مسلم امہ کشمیر اور ہماری کج فہمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وزیر اعظم عمران خان نے ٹی وی پر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’کشمیر کی آزادی کا موقع آگیا ہے، دنیا ساتھ دے یا نہ دے ہم کشمیر کے مسئلے پر آخری حد تک جائیں گے۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا ہم نے اس ایشو پر فوری طور پر دنیا سے بات کی، میں دنیا میں اب کشمیر کا سفیر بنوں گا اور اقوام متحدہ میں 27 ستمبر کو اس معاملے کو اٹھاؤں گا، کشمیر کے ساتھ دنیا کھڑی ہو یا نہ کھڑی ہو لیکن پاکستانی قوم کھڑی ہوگی، قوم کو بالکل مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بعض مسلمان حکومتیں تجارت اور کسی اور وجہ سے اس مسئلہ پر خاموش ہیں، آج نہیں تو کل وہ بھی اس مسئلہ پر ہمارے ساتھ ہوں گی،کیا بڑے بڑے ملک صرف اپنی مارکیٹس کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے‘‘۔

وزیر اعظم نے جو خطاب کیا ہے اس میں سربراہ حکومت کا یہ کہنا مناسب نہیں کہ ساری دنیا ہمارے خلاف ہے۔دوسرا یہ کہ عمران خان صاحب مختلف ملکوں کے سربراہوں کو فون کر رہے ہیں اس کا کوئی فائدہ بھی ہوا یا نہیں؟۔ پاکستان میںاس بات پر خاصی لے دے ہو رہی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے کشمیریوں کے قاتل نریندر مودی کو عین اس وقت جب گزشتہ تین ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کی سنگینوں تلے عملی طور پر کرفیو میں ہے بڑے طمطراق کے ساتھ امارات کے اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ ’’آرڈر آف زاید‘‘سے نوازا ہے جو ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید النیہان نے اپنے دست مبارک سے پیش کیا۔

ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جو اتوار کو پاکستان میں موجودگی کے دوران اپنے سیاسی حلقے کا دورہ ضرور کرتے ہیں ،اس پر خانیوال میں دعویٰ کیا کہ ہمیں اس بات سے نہیں گھبرانا چاہیے،متحدہ عرب امارات پاکستان کا ہمدرد اور کشمیر پر ہمارے موقف کا حامی ہے۔ لیکن موصوف نے اسی روز ملتان میں مختلف بات کہی ،ان کے مطابق وہ امارات کے وزیر خارجہ کے سامنے معاملہ اٹھائیں گے،میںانہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور حقائق سے آگاہ کروں گا۔ مجھے توقع ہے کہ پاکستان سے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی حکومت ہمیں مایوس نہیں کرے گی۔ یعنی وزیر خارجہ کا قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی۔

نہ جانے ہمارے عمائدین قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے کیوں قائل ہیں؟۔ زمینی حقائق کچھ ہیں اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بتائے اور جا رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی سے بہتر کسے معلوم ہو گا کہ 5اگست کو جس روز بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کرکے کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے پر مہر تصدیق کی تھی، اس کے اگلے روز ہی متحدہ عرب امارات کے نئی دہلی میں سفیر ڈاکٹر احمد البنانے اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیاتھا۔یقیناً سفیر کا بیان امارات کی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔ میاں نوازشریف کے دور میں تیل کی دولت سے مالا مال یہ ریاست پاکستان سے سخت ناراض تھی۔

اس وقت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ابوظہبی کا دورہ کیا اور وہاں کے حکمران محمد بن زاید النیہان جوپہلے توملاقات سے ہی انکاری تھے ملاقات پر آمادہ ہوگئے جس کے بعد کسی حد تک برف پگھلی لیکن متحدہ عرب امارات کے بھارت سے گہرے روابط ہیں۔ خلیجی ممالک سے بھارت کی سالانہ تجارت قریباً سو ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں امارات کے تیل کا تیسرا بڑا گاہک بھارت ہے، اس پر مستزادیہ کہ پاکستان سے دس لاکھ کے مقابلے میں تقریباًپچیس لاکھ بھارتی امارات میں کام کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے توانھوں نے درست کہا تھا کہ وہ قرضے لینے کے بجا ئے خود کشی کر لیں گے لیکن جب انھوں نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان قریباً قلاش تھا پھر اسی وزیراعظم کو کشکول لے کر ملک ملک پھرنا پڑا۔

متحدہ عرب امارات نے بھی ہمیںتین ارب ڈالر سے نوازا۔غالباً اس کی قیادت کے نزدیک انھوں نے اپنے اسلامی بھائی کی مدد کر کے گویا ہماری قیمت ادا کر دی۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جو عملی طور پر وہاں حکمران بھی ہیں جب پاکستان آئے تو خان صاحب نے ریڈ کارپٹ بچھانے کے علاوہ ان کوائیرپورٹ سے لانے والی گاڑی خو دڈرائیو کی تھی۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا۔انھوں نے بھی ہمیں دوارب ڈالر سے نواز اور تین ارب ڈالر کا ادھار تیل بھی دے دیا۔ان اسلامی بھائیوں کی بڑی مہربانی تھی جو مشکل وقت میں ہماری مدد کوآئے اور یقینا یہ خان صاحب کی کامیابی تھی کہ انھوں نے میاں نواز شریف کے دور کا جمود توڑا۔ لیکن اگر کسی کے ذہن میں یہ کج فہمی تھی کہ کشمیر کے معاملے میں سعودی عرب بھارت کو سخت سست کہے گا وہ جلد ہی دور ہو گئی۔

سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکونے بھارتی صنعت کار ریلائنس گروپ کے سربراہ مکیش امبانی سے پہلے سے طے شدہ ستر ارب ڈالر سرمایہ کا ری کامعاہدہ منسوخ نہیں کیا اوروہ کیونکر ایسا کرتی۔ ہر ملک اپنے اقتصادی اور سیاسی مفادات کو پہلے مدنظر رکھتا ہے اور سعودی عرب نے بھی ایسا ہی کیا۔ پاکستان خود بھی ایسا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم نے 41 ملکوں پر مشتمل اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی کے لیے سابق آرمی چیف جنر ل راحیل شریف کو مستعاردے دیا۔لیکن غالباً ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے یمن کی جنگ میں برملا اس کا ساتھ دینے سے احتیاط برتی۔

یہ الگ بات ہے کہ سعودی عرب کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار پاکستانی فوجی متعین ہیں۔ مودی کو خوش کرنے کے لیے بحرین نے بھی جو سعودی عرب کا حلقہ بگوش ہے، اعلیٰ ترین اعزاز ’’کنگ حماد آرڈر آف نشاۃ ثانیہ‘‘سے نوازا۔ اگر ہماری اشرا فیہ اور عوام ان اسلامی ممالک سے ضرورت سے زیادہ توقعات رکھتے تھے تواس میں ان کاکیا قصور؟۔ دراصل پاکستانی قوم اور لیڈر شپ بھی تحریک آزادی سے بہت پہلے سے لے کر اب تک پین اسلام ازم پر یقین رکھتی ہے۔

شاید اسی بنا پر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پا سبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لیکرتابخاک کا شغر ایک آئیڈیل اسلامی دنیا میں شاید ایسا ہی ہو لیکن عملی طور پرزمینی حقائق قدرے مختلف ہیں، اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے ممالک بھی آپس میں کئی نظریاتی، مذہبی، سیاسی اور فروعی اختلافات رکھتے ہیں۔ عرب وعجم کے اختلافات سے کون واقف نہیں۔ بعض عرب ممالک کھلم کھلا عرب وعجم کی لڑائی میں ایک اسلامی بھائی ایران کے بجائے اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔ عرب آمریتیں اور بادشاہتیں بھی ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار رہی ہیں۔مثلاً قطر سعودی عرب کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

قریباً ایک دہائی قبل بعض عرب ممالک میں جمہوریت کے حامی عوام نے باقاعدہ جدوجہد کے لیے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ،اسے ’عرب بہار‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان ممالک میں لیبیا، مصر ،یمن اورشام شامل تھے۔ بحرین ،عراق، الجزائر ،لبنان ،اردن،کویت، عمان اور سوڈان میں بھی چھوٹے موٹے کچھ مظاہرے ہوئے لیکن جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کی اس جدوجہد کا کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیںہوا۔ آج بھی عرب عوام آمریتوں کے تلے پس رہے ہیں، قریباً ان تمام ممالک کے نزدیک عرب پہلے اور اسلامی دنیا بعد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے پچھواڑے میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل جو ظلم وستم روا رکھ رہا ہے اس پران کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔

حماص اور حزب اللہ ایران کی حمایت سے فلسطین کی آزادی کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ عرب ممالک میں جمہوریت کی آندھی چل پڑے تو بہت سی آمریتیں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گی۔ جب امریکی صدر ٹرمپ نے دیدہ دلیری سے اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا تو کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس پس منظر میں ہماری لیڈر شپ کو حقیقت پسند انہ پالیسیاں اپنانا چاہئیں۔

یقینا اچھی سفارتکاری کا یہی تقاضا ہے کہ ہم تمام ممالک کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انیگیج رکھیں، اس فیصلے میں قومی مفاد اولین شرط ہے لیکن ہمارے وزیر خارجہ کشمیر کیلئے کوئی عملی ڈپلومیٹک سعی کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ پر ہی گزارا کر رہے ہیں۔شاہ محمود قریشی اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام نے اس ضمن میں کم از کم اہم دارالحکومتوں کا دورہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •