کراچی یا کچراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کچرا اور گندگی ایک بار پھر موضوع بحث ہے اور اس معاملے پر سیاست دانوں کے درمیان لفظی جنگ اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ دو کروڑ نفوس کی آبادی کے شہر کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، اس کچرے کو اٹھانے اور…

Read more

کشمیر میں کرفیو آخر کب تک ؟

مسئلہ کشمیر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انڈیا اور پاکستان کی۔ دونوں ممالک اس خطے پر مکمل کنٹرول کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ’بلا اشتعال فائرنگ‘ کے معاملات جیسے روزمرہ کی کہانی ہوگئی ہے یہاں تک کے کئی…

Read more

مقبوضہ کشمیر اور آرٹیکل370

مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی شرانگیز کارروائیاں، وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تنازع کشمیر کے حل کی خاطر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرا کر بھارت نے پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے…

Read more

تبدیلی کے 23 سال

گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے کئی ساتھیوں کو فارغ کر دیا۔ اب پاکستان میں عظیم تر تبدیلی اور معاشی انقلاب کے لیے ڈاکٹر حفیظ شیخ کو اسد عمر کی جگہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انتخابات کے دوران اسد عمر پی ٹی آئی کے پوسٹر بوائے تھے۔ اسد عمر کو ملکی معیشت کی صورت احوال کے بارے میں بخوبی علم تھا کہ کرنٹ اور تجارتی خسارہ میں ریکارڈ اضافہ، ایکسپورٹس میں کمی، امپورٹس میں اضافہ، زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی، روپے کی قدر پر دباؤ، قرضوں میں بے انتہا اضافہ اور اُن کی ادائیگیاں وہ چیلنجز ہیں جن کو اُن کی ٹیم کو آکر ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے لیکن اِس سلسلے میں کوئی ہوم ورک نہیں کیا گیا اس وقت اگر اپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں سابق حکمرانوں پر تنقید کرنے میں ضائع کرنے کے بجائے نئے منصوبے بنانے، مہنگائی پر قابو پانے، تعلیم کو عام کرنے، روپیہ کی قدر میں اضافہ کرنے، نئی اور جدید درس گاہیں قائم کرنے اور خصوصی طور پر اُن غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے میں استعمال کریں جو سابق حکمرانوں نے کی ہیں تو حکومت کو شاید اسٹیبل کیا جا سکتا ہے۔

Read more

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیچارے عوام

ملک کا وزیرخزانہ اگر یہ کہے کہ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ موجودہ حکومت میں یہ آخر چھ سات ماہ تک آئی ایم ایف سے بچنے کا ڈرامہ کیوں کیا جاتا رہا۔ اِس دوران ملک کی معیشت کا جو حشر نشر ہو کر رہ گیا، اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اگر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے آئی ایم ایف کا پروگرام ہی ناگزیر تھا تو پھر اس میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟ بے یقینی میں مبتلا معیشت نے جو ہچکولے کھائے، ڈالر کہاں سے کہاں پہنچا، سٹاک ایکسچینج کا بار بار کباڑہ ہوا، اس کی تلافی کیسے ہو گی، یعنی اب آئی ایم ایف آج کے بعد کی معیشت کے لئے اپنی شرائط دے گا اور ہم قبول کر لیں گے، یعنی ہم نے سو پیاز بھی کھائے اور سو جوتے بھی۔

Read more

23 مارچ اور قرارداد

مارچ آتا ہے تو 23 مارچ 1940 کی قرار دادِ لاہور (قرار دادِ پاکستان) کی یاد تازہ کرتا ہے، قرار داد پاکستان ہمارے ملک کے قیام کی بنیاد بنی اور 23 مارچ 1940 کو شروع ہونے والا سفر پندرہ اگست 1947 کو اپنی منزل پر پہنچا۔ مارچ کے مہینے ہی میں 12 مارچ 1949 کو قرار دادِ مقاصد منظور کی گئی۔ ہماری پہلی دستور ساز اسمبلی کی پاس کردہ یہ قرار داد ایک تاریخی ڈاکیومنٹ ہے، جو 1956 اور 1973 کے دساتیر کا حصہ بنی۔ اس قرار داد کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریکِ پاکستان کے اہم لیڈر لیاقت علی خان نے پیش کیا اور اسے مسلمانان پاکستان کی آرزوؤں کا ترجمان اور اسلامی جمہوریت کا نمونہ قرار دیا۔

Read more