ریاست، عسکری حکمتِ عملی اور قیادت (حصہ دوم ) ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے سنیچر کو مضمون کے پہلے حصے میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی کہ جو قومیں کسی بحران، جنگ یا ایمرجنسی میں مبتلا ہوتی ہیں وہ افراد پر تکیہ کرنے کے بجائے حالات و واقعات کے اعتبار سے فیصلہ کرتی ہیں۔ ان فیصلوں میں فرد کی اہمیت ضرور ہوتی ہے مگر فیصلے کسی ایک فرد کے گرد نہیں گھومتے۔ اس سلسلے میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ، جنگِ ویتنام اور جنگِ افغانستان کے تعلق سے سلطنتِ برطانیہ، جرمنی اور امریکا کی مثالیں دی گئی تھیں۔

بیسویں صدی کو خاص شکل دینے میں روس کا بھی اہم تاریخی، عسکری اور اسٹرٹیجک کردار رہے۔ پہلی عالمی جنگ روس میں زار شاہی کا زمانہ تھا۔ اس جنگ کے دوران زار شاہی نے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے چار برس میں عسکری ڈائریکٹوریٹ کے پانچ چیف آف جنرل اسٹاف یکے بعد دیگرے بدلے۔ مگر مطلوبہ نتائج نہ حاصل سکے۔

مایوسی کی عمومی فضا نے سرخ انقلاب کے لیے زمین ہموار کر دی اور اکتوبر انیس سو سترہ میں بالشویک انقلاب آتے ہی روس عرف سوویت یونین کی نئی قیادت نے جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کر کے محاذ سے فوجوں کی واپسی کا حکم دے دیا۔ فوج کی بڑے پیمانے پر تطہیر ہوئی اور انیس سو اکیس میں اسے ریڈ آرمی کا روپ دیا۔ یہی ریڈ آرمی انیس سو چھیالیس کے بعد سے سوویت آرمی کہلانے لگی۔

انیس سو تیس کا عشرہ سوویت یونین میں عظیم تطہیر کا دور کہلاتا ہے۔ جوزف اسٹالن نے نہ صرف کیمونسٹ پارٹی میں اپنے نظریاتی حریفوں کو ٹھکانے لگایا بلکہ فوجی ہائی کمان بھی زبردست اکھاڑ پچھاڑ سے گزری۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ جب بائیس جون انیس سو چالیس کو ہٹلر نے سوویت یونین پر حملہ کیا تو نازی افواج لیفٹ رائٹ بڑھتی چلی گئیں۔ اسٹالن نے نظریاتی تطہیر سے پہنچنے والے عسکری قیادتی نقصان کی بھر پائی کے لیے اس جنگ کو مادرِ وطن کے دفاع اور قوم پرستی کے پرچم میں لپیٹ دیا۔

انیس سو سینتیس سے انیس سو چھیالیس تک کے نو برس میں پانچ سپاہ سالار تبدیل ہوئے۔ مارشل بورس شاپوشنی کوف مئی انیس سو سینتیس تا اگست انیس سو چالیس تین برس دو ماہ، جنرل کرل میرٹیسکوف اور جنرل جارجی زوخوف پانچ پانچ ماہ، مارشل شاپوشنی کوف دوبارہ نو ماہ اور الیگزنڈر وسیلی وچ دو سال سات ماہ سپاہ سالار رہے۔ جب فاتح سوویت افواج مئی انیس سو پینتالیس میں برلن میں داخل ہوئیں تو جنرل الیکسی انتونوف سپاہ سالار تھے۔ مگر وہ اس شاندار فتح کے دس ماہ بعد ہی مارچ انیس سو چھیالیس میں ریٹائر ہوگئے۔

اسرائیل کا قیام پندرہ مئی انیس سو اڑتالیس کو عمل میں آیا۔ تب سے اب تک اسرائیل پانچ بڑی اور متعدد چھوٹی جنگیں لڑ چکا ہے۔ جسمانی طور پر موزوں اٹھارہ برس سے اوپر کے ہر اسرائیلی مرد کے لیے دو برس آٹھ ماہ اور خاتون کے لیے دو برس کی فوجی سروس لازمی ہے۔ البتہ اسرائیل کے عرب شہری اور یہودی مذہبی علما اس قانون سے مستثنی ہیں۔

پچھلے اکہتر برس میں بائیس جرنیل بری فوج کی کمان کر چکے ہیں۔ مدتِ سپاہ سالاری چار برس ہے۔ صرف دو جرنیل ایسے گزرے جنھوں نے چار برس سے زائد مدت تک فوج کی کمان کی۔ موشے دایان دسمبر انیس سو تریپن تا جنوری انیس سو اٹھاون چار برس چون دن اور رافیل ایتان اپریل انیس سو اٹہتر تا اپریل انیس سو تراسی پانچ برس تین دن۔ ( موشے دایان کی سربراہی میں اسرائیل نے انیس سو چھپن کی جنگِ سوئز اور رافیل ایتان کی قیادت میں انیس سو بیاسی کی جنگِ بیروت لڑی ) ۔

اسرائیل نے جب عربوں کے خلاف جون انیس سو سڑسٹھ کی پانچ روزہ جنگ جیتی اور بیت المقدس سمیت غربِ اردن، گولان کی پہاڑیوں، غزہ اور جزیرہ نما سینا پر قبضہ کر لیا تو اس وقت بری فوج کے سربراہ جنرل ایتزاک رابین تھے۔ مگر وہ بھی یکم جنوری چونسٹھ تا یکم جنوری اڑسٹھ چار برس کی مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد ریٹائر ہو گئے اور سیاست میں متحرک ہو گئے۔

فروری انیس سو اناسی میں ایرانی انقلاب آیا۔ شاہ کے دور کی فوج کی جگہ پاسدارانِ انقلاب کی شکل میں نئی فوج تیار کی گئی۔ پرانی فوج کے بہت سے جونئیر افسر بھی نئی فوج میں شامل کیے گئے۔ انقلاب کے لگ بھگ ڈیڑھ برس بعد ستمبر انیس سو اسی میں عراق سے جنگ چھڑ گئی۔ اس میں ایک ملین کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔

یہ جنگ آٹھ برس جاری رہی اور بیس اگست انیس سو اٹھاسی کو ختم ہوئی۔ اس دوران ایرانی فوج کی چین آف کمانڈ میں تین تبدیلیاں ہوئیں۔ میجر جنرل ولی اللہ فلاحی ایک سال ایک سو چار دن، میجر جنرل قاسم الزاہر نژاد تین سال سولہ دن اور بریگیڈئیر اسماعیل سہرابی تین سال ایک سو پچانوے دن ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف رہے۔

سری لنکا میں انیس سو انچاس سے اب تک تئیس جنرلوں نے بری فوج کی کمان کی۔ انیس سو اسی کے وسط سے جولائی دو ہزار نو تک سری لنکا کو مسلسل تامل علیحدگی پسندی اور سنہالہ انتہا پسندی کا سامنا رہا۔ خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ ملک میں تیس برس سے زائد عرصے تک ایمرجنسی نافذ رہی۔ مگر کسی سپاہ سالار کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ تامل ٹائیگرز کو کچلنے والے جنرل سرت فونسیکا بھی جنگ جیتنے کے دو ماہ بعد جولائی دو ہزار نو میں تین سال سات ماہ کی سپاہ سالاری کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

بنگلہ دیش میں انیس سو اکہتر سے اب تک جنرل ایم اے رب سے جنرل عزیز احمد تک بری فوج کے سولہ سربراہ تبدیل ہوئے۔ یہ ملک پچھلے اڑتالیس برس میں دو مارشل لا بھی دیکھ چکا ہے۔ تاہم جنرل حسین محمد ارشاد کے علاوہ کسی بھی سپاہ سالار کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں ہوئی۔ جنرل ارشاد انتیس اپریل انیس سو اٹہتر سے تیس اگست انیس سو چھیاسی تک آٹھ سال ایک سو تئیس دن بری فوج کے سربراہ رہے اور بحثیت فوجی صدر خود کو بطور سپاہ سالار توسیع دیتے رہے۔

بھارت میں جنرل راب لاک ہارٹ سے جنرل وپن راوت تک پچھلے بہتر برس میں تیس سپاہ سالار گزرے ہیں۔ اس عرصے میں پاکستان میں سولہ جنرل سپاہ سالاری پر فائز ہوئے۔

بھارت میں آج تک کسی سپاہ سالار کو چار برس کی مدت سے زائد اپنے عہدے پر توسیع نہیں ملی۔ جنرل مانک شا کی قیادت میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں تبدیل ہوا۔ اس کے بدلے جنرل مانک شا کو فیلڈ مارشل تو بنا دیا گیا مگر بطور سپاہ سالار وہ چار برس بھی مکمل نہ کر سکے اور تین سال دو سو اکیس دن بعد ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر پر سبکدوش ہو گئے۔

عالمِ اسلام میں آج تک حضرت خالد بن ولید سے بڑا جرنیل نہیں گزرا۔ اپنی زندگی میں انھوں نے دو سو سے زائد چھوٹی بڑی جنگوں میں حصہ لیا۔ کبھی شکست نہیں ہوئی۔ بدن کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جس پر زخم نہ آیا ہو مگر انتقال بسترِ علالت پر ہوا۔ خالد ریاستِ مدینہ کے پہلے دو خلفا کے جرنیل رہے۔ انھوں نے ایرانی اور بازنطینی سلطنت کو تہس نہس کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ستمبر چھ سو چونتیس عیسوی میں خالد بن ولید کے دستوں نے بازنطینی دمشق کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ مرج الدیباج کے معرکے کے دوران اچانک مدینہ سے حضرتِ بلالِ حبشی خالد کی سبکدوشی کے احکامات لے کر پہنچے۔ جس میں کسی ذاتی غفلت کے سبب خالد کو اپنی کمان حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو سونپنے کا حکم ملا۔ خالد نے بلا چون و چرا احکامات کی تعمیل کی اور سبکدوشی کے بعد نئے کمانڈر کی عسکری مشاورت کرتے رہے۔

دمشق کی فتح کے بعد خالد کو مدینہ طلب کیا گیا۔ اس موقع پر خلیفہ دوم حضرت عمر ابنِ خطاب خالد بن ولید کی خدمات سراہتے ہوئے آس پاس کے لوگوں سے مخاطب ہوئے۔

”میں نے خالد کو اس لیے نہیں ہٹایا کہ مجھے ان پر کوئی ذاتی غصہ تھا یا انھوں نے اپنی ذمے داری ٹھیک سے نہیں نبھائی یا میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ فتح صرف اللہ دیتا ہے“۔ ( تمت بالخیر ) ۔
بشکریہ ایکسپریس نیوز۔

ریاست، عسکری حکمتِ عملی اور قیادت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •