عرب شیوخ کو گالی نہ دیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتحاد بین المسلمین یا اتحاد امہ کی جو ٹوپیاں آج کل ہر مسلمان کو بالعموم اور پاکستانیوں کو بالخصوص پہنائی جا رہی ہیں، شاید کسی خاص مفاد کے پیشِ نظر یہ رویہ اپنایا گیا تھا اور خوب مرچ مصالحہ لگا کر اب بھی عام ہے۔ مفرضوں سے ہٹ کر حقیقی تاریخ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو قرونِ اولیٰ کے علاوہ کہیں بھی اتحاد بین المسلمین کی مثال نہیں ملتی۔ امت مسلمہ ایک تھی لیکن ایک نہ رہی۔ جب کبھی بھی کسی مسلم ملک نے یہ صدا بلند کی ہے تو اُس کے پیچھے ذاتی مفاد ضرور کارفرما تھے ورنہ تاریخ چھان ماریں جب کسی مسلمان ریاست کو ضرورت پڑی تو ببانگِ دہل اتحادِ امہ کا اعلان کیا گیا لیکن جب ضرورت پوری ہوئی، دھیرے دھیرے سب کچھ غائب ہوتا دکھائی دیا۔ اسلامی دنیا 55 سے زائد اسلامی ریاستوں پر مشتمل ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ اسلامی دنیا کے علاوہ ان کی اپنی دنیا بھی ہے، جو ذاتی مفاد کی خاطر ہے۔

وست اللہ خان صاحب میری منہ کی بات چھین لے گئے لکھتے ہیں کہ ”پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ وہ پچھلے بہتر برس سے اس عالمِ اسلام کی یک طرفہ محبت میں گرفتار ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔ یہ بات کب سمجھ میں آئے گی کہ یہ عالمِ مفادات ہے، جسے نظریاتی، تہذیبی، تاریخی و جغرافیائی رشتوں کے ریشم میں عارضی طور پر لپیٹ دیا جاتا ہے۔“

بات دراصل یہ ہے کہ آج کل ہر ملک اپنے لئے سوچتا ہے۔ اپنی حدود کے اندر اپنی خارجہ، دفاعی اور معاشی پالیسی کو بہتر سے بہتر بنانا ان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ پاکستانیوں کا مسئلہ کچھ یوں ہے کہ نہ تو ہم معاشی پالیسی پر نظرِ ثانی کرتے ہیں اور نہ ہی خارجہ پالیسی کو بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بس اوروں کی پالیسی اور پالیسی سازوں پر تنقید! اب حال ہی میں مودی صاحب کا جو ”سانحہ“ رونما ہوا، قوم پر ابھی تک سکتہ طاری ہے۔

اس ”سانحے“ نے ہماری قوم کو کچھ کہنے سننے لائق نہیں چھوڑا اور کچھ کہتے بھی ہیں تو کسی کے سننے لائق نہیں۔ سر زمینِ عرب کے شیوخ صاحبان کو گالیوں سے نوازنے کا سلسلہ ملکی مضافات سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری ہے۔ کہیں کہیں تو وقفے کے لئے بھی وقفہ نہیں۔ دھڑا دھڑا مسلم امہ کے مابین اتحاد کی جگتیں گھڑ لی گئی ہیں، ہائے افسوس کی تاویلیں باندھی گئیں، غیرت یاد دلائی گئی اور کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ بیان محال ہے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ عرب شیوخ نے ایک ایسے موقع پر ہندوستان کے حکمران شری نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈز سے نوازا، جب کشمیر میں کشمیریوں کا برا حال ہے۔ اُن پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ کرفیو نافذ ہے۔ لیکن بات تو یہ بھی ٹھیک ہے کہ اُس ملک کی اپنی بھی کوئی خارجہ پالیسی ہے! کوسوں دور کسی ملک کو کشمیر کا غم کیوں ستائے جب اُن کا اپنا کام بنتا ہو! کشمیر بھارت اور پاکستان کا پیدا کردہ مسئلہ ہے۔ اس کے واحد مدعی بھارت اور پاکستان ہیں۔ وہ جانیں اور اُن کی پالیسی۔

مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈز نوازنے کے بعد پاکستانی عوام میں بالخصوص غم و غصہ پایا جا رہا ہے لیکن اُن کے لئے کچھ باتیں واضح کرنا اپنا فریضہ سمجھتا ہوں۔ بات شروع یہاں سے ہوئی کہ مودی سرکار نے سہ ملکی دورے کا اعلان کیا۔ جس میں فرانس، متحدہ عرب امارات اور بحرین شامل ہیں۔ مودی تینوں ملکوں کا دورہ کرنے کے بعد وطن واپس چلے جائیں گے لیکن یہ دورہ سیر سپاٹے کے لئے نہیں تھا۔ بھارت خود کو معاشی طور پر مستحکم کرنا چاہتا ہے اور پوری دنیا میں سیکیورٹی کی بنیاد پر خود کو محفوظ کرنا اُن کے لئے سب سے مقدم ہے۔

مودی انڈیا کے لئے پانچ ٹریلین معیشت کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں۔ مودی صاحب بھارت کے لئے سوچ رہے ہیں، وہ اپنی قوم کے لئے سوچ رہے ہیں۔ کیونکہ اُن کو بلکہ ہر حکمران کو اسی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے کہ وہ ملک کی بہتری اور بھلا چاہے گا۔ اسی سلسلے میں مودی مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ اس طرح دو طرفہ تعلقات پر بات ہوتی ہے اور دونوں فریقین کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مودی کے سہ ملکی دوروں پر نظر ڈالی جائے تو علم ہوتا ہے کہ بھارت کے علاوہ تینوں ملکوں کے ذاتی مفاد بھی پورے ہو رہے ہیں۔

فرانس کے دورے کا مشاہدہ کریں تو اس سے بھارت کا خاصا فائدہ جڑا ہے۔ فرانس کے صدر میکرون سے انہوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ دفاعی امور بھی زیرِ بحث آئے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ ”جیتاپور جوہری پلانٹ“ کی تعمیر کے سلسلے میں فرانس سے مدد پر بات ہوئی۔

متحدہ عرب امارات میں اُن کو ملکی سطح کا سب سے اعلیٰ ترین ایوارڈ ”آرڈر آف زید“ عطا کیا گیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے پہلے یہ ایوارڈ جنرل پرویز مشرف کو بھی دیا گیا تھا، جب متحدہ عرب امارات کو ہماری ضرورت تھی۔ یہ متحدہ عرب امارات کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ اُن کے بہت سے مفاد بھارت سے جڑے ہیں اور بھارت کے متحدہ عرب امارات سے۔ بھارت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ”رو پے کارڈز“ کے ایم او یو پر باقاعدہ دستخط کیے۔

یو اے ای خود بھی بھارت سے خوب فائدہ حاصل کرے گا۔ ”مہاراشڑرتناگیری“ میں متحدہ عرب امارات کی تیل کی کمپنیوں ”ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی“ اور ”سعودی آرامکو“ کو چالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری میں پچاس فیصد ملے گا جبکہ باقی پچاس فیصد ریاستی کمپنیوں کی جیب میں جائے گا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت اور معیشت کو آسان بنانے کے لئے ایک معاہدہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت کوئی تیسری کرنسی استعمال نہیں ہوگی بلکہ دونوں ممالک کی اپنی کرنسی تجارت کے سلسلے میں استعمال ہوگی۔ جس کی بدولت ان کا انحصار کسی دوسری کرنسی پر ختم ہو جائے گا اورایکسچینج ریٹ بھی کم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، کاؤنٹر ٹیرر کواپریشن، وغیرہ میں بھی دونوں ممالک ایک دوسرے کو مدد فراہم کریں گے۔ اب بھارت کو متحدہ عرب امارات اور یو اے ای کو بھارت سے اتنے ذاتی مفاد وابستہ ہیں تو اس پر ایک دوسرے کو خوش کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔

اس کے بعد مودی جی بحرین کے لئے رختِ سفر باندھیں گے۔ بحرین میں بھی وہاں کا سب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ مودی کا منتظر ہے۔ بحرین کو بھی بھارت سے مفاد کی بھوک ہے۔ بحرین کی اکتیس فیصد آبادی انڈینز پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے فروری 2014 میں دونوں ملکوں کے مابین 450 ملین ڈالرز کے لئے ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں۔

یہ تو حالیہ دور کی بات ہے۔ اس کے علاوہ بھی اسلامی ممالک نے مودی کو ایوارڈز سے نوازا ہے۔ جس میں فلسطین کا ”گرینڈ کالر آف دی سٹیٹ آف فلسطین“ بھی شامل ہے جو فروری 2018 کو اُن کو ملا۔ فلسطین کو بھی مودی سے مفاد کا رشتہ قائم ہے۔ انڈیا کی کمپنیاں فلسطین میں کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نومبر 1997 میں یاسر عرفات نے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ جس کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی، وغیرہ کے لئے ایم او یو پر دستخط کیے تھے۔

افغانستان نے بھی اپنا سب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ”امیر امان اللہ خان ایوارڈ“ مودی کو تھما دیا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان دفاعی معاملے میں بھارت پر سب سے زیادہ بھروسا کرتا ہے۔ اسی طرح بھارت کے لئے بھی افغانستان کی سر زمین اہم ہے۔

مالدیپ نے بھی اپنا ایک سول ایوارڈ مودی جی کو دیا ہے۔ سعودی عرب بھی اس صف میں کھڑا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ایوارڈ دینے یا لینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہر ملک کی اپنی خارجہ، دفاعی اور معاشی پالیسی ہوتی ہے۔ وہ اپنے لئے سوچتے ہیں۔ اگر آج متحدہ عرب امارات نے مودی کو ایوارڈ سے نوازا ہے تو ان کا ذاتی مفاد آڑے آتا ہے۔ اس پر شدت پسند گروہوں کی جانب سے تشویش کا اظہار ہر گز حق بجانب نہیں۔ اگر کشمیر کی حد تک تشویش ہے تو ٹھیک ہے لیکن یہ کہنا کہ اس ”سانحے“ سے اتحاد بین المسلمین پارہ پارہ ہو گیا، بے معنی ہے۔

ہر ملک اپنے عوام کے لئے سوچتا ہے۔ انڈیا بھی ایسا کر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کو ذاتی مفاد مقدم ہیں، بحرین بھی اس خیال سے سب کچھ کر رہا ہے۔ ہمارا حال دیکھا جائے تو کسی بھی صورت ہم انڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انڈیا خود کو منوا رہا ہے اور ہم جو کر رہے ہیں وہ طشت از بام ہے۔ ریکو ڈِیک کیس میں ہم نے کیا کیا؟ اپنے ہی پیروں پر خود کلہاڑی ماری؟ تو کس صورت ہم بھارت کا مقابلہ کر رہے ہیں؟ وہ پوری دنیا سے سرمایہ کاری اپنے ملک لا رہا ہے جبکہ ہم کسی کو سرمایہ کاری کرنے بھی نہیں دیتے اور جرمانے کی صورت میں خطیر رقم بھی ادا کر رہے ہیں۔

رہی بات پاکستانیوں کی تو اُن کو ایک نصیحت کروں گا کہ آپ عرب کے شیوخ صاحبان کو گالی نہ دیں۔ اپنے بل بوتے پر پوری دنیا کو اپنے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کریں۔ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں۔ ہم جنگ و جدال کی حالت میں نہیں ہیں۔ ہمیں خود کو منوانا ہے۔ گالی دینے سے پرہیز کریں اور ملک۔ کے لئے سوچیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •