بچوں کی تربیت اور والدین کی ذمہ داریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور وہ یہیں سے زندگی کی سیڑھیاں چڑھنے کے لیے ابتدائی تربیت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح باپ وہ پہلا مرد ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں آتا ہے اور یوں ماں باپ مل کر کسی بچے کی زندگی کے ابتدائی خدوخال متعین کرتے ہیں جن کی بنیاد پر بچہ اپنی بقیہ تمام زندگی گزارتا ہے۔ اس کی شخصیت کی بنیادیں اس کے والدین ہی بناتے ہیں۔ گر والدین آپس میں اچھے سلوک کا مظاہرہ کریں اور بچوں کو اچھی تربیت دیں تو بچے پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ماں باپ بچوں کو وقت ہی نہ دے پائیں تو بچے پر اس کے بہت منفی اثرات ہوتے ہیں اور اس کی صحیح نشوونما نہیں ہو پاتی۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: ”فرزند کا حق باپ پر یہ ہے کہ اس کا اچھا نام تجویز کرے اور اسے بہترین ادب سکھائے اور قرآن کی تعلیم دے۔“ (کتاب آئین تربیت، ص 28 )

ایک وقت تھا جب اگرچہ رسمی تعلیم اس قدر عام نہ تھی مگر بچوں کی تربیت آج کے مقابلے میں بہت بہتر تھی۔ ماں گھر کا مرکزی کردار ہوتی تھی اور پورے گھر کا انتظام و انصرام اسی کے ماتحت ہوتا تھا۔ والدین بچوں کی ہر حرکت پر نظر رکھتے تھے اور بچوں سے باز پرس ہوتی تھی۔ اگر بچہ کوئی غلط کام کرکے گھر آتا تھا تو والدین کی جانب سے اسے ڈانٹ پڑتی تھی اور اس کی اصلاح کا عمل جاری رہتا تھا۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کی بہت ساری خوبیوں میں سے سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ بچوں کی تربیت نہایت احسن انداز میں ہوتی تھی۔

والدین اگرچہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے مگر اپنے بچوں کی تربیت اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تب شرح خواندگی کم مگر اخلاقی اقدار کا معیار بہت اعلی و ارفع تھا۔ یہ ایک مثالی مشرقی معاشرہ تھا جو ہر لحاظ سے متوازن تھا اور جس میں زندگی کئی پہلوؤں سے بہت آسان تھی۔ مگر وقت نے ترقی اور جدت دے کر اقدار اور تربیت لے لی۔ آج بھائی چارے اور حسنِ اخلاق کی جگہ افراتفری اور مادر پدر آزادی نے لے لی ہے۔

آج ہر سہولت تقریباً ہر گھر میں دستیاب ہے مگر بچوں کو والدین دستیاب نہیں ہیں۔ دراصل ہم پر وہ مقولہ صادق آتا ہے کہ ”کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی بھول گیا۔“ ہم نے مغربی تہذیب کی نقل کرنے کے چکر میں اپنی شاندار روایات و اقدار کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ آج ماں کے پاس تربیت کے لیے تو دور بچوں کے پاس بیٹھنے کا وقت تک نہیں ہے۔ دولت، شہرت اور مقام و مرتبے کے لالچ نے والدین کو ان کے منصب سے بہت نیچے لا کھڑا کیا ہے اور وہ اپنی زیادہ تر ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

بچوں کو کمسنی میں ہی اس قدر آزادی میسر آجاتی ہے کہ جو انہیں مادر پدر آزاد بنا دیتی ہے اور وہ اخلاقیات سے عاری ہو جاتے ہیں۔ اچھا مستقبل بنانے کی دھن میں اچھا انسان بننے کی ذمہ داری کو فراموش کردیا گیا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ دراصل والدین کو اپنے مقام اور ذمہ داریوں کا ادراک ہی نہیں ہے جس نے معاشرے کی بنیادوں پر بہت خطرناک سوال کھڑے کردیے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے مقام کا ادراک کریں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ان کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت احسن انداز سے کریں اور انہیں وقت دیں تاکہ وہ خلا جو بچوں اور والدین کے درمیان پیدا ہوچکا ہے وہ پر ہو سکے۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو موجودہ حالات ایک بے ہنگم اور اقدار سے عاری معاشرے کی نشان دہی کر رہے ہیں جو نہ تو معاشرے کے لیے اچھا ہے اور نہ ہی انسانیت کی بقا کے لیے۔ کیونکہ انسان جتنا بھی ترقی کرجائے، اگر وہ بنیادی انسانی اخلاق و اقدار سے عاری ہے تو اس میں اور ہر وقت پیٹ بھرنے کی کوشش میں لگے جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •