افغانستان اور کشمیر۔ خارجہ پالیسی کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ٹرمپ افغانستان پر مسلط کردہ اٹھارہ سالہ جنگ جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ اگلے صدارتی انخلا سے قبل وہ افغان طالبان کے ساتھ کسی با عزت سمجھوتے پر پہنچ کر اپنی افواج واپس بلا لیں۔ ٹرمپ اگلی مدت کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں اس جنگ کو ختم کرنا پڑے گا۔ بصورت دیگر ان کے لیے یہ معرکہ سر کرنا بہت مشکل ہو جائے گا کیونکہ افغان محاذ پر اٹھنے والے بھاری اخراجات سے امریکی معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ جس کے سبب وہاں روزگار میں کمی واقع ہو رہی اور مسلسل بڑھتی بیروزگاری سے تنگ آ کر وہاں کے عوام اب اپنی حکومت سے غیر ضروری جنگی مشنز کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان پر بھی افغان جنگ نے بہت مہلک اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ جنگ پاکستانی معیشت کو ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کے نقصان سے دوچار کر چکی ہے۔ افغانستان میں جاری بد امنی و عدم استحکام ہی پاکستان میں پچھلی دو دہائیوں سے جاری قتل و غارتگری کی اصل وجہ ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان کی ایک پوری نسل کا مستقبل اس خوامخواہ کی جنگ میں اتحادی بن کر تباہ ہو چکا۔ ہماری معیشت، سیاست، ثقافت، سیاحت، رواداری اور عالمی برادری میں اعتبار کا جنازہ نکالنے میں بھی اسی جنگ کا ہاتھ ہے۔ اگرچہ پچھلے چند سالوں میں عوام اور سکیورٹی فورسرز کی بے مثال قربانیوں کے باعث بڑی حد تک امن بحال ہوا ہے۔ لیکن افغان سر زمین سے دہشتگردوں کی آمدورفت اور شورش کے مکمل خاتمے کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں ہو سکتا۔ امریکا اور افغان طالبان کے مابین قطر میں جاری مذاکرات میں کافی پیشرفت ہو چکی اور عنقریب بڑی خوشخبری ملنے کا امکان ہے۔ افغان طالبان کو مذاکرات پر مائل کرنے میں پاکستان کا بڑا کردار ہے لیکن جب تک یہ مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچتے یکسوئی نہایت اہم ہوگی۔

اس وقت مگر پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اس کا مشرقی ہمسایہ انڈیا ہے اور اس کی تمام تر توجہ انڈیا کی طرف سے ایک بار پھر کشمیر میں تیز تر ہوتی جارحیت پر مرکوز ہے۔ تین ہفتے ہونے کو ہیں کشمیری محاورتا ہی نہیں بلکہ حقیقتاً سولی پر لٹکے ہیں۔ مسلسل نافذ کرفیو کے باعث محصورین کے گھروں میں خوراک کی شدید قلت ہے اور وہاں جان کے لالے پڑے ہیں۔ لینڈ لائن، موبائل اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اپنے پیاروں کی خیریت سے عدم واقفیت کی وجہ سے ذہنی اذیت الگ ہے۔

اس صورتحال سے تنگ آ کر لوگ جب باہر نکلتے ہیں تو کرفیو کی خلاف ورزی کی پاداش میں انہیں انڈین فوج کے بد ترین تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھرے لگنے سے مجروح ہونے والے افراد کو دوا اور علاج کی سہولت تک میسر نہیں۔ بزرگ حریت رہنما علی گیلانی ایک کھلے خط میں پاکستان سے کشمیری عوام کی مدد کی اپیل بھی کر چکے ہیں۔

انڈین جارحیت صرف مقبوضہ کشمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ آئے روز لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں اور قیمتی جانوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھی ہیں۔ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار کے وزیر دفاع نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کرنے کا احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ بیان بھی دیا ہے۔ بھارت کشمیر پر غاصبانہ اور غیرقانونی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

پوری دنیا جانتی ہے مودی کی جماعت نے محض الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان پر حملہ آور ہو کر خطے اور دنیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا تھا لہذا اس سے کسی خیر کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ جس انداز میں بھارت میں بی جے پی کے رہنما لائن آف کنڑول کراس کر کے آزاد کشمیر پر قبضے کی بڑھکیں مار رہے ہیں اور حریت رہنماؤں کی طرف سے مدد کی دہائیاں آ رہی ہیں زیادہ عرصہ پاکستان کے لیے لا تعلق رہنا ممکن نہیں ہو گا۔

کشمیر کی موجودہ صورتحال کا براہ راست اثر افغان امن عمل پر بھی پڑے گا۔ اگرچہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے رواں ہفتے اٹھارہ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی امید ظاہر کر چکے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر امریکا اور طالبان کسی سمجھوتے پر واقعی پہنچ بھی گئے تو پھر بھی امریکی فوج کا مکمل انخلا دو ہزار بیس کے اختتام سے قبل کسی صورت نہیں ہو گا۔ اس کے لیے بھی امریکا طالبان سے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کو دوبارہ پنپنے نہ دینے کی ضمانت طلب کر رہا ہے۔

ماضی میں جب سویت افواج افغانستان سے نکلیں تھیں تو افغانستان میں انارکی کے ساتھ کشمیر میں بھی مسلح جد و جہد کا آغاز ہو گیا تھا۔ خدشہ ہے کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے نتیجے میں خطے میں انتہا پسندی بڑھنے کے ساتھ داعش، القاعدہ اور دیگر مقامی جنگجو تنظیمیں دوبارہ فعال ہو سکتی ہیں۔ ماضی کے تجربات سے دنیا یہ بھی جان چکی ہے کہ ایسی تنظیموں کے پیش نظر نہ تو کوئی واضح سوچ مقصد اور لائحہ عمل ہوتا ہے اور نہ ہی ان پر کسی کا کنٹرول ہوا کرتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کابل میں شادی کی ایک تقریب میں داعش کے خودکش حملے میں قریبا ً 60 افراد کا لقمہ اجل بن جانا افغان مذاکراتی عمل اور خطے کے امن کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔ انڈیا پہلے ہی افغانستان میں بھاری سرمایا کاری ڈوبتے اور اپنا اثر و رسوخ ختم ہوتا دیکھ کر سیخ پا ہے۔ امریکی افواج کے انخلا کے دوران ایسے کسی گروہ کی جانب سے کی جانے والی تخریب کاری کی واردات سے امن کے لیے ہونے والی تمام دوڑ دھوپ برباد ہو سکتی ہے۔

پہلے بھی عرض کیا افغان عمل امن مکمل کرنے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے اور یہ ہماری قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس موقع سے کیا فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ کی لچھے دار گفتگو اور عمران خان کو اپنا دوست قرار دینا صرف امریکی مفاد کے لیے ہے۔ افغان امن عمل کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے یا ناکامی سے ہر دو صورت پاکستان کی اہمیت اس وقت تک رہے گی جب تک امریکی مفاد باقی ہے پاکستان اگر کوئی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہی موقع ہے۔ ہمیں امریکا کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ بھارت کو شر انگیزی سے روک کر کشمیر کی اصل حیثیت بحال کرائے۔ بصورت دیگر خطے کا امن متاثر ہو گا اور اس صورت پاکستان امریکی انخلا کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرنے سے قاصر رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •