ہالینڈ کی ترقی کا راز: با اختیار بلدیاتی حکومتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر احباب ہالینڈ کی ترقی کا راز دریافت کرتے ہیں۔ ہالینڈ ہی کیا، یورپ کے اکثر ممالک کی ترقی کے رازوں میں سے اک اہم ترین راز بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ہالینڈ کے شہری پانچ قسم کے عام انتخابات میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے انتخابات، صوبائی اسمبلی کے انتخابات، پانی کے معاملات کی اسمبلی کے انتخابات، یورپی یونین کے انتخابات اور بلدیاتی انتخابات۔

مندرجہ بالا انتخابات متناسب نمائندگی کے اصولوں پر ہوتے ہیں اور مختلف سیاسی پارٹیاں اپنی جیت کے حساب سے مشترکہ طور پر بلدیاتی حکومت بنا کر ڈپٹی مئیرز کو مقرر کرتی ہیں۔ ان ڈپٹی مئیرز کے اختیارات پاکستان کے صوبائی وزراء کے برابر ہوتے ہیں، ہالینڈ میں صوبائی وزراء کا کوئی تصور نہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا باقی تمام انتخابات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہالینڈ جیسے چھوٹے سے ملک میں بارہ صوبے اور چار سو کے قریب بلدیاتی حکومتیں ہیں۔

یہ بلدیاتی حکومتیں پولیس، امن عامہ، شہری و دیہی پلاننگ، گھروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی، ماحولیات، فراہمی و نکاسی آب، کچرا اٹھانا اور اس اس کی ری سائیکلنگ کی منصوبہ بندی، مقامی معیشت کی ترقی کی منصوبہ بندی، پرائمری و سکینڈری تعلیم کی ذمہ داری، صحت، سوشل سیکوریٹی، ملک میں نئے آکر بسنے والوں کی معاشرے میں ضم ہونے کی سہولیات، سیاحت، ثقافت اور تفریحات کی ترویج، نوجوانوں کی دیکھ بھال، رجسٹریشن اور مقامی ٹیکسوں کی وصولی کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔

صوبائی حکومتیں، توانائی، بڑی شاہراہوں، ماحولیات کی پالیسی، جنگلات وغیرہ اور صوبائی قوانین کے ذریع بلدیات کی رہنمائی کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ صوبوں کو قانونی راہنمائی مرکزی حکومت اور مرکزی حکومت کو یورپین پارلیمنٹ رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ بڑے شہروں کی بلدیات میں بین الاقوامی تعلقات کا بھی شعبہ ہوتا ہے جس کے ذریعے بلدیاتی حکومتیں دوسرے ممالک کی بلدیاتی حکومتوں سے براہ راست تعاون کے تعلقات قائم کرسکتی ہیں۔

ہالینڈ میں بلدیاتی نظام اور بلدیاتی قانون سازی کا عمل 1798 میں شروع ہوچکا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب ہمارا برصغیر مغل بادشاہت کے چنگل سے نکل کر برطانوی نوآبادیات کے چنگل میں پھنس رہا تھا۔ ہالینڈ میں بلدیاتی حکومت کا سربراہ مئیر کہلاتا ہے جو بادشاہ کی طرف سے اک غیر جانبدار شخص کے طور پر نامزد ہوتا ہے۔ پولیس عام طور پر مئیر کے ہی زیر نگرانی ہوتی ہے تاکہ شہر اور مرکزی حکومت میں اختلاف نہ ہوپائے۔ ہالینڈ کا کوئی بھی شہری کسی بھی شہر کا مئیر نامزد ہونے کے لئے درخواست دے سکتا ہے۔ بادشاہ کے ماتحت قائم ایک کمیشن مئیر نامزد ہونے کے امیدواروں کی قابلیت، صلاحیت اور ان کے کردار کو مدنظر رکھ کر انُ کے نامزد ہونے کی سفارش کرتا ہے۔

بلدیاتی حکومتیں اپنے محصولات کا اوسطاً 33 فیصد خود رکھ سکتی ہیں جبکہ باقی محصولات صوبائی اور مرکزی حکومت کو منتقل ہوتے ہیں، لیکن مرکزی اور صوبائی حکومتیں وسائل دوبارہ بلدیاتی حکومتوں کو لوٹاتی ہیں اس عمل میں کم محصولات والی بلدیاتی حکومتیں بھی تعمیر و ترقی میں اپنا معیار قائم رکھ پاتی ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے وسائل کے علاوہ بلدیاتی حکومتیں یورپین یونین سے بھی فنڈ حاصل کرتی ہیں۔ ڈچ بلدیاتی حکومتوں کا سالانہ بجٹ 57 بلین یور یعنی دس ہزار دو سو ساٹھ ارب روپوں کے قریب ہوتا ہے۔

یہ بلدیاتی نظام کا ہی کرشمہ ہے کہ عام ڈچ شہریوں کو صوبائی انتظامیہ کے سربراہ کا نام تک نہیں معلوم ہوتا ہے جبکہ شہروں کے مئیرز کے نام سب کو معلوم ہوتے ہیں۔ آرمی چیف اور افواج کے افسران بھی گمُ نام ہی ہوتے ہیں۔ ہالینڈ کا بلدیاتی نظام اتنا مستحکم ہے کہ کوئی بھی حکمران کسی بھی بلدیاتی حکومت کو توڑنے کا تصور نہیں کرسکتا۔ جب ہٹلر نے ہالینڈ پر قبضہ کیا تھا تو اس نے بھی بلدیاتی حکومتیں نہیں توڑی تھیں۔ انہی بلدیاتی حکومتوں نے جبر کے اس دور میں شہروں اور دیہاتوں کا نظم و نسق قائم رکھا تھا۔ آخر میں مجھے یہ رائے قائم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ایک مکمل با اختیار بلدیاتی نظام پاکستان کو صوبائیت کے عفریت سے بچاتے ہوئے ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔
( اس مضمون کو لکھنے میں ڈچ بلدیاتی حکومتوں کی فیڈریشن کی سالانہ رپورٹ سے مدد لی گئی ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •