مہذب ہونا ریت ہوتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں جوڑے بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ کہیں زیادہ جوڑوں کا ٹوٹنا موجب تشویش بنتا ہے تو کہیں زیادہ جوڑوں کا جڑے رہنا باعث حیرت۔ کہیں جڑنا اور ٹوٹنا معمول ہے تو کہیں جوڑنا مہم اور ٹوٹنا الم۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ دو انسانوں کے ملنے، قریب آنے کا عمل جہاں ایک تسلسل سے ممکن ہو پاتا ہے وہاں ٹوٹ جانا کہیں تدریجی عمل ہوتا ہے تو کہیں کسی تدریجی عمل کا اچانک مظہر۔

ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا۔ پہلی بار نہیں بلکہ تیسری بار مگر اس بار درخت گرنے کی صدا بہت بلند تھی، کیونکہ درخت تھا بھی تو ستائیس برس کا۔ جی ہاں کہتے ہیں نا کہ بیج سے درخت بننے تک سب عمل بن صدا بلند ہوئے ہوتا ہے مگر درخت کے گرنے کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔ کچھ اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ تخلیق پرسکون ماحول میں ہوتی ہے اور تخریب سے ماحول گونج اٹھتا ہے۔

میں نے آج تک اپنی ذات سے متعلق کچھ نہیں چھپایا، تبھی تو میری خود نوشت کے پہلے حصے ”پریشاں سا پریشاں“ سے متعلق میرے دوست اور اردو کے معروف فرانسیسی ادیب اور مصنف ژولیاں کلیمو نے کہا ہے کہ جس طرح آپ نے لکھا اور کسی نے کبھی نہیں لکھا۔ مجھے اس کا یہ کہنا بہت ہی اچھا لگا ویسے ہی جیسے جب میری شاعری کی کتاب ”لامنتہا“، جس کے توسط سے ژولیاں کے ساتھ ربط بڑھا تھا، پڑھنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ کی شاعری مجھے بہت اچھی لگی، تو میں نے جواب میں کہا تھا کہ اب مجھے کسی اور سے داد درکار نہیں یا پھر میرے دانشور دوست ظہیراللہ خان نے کہا تھا کہ ڈاکٹر تمہاری شاعری کو لوگ پچاس برس بعد سمجھیں گے، جس پر میں نے کہا تھا کہ تم نے درست جانا۔

تو جب میری روسی اہلیہ نے ستائیس برس کی رفاقت سے، چاہے میری جفا کے سبب ہی سہی، کنارہ کشی کرنے کا فیصلہ کیا تو کوئی، یقین جانیں کوئی بھی ایسا دوست ہا شناسا نہیں تھا، جس نے میرا دکھ جاننے کی سعی کی ہو۔ میری اپنی آہ و بکا پر، اگر کسی کا ردعمل تھا بھی تو مذاق کرنے یا مضحکہ اڑانے کا۔ کسی نے کہا کہ جاوؑ ماسکو تمہیں ٹکا کے جوتیاں پڑیں گی، کوئی بولا ماسکو مت جانا وہ چھریاں تیز کیے بیٹھی ہے۔ ڈاکٹر دوستوں سے لے کر پڑھے لکھے دوستوں تک اور دانشور متعلقین تک نے مضحکہ ہی اڑایا۔

کچھ شناسا تو ایسے بھی تھے کہ یکایک میرے مخالف اور میری بیوی کے ہمنوا بن گئے۔ میری کہی ہر بات کو جھٹلانے لگے جبکہ اپنے بارے میں اگر کوئی فی الواقعی سچ بول سکتا ہے تو وہ انسان خود ہوتا ہے۔ دوسرا محض اندازہ لگا سکتا ہے جو اکثر غلط ہوتا ہے۔ ایسے نابہ کار افراد میں سے ایک کو تو اس کی یاوہ گوئی کے سبب خود سے دور کرنا پڑا۔

مگر ساڑھے پانچ ماہ کے اس درد سے متعلق اگر کسی نے پوچھا تو وہ یہی ژولیاں جس نے ساغر صدیقی کے اندر بیٹھ کر اس کی کہانی لکھی تھی۔ بڑے عرصے کے بعد اس سے رابطہ ہوا، میں نے مختصراً تازہ حالات بتائے تو اس نے پوچھا روسی بیوی سے علاحدہ ہونے پر آپ زیادہ اداس تو نہیں ہیں؟ میں نے جواب میں کہا کہ واقعی میں نہ صرف اداس بلکہ دکھی بھی ہوں۔ بارہ برس اس سے بات اس لیے چھپائی تھی کہ اسے تکلیف نہ ہو۔ جس پر اس نے کہا میں آپ کا دکھ سمجھ سکتا ہوں، ایک لمبی کہانی ختم ہو گئی اور بہت برے طریقے سے ختم ہوئی۔

مجھے اس کی اس دلجوئی میں نہ صرف اس کی مجھ سے دوستی بلکہ انسان سے دوستی محسوس ہوئی۔ یہی دو فقرے میرے پاکستان کے دوست بھی کہہ سکتے تھے مگر ہمارے ہاں تہذیب روایت نہیں بلکہ تضحیک عادت ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو کسی کو کیلے کے چھلکے سے پھسل کر دیکھ کے خوش ہوتے ہیں مگر اسے اٹھانے کے لیے آگے نہیں بڑھتے جبکہ مہذب ملکوں میں مدد پہلے اور اگر کچھ ہنسانے والا واقعہ ہو بھی تو شاید بعد میں یاد کرکے مسکرا لیتے ہوں۔

جس نے میری بیوی کا انجان ہمدرد ہوتے ہوئے یاوہ گوئی کی وہ بھی سالہا سال سے فرانس کے ہمسایہ ملک برطانیہ میں مقیم ہے مگر تہذیب سیکھنے کا مزاج ہو تو شاید انسان کسی حد تک تہزیب سیکھ سکتا ہوگا ویسے تو تہذیب ایک ریت ہوتی ہے جو سینکڑوں برس عمل کرنے سے راسخ ہوتی ہے۔ ژولیاں کا مجھ سے تعلق ہے اس لیے وہ میرے بارے میں نگراں ہوا، میری بیوی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ پھر حقیقی فرانسیسی ہوتے ہوئے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسانی تعلقات چاہے عورت آدمی کے درمیان ہوں یا ایک ہی جنس کے افراد کے درمیان، نہ تو یک پہلو ہوتے ہیں اور نہ ہی یک سطحی۔ تعلق کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور اس کی کئی پرتیں۔

مگر ہم اندر سے یک زوجیت کے امین اور خواہش میں تعیش کے شیدائی ہیں۔ میں کتنے ہی ہم وطن افراد کو جانتا ہوں جو دوسرے فریق کی ذہنی تسکین سے بے پروا محض اپنی تسکین تک اس سے تعلق رکھتے ہیں اور بقول ان کے کوئی بلا سر لینا نہیں چاہتے۔ یہ بلا وہ بچہ ہوتا ہے جو ہم بدن ہونے والی ہر عورت کی آرزو ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے بطن میں تہذیب مفقود ہے۔ مغربی شرکائے بدن باہمی طور پر طے کرکے سب کچھ کرتے ہیں مگر ہم اس کے برعکس۔

چناچہ ژولیاں تمہارا بہت شکریہ، تم نے مجھ سے بوجھ کا ایک خاطر خواہ حصہ ہٹا دیا، یہی دوستی ہوتی ہے، یہی تعلق۔ یہی تہذیب ہوتی ہے یہی تمدن۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •