ہالی ووڈ سٹار راک ہڈسن کی زندگی کے چند خفیہ پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راک ہڈسن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہالی ووڈ کا ایک کامیاب ترین فلم سٹار تھا۔ وہ ایک وجہیہ، خوبصورت، ہینڈسم اور لاکھوں دلوں میں بسنے والا فلمی ہیرو تھا۔ پچاس کی دہائی میں اس کی فلموں نے ہالی ووڈ اور امریکن باکس آفس پر دھوم مچا رکھی تھی۔ چار دفعہ اس نے گولڈن گلوب ایوارڈ جیتنے کے علاوہ اور بہت سارے ایوارڈ اپنے نام کیے۔ اپنے وقت کی تمام اچھی ہیروئینز کے ساتھ اس نے کام کیا۔ 1985 میں وہ انسٹھ سال کی عمر میں ایڈز جیسے خطرناک اور لاعلاج مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔ اس کی زندگی کا ایک خفیہ پہلو جو اس نے ساری عمر لوگوں سے چھپائے رکھا وہ اس کی موت کے چند ماہ پہلے آشکار ہوا۔ اس کی زندگی کے آخری سال اس کے ایڈز میں مبتلا ہونے اور ہم جنس پرست ہونے کی خبروں سے ہالی ووڈ اورامریکہ میں ایک طوفان آگیا۔

25 جولائی 1985ء یوناؤ کولارٹ نامی معروف فرانسیسسی قانون دان خاتون امریکن ہسپتال کی لابی میں داخل ہوئی جہاں فوٹو گرافرز، اخباری نما ئندوں اور ٹی وی نیوز کا پورا گروپ موجود تھا۔ اس نے جیب سے ایک چھوٹا سا کاغذ نکالا اور اس پر لکھی ایک مختصر تحریر پڑھی ”راک ہڈسن ایڈز جیسی خطرناک مرض میں مبتلا ہے،“ ایڈز ایک سال قبل ہی امریکہ میں جان لیوا اور ناقابل علاج مرض کے طور پر تشخیص ہوا تھا۔ اس اعلان کو سن کر میڈیا میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ اس کے بعد ایک دم شور اٹھا اور سب اکٹھے بولنا شروع ہو گئے۔ گھنٹوں میں یہ خبر سارے امریکہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر ٹی وی سکرین پر یہی بریکنگ نیوز تھی۔ اگلے دن امریکہ کے علاوہ ساری دنیاکے اخبارات راک ہڈسن کی تصویروں اور ”راک ہڈسن کو ایڈز ہے“ کی خبر سے بھرے پڑے تھے۔

راک ہڈسن کی کمزور صحت کے بارے میں پچھلے ایک ماہ سے خبریں گردش کر رہی تھیں۔ سال کے شروع میں بہت ہی مقبول ٹی وی سیریل، ڈا ئنیسٹی، میں اس کے چاہنے والے اسے اس حال میں دیکھ کر شدید صدمے کا شکار ہوئے۔ اس کا وجیہہ پن اور خوبصورتی سب ختم ہو گیا تھا اور اس کی جگہ ایک کمزور، ناتواں، دبلا پتلا اور ادھیڑ عمر انسان کھڑا تھا۔

جولائی کے وسط میں راک ہڈسن لاس اینجلس میں واقع اپنے گھر ”دی کیسل“ چھوڑ کر ریاست کیلیفورنیا کے شہر روانہ ہوا۔ جہاں اس نے اپنی ایک بہترین دوست اورساتھی پسندیدہ فلم سٹار ڈورس ڈے کی مشہور ٹی وی سیریز ”ڈورس ڈے کے بہترین دوست“ کی پہلی قسط میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنا تھی۔ اس وقت وہ شدید بیمار تھا لیکن یہ بات وہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔ بلکہ وہ اپنی بیماری اپنے آپ سے بھی چھپا رہا تھا۔

اس پروگرام میں شریک تمام لوگ ایک کمزور، لاغر اور دبلے پتلے راک ہڈسن کو دیکھ کر سخت رنجیدہ ہوئے۔ صحت مند ہڈسن چھ فٹ پانچ انچ کا ایک ہینڈسم اور سمارٹ اداکار تھا جس نے سالوں اپنا وزن ایک سو پانچ کلوبرقرار رکھا تھا۔ لیکن اب وہ ستر کلو کا ایک ناتوان بوڑھا دکھائی دے رہا تھا۔ ڈورس ڈے کے پروگرام میں دونوں نے ساتھ گزارے ماضی کے لمحات کو دوبارہ یاد کیا اور ان کا خوب تذکرہ کیا۔ لیکن پروگرام پھر بھی ذرا دھیما اور آہستہ چلا۔ ڈورس ڈے نے بعد میں بتایا کہ ”میرے لئے یہ ایک حوصلہ شکن اور المناک لمحہ تھا جو کہ میں نے دیکھا لیکن بیان نہیں کیا۔ اس خطرناک صورت حال نے اندر سے میر ا دل توڑ دیا۔“

20 جولائی کو جب تھکا ہارا بیمار راک ہڈسن اپنے گھر دی کیسل پہنچا تو دوسرے دن اس کے پینتیس سال سے دوست اور اسسٹنٹ مارک ملر نے اسے علاج کے لئے پیرس جانے پر آمادہ کر لیا۔ اسے وہاں دنیا کے مشہور پاسچر انسٹیٹیوٹ میں علاج کروانا تھا۔ اس سے ایک سال قبل اسی انسٹیٹیوٹ میں ڈاکٹر ڈومنیق ڈورمونٹ سے چیک اپ کروایا گیا تھا۔ اسے کا تجرباتی بنیادوں پر ایڈز کے لئے ایچ پی اے 23 میڈیسن سے دو ماہ تک علاج کیا تھا۔ ڈاکٹر نے ہڈسن کو یہ علاج جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

لیکن اس نے علاج ادھورا چھوڑ کر امریکہ واپسی کو ترجیح دی جہاں اکتوبر میں اس نے اپنی ٹی وی سیریل، ڈائنیسٹی، کی فلمبندی میں حصہ لینا تھا۔ آخرکار مارک ملر کا مشورہ مان کر ہڈسن نے پیرس کی فلائٹ لی۔ اس کے ساتھ اس کا ذاتی ٹریینر ’ران چینل‘ بھی تھا جو کہ ہڈسن کی بیماری سے قطعی لا علم تھا۔ 21 جولائی کو جب وہ پیرس کے رٹز ہوٹل میں پہنچا تو لابی میں ہی بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ ڈاکٹر ڈومنیق ڈورمونٹ اس وقت پیرس سے باہر تھا۔

چینل نے لاس اینجلس میں راک ملر سے رابطہ کیا۔ ہڈسن کرفوراً امریکن ہسپتال میں داخل کرا دیا جہاں ہسپتال والوں کو ہڈسن کی صرف دل کی بیماری کا ہی پتہ تھا۔ ڈاکٹروں نے اس کا علاج دل کے مریض کے طور پر شروع کیا اور اسے کارڈیالوجی وارڈ میں شفٹ کر دیا۔ مارک ملر فوراً پیرس پہنچا اور ہسپتال کا رخ کیا۔ ٹیسٹوں نے ہڈسن کی ایڈز کی بیماری کا سچ اگل دیا جس سے ہسپتال کی انتظامیہ پریشان ہو گئی کیونکہ ایڈز کے مریض داخل کرنا ان کے ہسپتال کی پالیسی میں نہیں تھا۔

ہسپتال نے اس کی خراب حالت کے پیش نظر اس کو فوری ڈسچارج نہیں کیا۔ ہسپتال کی انتظامیہ، مارک ملر، ڈاکٹر ڈومنیق ڈورمونٹ اور لاس اینجلس سے آئی وکیل یوناؤ کولارٹ کے درمیان ایک طویل میٹنگ ہوئی۔ وکیل یوناؤ کولارٹ کو اخباری نمائندوں اور میڈیا سے نبٹنے کا ٹاسک ملا جنہوں نے ہسپتال کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔ ہڈسن کا وزن کم ہو کر 57 کلو رہ گیا تھا۔ وہ ایڈز کے علاج کے لئے بہت کمزور تھا۔ آخرکار یہ طے پایا کہ جیسے ہی وہ کچھ صحت مند ہو گا اسے ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔ اور ہڈسن کی بیماری کے بارے میں ہڈسن کی وکیل کی طرف سے ایک اخباری بیان جاری ہو گا۔

وہ ہسپتال کے پرائیویٹ کمرے میں آنے والے طوفان سے بے خبر موت کا انتظار کر رہا تھا۔ پینتیس سال کے شاندار فلمی کیرئیراور ہالی ووڈ میں حکومت کرنے والا ہڈسن اپنی ہم جنس شخصیت کو زمانے سے ساری عمر چھپاتا رہا تھا لیکن اب وہ تھک چکا تھا۔ کولارٹ نے ان تمام حقائق پر مبنی ایک پریس ریلیز ہڈسن کو پڑھ کر سنائی تو اس نے کہا کہ ”جاؤ اور ان کتوں کو دے دو۔“ راک ہڈسن دنیا کا پہلا سلیبرٹی تھا جس نے ایڈز جیسی مہلک اور لاعلاج مرض میں مبتلا ہونے کا اقرار کیا۔

میڈیا کو تو سرخیاں لگانے کا موقع مل گیا ”ہم جنس پرست فلمی ہیرو ایڈز میں مبتلا“ اور ”ایڈز کا اگلا شکار کون ہو گا؟“ جیسی سرخیوں سے اخبار اور ٹی وی بھرے پڑے تھے۔ ایڈز کی روک تھام کے لئے حکومتی سطع پر کوششوں کا آغاز ہوا۔ امریکہ کی ہم جنس پرست کمیونٹی کے لیے، جن کی ایڈز کی روک تھام کی مہم کو کوئی خاص پزیرائی نہیں ملی تھی، راک ہڈسن کا کیس ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے ایک ہم جنس پرست پسند اخبار کے ایڈیٹر، برائن جونز نے تلخی سے یہ سرخی لگائی ”گزشتہ رات تک بہت زیادہ امریکن ایڈز کے بارے میں نہیں جانتے تھے لیکن اب جان گئے ہیں۔“

ہسپتال کے بیڈ پر پڑے راک ہڈسن نے اپنے تین دہائیوں سے دوست مارک ملر سے معافی مانگی اور کہا کہ ”میں تم سے بہت شرمندہ ہوں کہ تمہارے لئے بہت گند چھوڑ کر جا رہا ہوں۔“ وہ اپنی سٹیٹمنٹ پبلک ہونے پر حیران رہ گئے کیونکہ اس کا رد عمل ان کی توقع کے برعکس آیا تھا۔ اس وقت کے امریکن صدر رونالڈ ریگن اورہڈسن کی دیرینہ دوست اور ساتھی فلمی ہیروئین الزبتھ ٹیلر کے فون آ ئے۔ فرینک سناترا، مارلن ڈیٹریچ اور میڈونا کے ٹیلیگرام آئے۔

ہسپتال میں ہڈسن کے چاہنے والوں کی طرف سے پھولوں، کارڈز اور خطوں کا ایک سیلاب آ گیا۔ تیس ہزار سے زیادہ پھولوں کے گلدستے اور کارڈ لوگوں نے ہسپتال بھیجے۔ لیکن یہ ہمدردی ہڈسن کے کام نہیں آئی اور تیس جولائی کو ڈاکٹروں نے اسے جواب دے دیا۔ اسے ایک پرائیوٹ چارٹرڈ بوئینگ 747 میں پیرس سے لاس اینجلس منتقل کر دیا گیا۔ لاس اینجلس میں اداس لوگوں کے ایک گروپ نے اس کا استقبال کیا اور ایک ہیلی کاپٹر میں اسے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے میڈیکل سینٹر میں لے جایا گیا۔ جہا ں ہڈسن 24 اگست تک رہا۔

اس دوران دنیا بھر سے خطوط کا ایک سیلاب جاری رہا۔ ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈ متعین کیے گئے جو اخباری نمائندوں اور اس کے چاہنے والوں کو ہسپتال آنے سے روک سکیں۔ مارک ملر اور الزبتھ ٹیلر نے اکٹھے بیٹھ کر ہڈسن کے قریبی دوستوں کی ایک لسٹ تیار کی جو اسے مل سکتے تھے، حالانکہ اسے کسی کے بھی آنے جانے کی خبر نہیں تھی۔ بالآخر اسے زندگی کے آخری دن اپنے گھر میں گزارنے کے لئے ہسپتال سے ”دی کیسل“ منتقل کر دیا گیا۔

ٹام کلارک جو دس سال تک دی کیسل میں ہڈسن کے ساتھ رہنے کے بعد 1983 میں اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا، واپس لوٹ آیا اور آخر تک وہیں مقیم رہا۔ الزبتھ ٹیلر باقاعدگی سے اس کی بیمارپرسی کے لئے آتی رہی۔ جب تک وہ یہاں رہتی بہت خوش خوش رہتی لیکن یہاں سے نکلتے ہی وہ اس بات پر اداس ہو جاتی کہ اس کا ایک بہترین دوست ایڈز جیسی جان لیوا مرض میں مبتلاکر موت کے منہ میں جا رہا ہے۔ میک ڈوول، کیرول برنیٹ، فلمساز راس ہنٹر اور کامیڈین مارتھا رائے اس کی آخری بیمار پرسی کرنے والوں میں شامل تھے۔

ایک کیتھولک پادری فادر ٹم سوینی بھی اکثر اس کو دیکھنے آتے تھے۔ ایڈز کا مرض سامنے آنے پر ہڈسن کی اس سے لڑائی اچانک ہی گلیمرس ہو گئی۔ ستمبر کے آخر میں الزبتھ ٹیلر کی کوششوں سے ایڈز کی بیماری کی روک تھام کے لئے فنڈ اکٹھا کرنے کے لئے ایک چیرٹی ڈنر کا انعقاد ہوا جس میں ہالی ووڈ کے تمام فلمی ستارے شریک ہوئے۔

2 اکتوبر 1985ء کو اپنی سالگرہ سے چند ہفتے پہلے ہڈسن آنجہا نی ہو گیا۔ موت کے وقت وہ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا تھا جس کا وزن چوالیس کلو سے بھی کم تھا۔ فلم ساز اور ڈائریکٹر راس ہنٹر آنسو بہاتا اس وقت دی کیسل پہنچا جب ہڈسن کی نعش کو گاڑی میں رکھ رہے تھے۔ وہ یہ منظر دیکھ کر بے ہوش ہو گیا۔ فوٹوگرافر اس کے فوٹو لینے کے لئے گاڑی میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹام کلارک اور مارک ملر نے اس کی نعش مردہ خانے منتقل کی اورٹام کلارک اس وقت تک وہاں رہا جب تک اس کی نعش کو جلا نہیں دیا گیا۔

اس کی وفات کے چار گھنٹے بعد اس کی راکھ کو ایک والٹ میں بند کر دیا گیا۔ اس کی وفات پر ہالی ووڈ کے فلمی ستاروں، ٹی وی اور دیگر تمام دنیا سے ہزاروں کی تعداد میں تعزیتی پیغامات موصول ہوئے۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن، ہڈسن کی ساتھی ایکٹریس الزبتھ ٹیلر، ڈورس ڈے اورلنڈا ایونز کی طرف سے خصوصی پیغامات آئے۔

دو ہفتے بعد ایک مہنگی کشتی ”تاسیہ دوم“ میں ہڈسن کی راکھ کو شمالی کیلیفورنیا میں واقع کیٹلینیہ چینل لایا گیاجہاں ٹام کلارک نے اس کی راکھ کو سمندر کی لہروں میں بکھیر دیا۔ ساتھ آئے ہڈسن کے دوستوں نے یہاں اس کے لئے پھول لہروں کی نذر کیے۔ یوں اس کی زندگی کا ایک باب اختتام کو پہنچ گیا۔ لیکن یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ راک ہڈسن کی وفات کے چند ہفتوں بعد اس کے ایک ہم جنس پرست سابق ساتھی نے اس کی اور مارک ملر کی جائیداد میں حصہ کے حصول کے لئے مقدمہ دائر کر دیا جس کی سماعت اگلے چار سال جاری رہی جس سے راک ہڈسن کی ہم جنس پرستی اور زندگی کے خفیہ راز سب پر آشکار ہو گئے۔

اس مضمون کی تیاری میں 1991 میں چھپی کتاب ”سکینڈل“ سے استفادہ کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •