کشمیر میں کرفیو آخر کب تک ؟
مسئلہ کشمیر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انڈیا اور پاکستان کی۔ دونوں ممالک اس خطے پر مکمل کنٹرول کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ’بلا اشتعال فائرنگ‘ کے معاملات جیسے روزمرہ کی کہانی ہوگئی ہے یہاں تک کے کئی معصوم کشمیری شہری بھارت کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ یاد رہے کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد لداخ کو کشمیر سے علیحدہ کر لیا گیا ہے اور یہ علاقہ اب بغیرکسی قانون ساز اسمبلی کے حق کے ہی براہ راست انڈیا کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
انڈیا کی حکومت کی جانب سے اس اقدام سے پہلے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا اور مختلف رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ کشمیر سے باہر کئی کشمیری افراد اب تک اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کر پائے ہیں اور ریاست کی مخصوص حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک کم سے کم 300 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ کشمیری رہنماؤں اور عوام کو وہاں کے حالات سے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا۔ رہنما اور اہم شخصیات نظربندی کا تو عوام کرفیو کا سامنا کرتے رہے۔
حریت فورم نے کہا کہ کشمیری قوم انتہا پسند ہندوؤں کی سازشوں کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور ہندو بنیاد پرستوں کو اپنے وطن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی مشترکہ فورم نے مزید کہا کہ کشمیری بھارتی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے اس وقت کشمیر کے ہر گھر کے باہر ایک فوجی کھڑا ہے جس وقت یہ کر فیو ختم ہوگا اس وقت کشمیری عوام کا ردِعمل شدید آئے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور پابندیاں چوتھے ہفتے میں ہیں مواصلاتی رابطے منقطع اور کرفیو برقرار ہے۔ مواصلاتی رابطے بند ہونے سے کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ حریت رہنما اور سیاسی رہنما بھی گھروں اور جیلوں میں بدستور بند ہیں دوسری جانب یوتھ لیگ مزاحمتی قیادت نے وادی میں جگہ جگہ احتجاجی پوسٹر آویزاں کرد یئے ہیں، جس میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی مارچ کا شیڈول جاری کردیا ہے۔
وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن بھارت نے ایسی صورتحال پیدا کر دی تو اس کی ذمہ داری عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر ہوگی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس موقع پر ایک ٹویٹ میں متنبہ کیا کہ جموں و کشمیر پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہے چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا۔ پاکستانی حکومت، پارلیمنٹ، اپوزیشن اس وقت سب سختی سے بھارتی جارحیت کی مذمت کررہے ہیں اور کشمیر سے قدم ملا کر کھڑے ہیں، میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک ہر کوئی کشمیر کی آزادی کی آواز پر یک زبان ہے۔
مقبوضہ کشمیرمیں بدھ کو مسلسل سترہویں روز بھی کرفیو اور دیگرسخت پابندیاں جاری رہیں، وادی کشمیر ایک فوجی چھاؤنی اور میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار دن رات سڑکوں اور گلیوں میں گشت کر رہے ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اسپتالوں کا عملہ اور مریض اسپتال نہیں پہنچ پا رہے ہیں کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا پیشہ ورانہ فریضہ انجام دینے کی اجازت نہیں دی جارہی اور صرف ان بھارتی صحافیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جو قابض انتظامیہ کی مرضی کے مطابق رپورٹنگ کرتے ہیں اوروہ دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے کشمیر یوں کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ بھارت اپنے گھٹیا پن سے باز نہیں آرہا بوکھلائے مودی پر جنگی جنون سوار ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے چین اور امریکہ سے روایتی روابط رہے ہیں دوسری جانب اسلامی ممالک کی تنظیم (اؤ آئی سی) نے انڈیا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے جہاں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا رابطہ دنیا سے کٹا ہوا ہے وہیں بیرونی دنیا میں کشمیر سے متعلق نئے فیصلے پر احتجاج ہو رہا ہے۔
ملائیشیا نے بھی مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر خصوصی بیان جاری کرتے ہوئے پرامن حل کی حمایت کا اعلان کردیا اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا اجلاس بلانے میں کامیاب رہے جس کے پانچ میں سے تین ارکان نے اجلاس کے دوران پاکستان کے موقف کی حمایت کی تاہم اعلامیہ جاری کرنے سے گریز کیا۔ لندن میں بھی انڈین ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرین احتجاج کررہے ہیں پاکستانی حکومت نے بھی 15 اگست کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ایران کی پارلیمنٹ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد پیش کردی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت ظالم اور کشمیری مظلوم ہیں۔ کشمیر کے خاطر پاکستان کو ہر فورم پر یہ مسئلہ لے کر جانا چائیے اور کشمیر پر عالمی ضمیر کو جنجھوڑنا چایے ایک زمانہ ایسا تھا جب آزادی اور خودمختاری کی تحریکوں کو دنیا بھر سے اخلاقی حمایت ملا کرتی تھی لیکن جس حمایت اور ساتھ کی ضرورت اس وقت کشمیر کو ہے وہ عالمی طاقتوں میں اس شدت سے دکھائی نہیں دے رہا کشمیری عوام اس وقت بے تحاشا پریشانیوں سے دوچار ہیں اور اس وقت کشمیریوں کی آس پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمان ہیں۔
اب بھارت مزید کتنے دن، کتنے ہفتے مقبوضہ وادی میں پابندیوں کو تسلسل دینے کی سکت رکھتا ہے، پاکستان اور کشمیریوں کی اس وقت کوشش یہ ہونا چاہیے وہ عالمی برادری میں بھارتی تشدد کی اپنی رپورٹنگ کو تیز سے تیز تر کریں اور کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی جس قدر کر سکتے ہیں پاکستان ہر صورت کشمیر کو بھارت کی قید سے آزاد کروائے گا مقبوضہ کشمیر اب دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے امید ہے کہ جلد ہی کشمیریوں کو آزادی نصیب ہوگی۔
کشمیر کے مسلمانوں کو خوش اور محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو پاکستانی مضبوط اور ایک ہوجائے اور بھارت کو اپنی حدیں یاد دلائے کیونکہ یاد ماضی تو عذاب ہے پھر بھارت نے تو ہمیشہ منہ کی کھائی ہے لگتا ہے مودی اس بار عالمی کالک انڈیا کے منہ پر لگواکر ہی باز آئے گا اور جنگی جنون میں پاگل مودی کی زیرِنگرانی بھارت اپنا نام س دنیا کے نقشے سے بھارت کا نام مٹوائے گا اور کیونکہ مسلمانوں سے دنیا لبریز ہیں پاکستان تا قیامت قائم رہے گا۔


