے گی۔اس مرحلے پر واقعتا اسرائیل کو تسلیم کرنے والی بات جو اس وقت محض افواہ سازی اور فروعی گپ شپ سنائی دے رہی ہے کوئی عملی صورت لیتی نظر آئی تو مولانا کے لئے انگریزی محاورے کا Dream Comes True والا معاملہ ہوجائے گا۔ اس کے سوا اور لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ مقبوضہ کشمیر پر مسلط ہوئے ’’لاک ڈائون‘‘ کا 21واں دن شروع ہوگیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •