روز روز یوٹرن!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی یہ خوبی ہے کہ وہ جس بات پر ڈٹ جائیں خواہ وہ یوٹرن ہی کیوں نہ ہو اس پر قائم رہتے ہیں۔ ان کی کرکٹ لائف میں منصور اختر ایک ایسا کھلاڑی تھا جس کے بارے میں پورا پاکستان کہتا تھا کہ وہ بڑے میچوں کا کھلاڑی نہیں ہے لیکن عمران خان نے ہر بار اسے یہ کہہ کر موقع دیا کہ یہ بہت بڑا بیسٹمین ہے عمران خان 1980 کی دھائی میں منصور اختر جیسی بنجر زمین سے رنز کا خزانہ تلاش کرتے کرتے آسٹریلیا سے ورلڈ کپ 1987 ء کا سیمی فائنل ہارگئے تھے۔

آج کل وزیر اعظم عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار میں سے وسیم اکرم پلس تلاش کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ پورا پاکستان ایک طرف ہے اور کہہ رہا ہے کہ عثمان بزدار میں بڑے صوبے کا بڑا منتظم بننے کی صلاحیت نہیں ہے وہ پرویز خٹک سے زیادہ صحت مند ضرور دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی انتظامی صلاحیت کی ”صحت“ پرویز خٹک سے بھی زیادہ ”پتلی“ ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان کی ضد ہے کہ عثمان بزدار میں سے وسیم اکرم نکال کر ہی دم لیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی پنجاب کے اہم ترین عہدے پر موجودگی اہل پنجاب کے لئے بھی کافی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے پنجاب کے سیاستدانوں کا خیال ہے کہ ”بُز“ فارسی کا لفظ ہے اور فارسی میں ”بُز“ بکری کو کہا جاتا ہے۔ پنجاب کے سینئر سیاستدانوں سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم نے عثمان بزدار کو اہم ترین منصب پر بٹھا کر پنجاب اسمبلی کے اراکین کو ان کے لئے بھیڑ بکریاں بنا دیا ہے حالانکہ عثمان بزدار اپنے خدوخال اور شخصیت سے اچھے چروا ہے بھی معلوم نہیں ہوتے لیکن یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر قائم رہنا ان سے زیادہ ان کے قائد عمران خان کی ضد ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں اگر خدانخواستہ عثمان بزدار کے اندر سے وسیم اکرم پلس نکل آیا تو پھر بھی قوم کے ساتھ اچھا نہیں ہوگا کیونکہ وسیم اکرم کی جوئے بازی سے دلچسپی نے انہیں دولت کا رسیا بنایا ہوا ہے۔ جسٹس (ر) ملک عبدالقیوم رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وسیم اکرم کے جوئے بازوں سے قریبی مراسم تھے اس لیے سوئنگ کے اس سلطان پر جوئے کا سلطان ہونے کا الزام بھی موجود ہے۔

ویسے تو وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کا ہی باربار ذکر کرتے ہیں اور یہ ذکر کرکے وہ ملک و قوم کے دلوں کی دھڑکن میں شامل ہوجاتے ہیں لہذا انہیں ریاست مدینہ کی اس جدید شکل میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو اسوہ حضرت عثمان غنی ؓ پر چلنے کی زیادہ تلقین کرنی چاہیے اگر عثمان بزدار اسوہ وسیم اکرم پر چلیں گئے تو یہ راستہ سیدھا جوئے خانہ میں انہیں پہنچائے گا اور اگر عثمان بزدار اسوہ حضرت عثمان غنیؓ پر چلیں گے تو دونوں جہان میں نا موری پاسکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کا جب ہر دوسرے تیسرے دن ذکر کرتے ہیں تو اس سے ایک طرف تو ان کی اسلام سے دلچسپی ظاہر ہوتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کہیں وہ جنرل ضیاء الحق کی طرح اسلام کی آڑ میں اسلام آباد پر قبضہ برقرار رکھنے کے منصوبے تو نہیں بنا رہے، چونکے پاکستان کے عوام سے اسلام کے نام پر بارہا مرتبہ ”واردات“ ہوئی ہے مثال کے طور پر پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن ہم آج بھی انگریزوں اور ان کے قوانین کے غلام ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کو تخت سے تختہ دار تک پہنچانے کے لئے نظام مصطفے ٰ کے نام سے شروع کی گئی تحریک کو استعمال کیا گیا پھر ذوالفقار علی بھٹو امت کے اتحاد کا خواب سجائے پھانسی کے پھندے سے جھول گئے اور نظام مصطفے ٰ تحریک کے دفاتر بند کردیئے گئے۔ البتہ جنرل ضیاء الحق نے نئے اسلامی لیبل سے اپنے اقتدار کی دکان کھولی۔ جنرل ضیاء الحق گیارہ سال تک قوم کو اسلام کے نام پر دھو کے دیتے رہے اور پھر انہیں اللہ کی عدالت میں طلب کرلیا گیا۔

تقریباً اکتیس سال بعد پی ٹی آئی کی حکومت براہ راست مؤثر طریقے سے ریاست مدینہ کا نام استعمال کرکے اقتدار میں آئی ہے، چونکہ وزیر اعظم ذاتی طور پر ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں اس لیے اگر خدانخواستہ یہ فلاحی ریاست قائم نہ ہوسکی تو اس کا الزام کسی دوسرے ادارے پر نہیں آئے گا۔

وزیر اعظم عمران خان آج کل یوٹرن کاچورن بھی بہت اچھے طریقے سے بیچ رہے ہیں اور گزشتہ روز بھی انہوں نے کہا کہ میں یوٹرن لے کر وزیرا عظم بن گیا اور مخالفین یوٹرن نہ لے کر جیل پہنچ گئے۔ حالانکہ ابھی یہ فیصلہ وقت نے کرنا ہے کہ وزیر اعظم نے یوٹرن لے کر اقتدار حاصل کرکے درست فیصلہ کیا یا انہیں اپنے مؤقف پر قائم رہنا چاہیے تھا۔ ماضی میں وزیر اؑعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتہ کرکے یوٹرن لیا تھا اور وزیر اعظم بن گئی تھیں اور پھر ساری عمر یہ یوٹرن نہ صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے بلکہ ان کی پارٹی کے لئے بھی پچھتاوے کا باعث بنا رہا۔

یوٹرن اس قدر اچھا ہوتاتو اسلامی تاریخ مختلف ہوتی کسی بھی سیاسی لیڈر کی زندگی میں ایک دوبار یوٹرن تو ہضم ہو جاتا ہے لیکن ہر روز یوٹرن مضر صحت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی یوٹرن حمایت سے طلاق کی شرح بڑھ سکتی ہے یوٹرن بارے سوشل میڈیا پر کسی منچلے نے ایک شعر بھی جاری کیا ہے

”روز روز کا یوٹرن اچھا نہیں کپتان“
دو دن کی تیری حکومت ہے کچھ تو خیال کر ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 50 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat