خیالی امت کی گرتی دیواریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل بہت ہا ہاکار مچی ہوئی ہے کہ یو۔ اے۔ ای نے ہندوستانی وزیر اعظم کو سب سے بڑا سول اعزاز دے کر مسلم امہ کے سینے پر منج دلی ہے۔ مودی سرکار کا کشمیر میں ظلم یقیناً ناقابل بیان ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن یو اے ای ا س کی مذمت کیوں کرے۔ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرے یا بیگانی لڑائی میں کود پڑے۔ آج عرب دنیا کے اقتصادی مفادات انڈیا سے وابستہ ہیں اور انڈیا نے مسلسل محنت کر کے یہ جگہ بنائی ہے۔

جنہوں نے محنت کی ہے اور منڈی کو اپنے کنٹرول میں کیا ہے اعزازات ابھی ان کو ملیں گے یا صرف حبیبی حبیبی کے نعرے لگانے پر سول ایوارڈ ہماری جھولی میں ڈالے جائیں گے۔ اعزازات لینے کے لئے کچھ کر کے دکھانا پڑتا ہے زبانی نعروں اور شہزادوں کے ڈرائیور بن جانے سے وقتی شاباشی اور تھوڑی بہت بخشیش تو مل سکتی ہے اقتصادی معاہدے اور اعزازات نہیں وارے جاسکتے۔

جی ہاں یہ وہی برادر اسلامی ملک ہیں جن کی تعریفیں کرتے ہماری زبانیں سوکھتی اور گلے خشک ہوتے ہیں۔ جن کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہم ڈنڈے سوٹے اٹھا کر سٹرکوں پر نکل آتے ہیں۔ اپنے ہی بھائی بندوں کے کاروبار بند کر کے ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ ان کی لڑائی ہم کھینچ کھینچ کر اپنے ملک میں لاتے رہے ہیں اور ان کے جھگڑوں میں مامے چاچے بن کر پردان بننے کے شوق میں اچھلتے رہتے ہیں۔

پر برادر اسلامی ممالک کی اپنی سوچ ہے۔ آج کی دنیا مفادات کی دنیا ہے۔ تعلقات کاروباری ہیں۔ سفارتی تعلقات باہم اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا نام ہے۔ ہمارے معزز وزیر اعظم ان شہزادوں کے ڈرائیور بنیں۔ یا ان کو شکار کے پرمٹوں سے نوازیں۔ ہم اپنی پگڑی ان کے جوتوں پر رکھیں، ان کے آگے ناک رگڑیں یا سجدے کریں اس سے کچھ بدلنے والا نہیں۔

امت مسلمہ کا جو بخار ہمیں ہر وقت چڑھا رہتا ہے اس میں کوئی دوسرا ”اسلامی ملک“ مبتلا نہیں۔ جس اسرائیل کے ساتھ ہم تعللقات منقطع کر کے ”امت مسلمہ“ کے ساتھ اظہار یک جہتی کر رہے ہیں وہی ”امت مسلمہ“ اور ”برادر اسلامی ممالک“ آج سے کئی سال پہلے اسرائیل سے تعلقات میں کہیں آگے جا چکے ہیں۔

اس سال کے شروع میں ”اسلامی ممالک“ کی تنظیم او آئی سی کے وزارائے خارجہ کے اجلاس میں بھارت کی وزیر خارجہ مہمان خصوصی اور ہمارے وزیر خارجہ بطور اجتجاج کانفرنس سے باہر تھے۔ ہمیں اجتجاج ہی کرنا آتا ہے سو وہ ہم نے کیا۔ لیکن کیا کوئی برادر اسلامی ملک آپ کو منانے آیا۔ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہم بزعم خود اسلام کا قلعہ ہیں۔ اور ساری دنیا کے ٹھیکدار۔ ساری امت کا بوجھ ہمارے ہی نازک کندوں پر ہے۔

دنیا ہمیں بار بار مختلف انداز سے سمجھا چکی کہ اس بوجھ کو آپ نہ اٹھائے پھریں۔ آپ جو اسلامی ممالک کی سربراہی کا پگڑ سر پر سجائے پھر رہے ہیں یہ کوئی فائدہ نہیں پہنچانے والا۔ آپ بھی دنیا کے معروضی حالات کو سمجھیں، اقتصادیا ت میں ترقی کریں اور برابری کی بنیادپر ممالک سے تعلقات قائم کریں۔

بعض لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ برادر اسلامی ممالک کے نعرے لگانے والے، حبیبی حبیبی کا شور مچانے والے اور سٹرکوں پر مدرسوں کے بچوں کو لانے والے آج کیوں انگشت بدنداں ہیں۔ آج کیوں کوئی مذمتی بیان اور قرارداد یو اے ای کے خلاف ان کی طرف سے نہیں آرہی۔ تو ان بد خواہوں کو اطلاع ہو کہ ایسا آپ سوچیں بھی نا کہ ان کی طرف سے کوئی بیان آ جائے گا۔ نعرے لگانے نے والے بڑے سیانے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ کہاں خاموش ہونا اور کہاں باہر نکلنا ہے۔ ان کو اپنا حصہ رسدی ملتا رہا ہے اور ملتا رہے گا۔ باقی سیاسیات، اقتصادیات، سفارتی تعلقات کس چیز کا نام ہیں ان کی بلا سے۔

اس خیالی امت اور ہوائی اسلامی برادر ممالک کی دیوار یں ایک ایک کر کے کب کی گر چکی ہیں لیکن امت مسلمہ کے اتحاد کا خیالی پلاؤ جب تک بک رہا ہے اس وقت تک کاروبار جاری رہے گا۔

منٹو نے خالی بوتلیں، خالی ڈبے لکھا تھا۔ یہاں خالی دیگیں اور خالی دیگچے دہائیوں سے کھڑکائے جا رہے ہیں اور ندیدوں کی قطاریں لگی ہیں۔ منٹو کے افسانوی کردار رام سروپ نے تو ایک دن خالی بوتلیں اور خالی ڈبے اپنے گھر سے نکال باہر کیے تھے لیکن ہم انہیں گلے سے لگائے رکھنا چاہتے ہیں۔ شاید انہیں خالی دیگوں، خالی دیگچوں میں کوئی خیرات نصیب ہو جائے اور خیالی امت کی راہبری ہمیں مل جائے۔

خیالی امت کے ہوائی چوکیدار اقبال کو حکیم امت کہتے نہیں تھکتے۔ اقبال کی بات ہی سن لی ہوتی تو شاید ہم ان خالی اور خیالی دیگوں سے نکل آئے ہوتے۔ سن لیں اقبال کو:

شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!

وضع میں تم ہونصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اب بھی وقت ہے کہ ہم اس خیالی امت کے چوکیدار بننا چھوڑیں۔ ان برادر اسلامی ممالک کے آگے چاپلوسی کی ڈگڈگی بجانا بند کریں جو آپ کو اپنی صفوں میں شامل کرنے پر مرے جا رہے ہیں نہ عزت دینے کے خواہاں ہیں۔ عزت و احترام آج برابری کی بنیاد پر ہیں۔ یاری دوستیاں مفادات سے وابستہ ہیں۔ سفارتی تعلقات لین دین پر موقوف ہیں۔ اور پھر اعزازی ڈگریاں اور اعزازات بھی انہیں کے لئے ہیں جنہوں نے محنت کی اور اپنی جگہ بنائی۔ آج اسلام کا قلعہ اسلامی ممالک اور امت سے باہر اور ایک ہندو ریاست امت کے اندر شمار ہو رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •