رجلِ رشید کی دعا کرنے والوں کو شیخ رشید مل گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی تاریخ کے بد تمیز، بد تہذیب اور منہ پھٹ سیاستدانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو شیخ رشید کانام سر فہرست ہوگا جو بدزبانی اور دریدہ دہنی میں یکتائے روزگار ہیں۔ حال ہی میں انہیں برطانیہ کے دورے میں اسی گالم گلوچ اور شعلہ نوائی کی وجہ سے چند مہم جوٶں کی طرف سے صاف انڈوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ موصوف کی، جو ایام طالب علمی میں رشید ”بٹ“ کے نام سے متصف تھے (بعد ازاں مشیخت سے مستفید ہوئے)، سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ضمیر کے جھانسے میں آئے بغیر ”وسیع تر ملکی مفاد“ کے لیے ہر روگی اور خاکی جمہوری حکومت میں سینڈ وچ بن جاتے ہیں۔

باقی لوگوں کے منہ میں زبان ہے ان کے منہ میں بد زبان۔ بعض اوقات تو وہ سراپا گالی بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر جب وہ نواز شریف کے خلاف بول رہے ہوں۔ احسان فراموشی اور ضمیر فروشی ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا مگر وقت آنے پرجنرل ضیا سے جنرل مشرف تک سب کے احسانات کو آن کی آن میں بھلا دیا۔ جنرل مشرف کو ”سیدی“ مشرف کہنے والے شیخ صاحب نے طوطا چشمی کی ایسی مثال قائم کی کہ دبئی میں بستر مرگ پر پڑے ایڑیاں رگڑتے اپنے سابقہ مربی کی رسمی خیریت بھی نہیں پوچھی۔

شیخ صاحب نے ساری زندگی مجرد گزار دی۔ کسی نے شادی نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو برملا کہہ دیا کہ ”جب خالص دودھ دستیاب ہو تو بھینس رکھنے کا تکلف کون کرے؟“ شیخ صاحب نے شادی اس لیے بھی نہیں کی کہ سنا ہے بی اے کے امتحانات میں بری طرح فیل ہونے کے بعد وہ اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ خود کشی کی ٹھانی۔ کسی ہمدرد نے مشورہ دیا کہ خود کشی نہ کریں، شادی کر لیں۔ شیخ صاحب نے شادی کی نہ خودکشی کیونکہ ان میں دونوں کا حوصلہ نہ تھا۔

شیخ صاحب گفتار کے غازی تو ہیں، مجاہدانہ ولولوں سے بھی لیس ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ ایک مدت تک امریکہ سے آنے والے ڈالرز سے ٹریننگ کیمپ چلاتے رہے۔ جذبہ جہاد اورشوق شہادت سے سرشار ہیں۔ کئی بار کشمیر میں جا کر جام شہادت نوش کرنے کی آرزو کا اظہار کر چکے ہیں۔ آج کل جگہ جگہ مودی کو للکار رہے ہیں۔ شوق شہادت کا جذبہ ایک بار پھر بامِ عروج پر ہے، مگر اس میں خطرہ انہیں یہ نظر آتا ہے کہ ظالم جان سے مار دیتے ہیں۔

دفاع پاکستان کونسل اور شیخ صاحب لازم و ملزوم ہیں۔ ایک مدت تک اپنے محب وطن اورملت کا درد رکھنے والے ہم نواٶں سے مل کر دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ پر کار بند رہے مگر ملک میں تبدیلی کی ہوا چلنے کے بعد جب دفاع پاکستان کا اثاثہ تبدیلی کے زد میں آیا تو شیخ صاحب نے بھی یہ کہہ کر اس سے دامن چھڑا لیا کہ، جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

سنا ہے اس دفاع کونسل کی ویب سائٹ آج کل ان اخلاق باختہ اور بگڑے ہوئے نوجوانوں کے تصرف میں ہے جن کی زندگی کا مقصد اولیٰ ہی یہ ہے کہ طاٶس و رباب اول، طاٶس و رباب آخر۔

مجھ سمیت شیخ صاحب کے مداحوں کو اس وقت بہت حیرت ہوئی تھی جب انہوں نے فرمایا تھا کہ ”پاک آرمی کے شاہین صفت سپاہی اور افسران ٹی وی چینلز پر ان کے انٹرویوز کا مضطربانہ انتظار کرتے رہتے ہیں بلکہ پوچھتے رہتے ہیں کہ میں کس دن، کون سے چینل پر محفل جماٶں گا؟“ ان کے اس انکشاف سے ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے کہ ہمارے سپاہییانہ جوہر دکھانے والوں کا ذوق سماعت کس قدر پختہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں انہیں دورہٕ لندن کے دوران کچھ لوگوں نے صاف انڈے سر اور چہرے پر مار کر شیخ صاحب سے اپنی دیرینہ محبت اور انسیت کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے سے قبل وہ، ہر وہ ڈش بڑے شوق سے کھاتے تھے جس میں انڈے شامل ہوں۔ مثلاًآلو انڈہ، آملیٹ، انڈہ کری، انڈے کی بھجیا وغیرہ۔ مگر لندن والے واقعے کے بعد بہرے نے جب ان سے آملیٹ کا پوچھا توانہوں نے غصے سے کہا کہ ”اوئے پراں مر۔“

ویسے تو شیخ صاحب رنگین اور نمکین طبیعت کے مالک ہیں اور تقریباً اس سے پہلے تمام حکومتوں کے سربراہوں نے ان کے ذوق نظر اور عاشقانہ مزاج کو دیکھتے ہوئے انہیں وزارت اطلاعات یا کلچر کی وزارت سے نوازا ہے مگر کپتان نے اس بار ریلوے کی وزارت ان کے سر تھوپ کر ان سے بڑی زیادتی کی ہے۔ ان کی وزارت کے ماتحت ریل تو نہ چلی البتہ ان کی پریس کانفرنس خوب چل رہی ہے۔

سگار شیخ صاحب کا ٹریڈ مارک ہے۔ سگار ان کی جلوت اور خلوت کا ساتھی ہے۔ جب لے میں آتے ہیں تو درآمدی سگار کا لمبا کش لگا کر، دھویں کے مرغولے فضا میں چھوڑتے ہوئے زبردست قسم کی غلط عسکری مخبریاں اور سیاسی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ ان کی کوئی پیش گوئی آج تک درست ثابت نہیں ہوئی سوائے اس پیش گوئی کہ جب انہوں نے جمعرات والے روز کہا تھا کہ ”کل ضرور جمعہ ہو گا۔“ آج کل ترنگ میں آکر تواتر سے ایک پیش گوئی فرما رہے ہیں کہ ”مسئلہ کشمیر کا فیصلہ دورِ عمرانی ہی میں ہو گا۔“

ہم پاکستانی بھی بہت بد نصیب واقع ہوئے ہیں۔ رجلِ رشید کی جستجو کرتے ہیں تو شیخ رشید ملتے ہیں۔ نئے معاہدہٕ عمرانی کا تقاضا کرتے ہیں تو عہد عمرانی ملتا ہے۔ میر کارواں کی تمنا کرتے ہیں تو میر صادق و میر جعفر ملتے ہیں۔ علما و شیوخ کی خواہش کرتے ہیں تو شیخ چلی ہاتھ آتے ہیں۔ جینوئن ملاٶں کی آرزو کرتے ہیں تو ملا عمر، ملا دو پیازے، ملا نصرالدین اور کٹھ ملا تھما دیے جاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ہماری سیاست سے شیخ رشید جیسے کرداروں کا تماشا کب تک چلتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •