تاریخ میں اس بات کا حتمی سراغ پانا مشکل ہے کہ طاقتور انسان کے کمزور انسان پر قابو پانے کی روایت کتنی قدیم ہے۔ شاید یہ ایک حیوانی جبلت ہے جو انسان میں روز ازل سے موجود ہے۔ اکثر علما نے طاقتور کے کمزور پر غالب آنے کے عمل کو سامراجیت (Imperialism) کی اصطلاح سے متعارف کروایا ہے۔ بادشاہت، شہنشاہیت، ریاستیں اور مذہبی اشرافیہ بھی کمزور پر طاقتور کے غالب آنے کی مثالیں ہیں۔ نوآبادیات (Colonialism) کی اصطلاح بھی سامراجیت کی طرح زیر دست پر زبردست کی بالا دستی کی تشریح کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
سامراجیت اور نوآبادیات بہت سی خصوصیات کی بنا پر ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کا تعلق مقبوضہ علاقوں یا مقبوضہ اقوام کے سیاسی، معاشی اور مذہبی معاملات سے ہے۔ نوآبادیات کی اصطلاح لاطینی لفظ کو لونس (Colonus) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب مویشی پالنے والے یا کاشت کاری کرنے والے کسان ہیں۔ اس لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسان اپنے مویشیوں سمیت جب کسی نئے علاقے میں وارد ہوں تو وہاں کے مقامی باشندوں کی مدد، تعاون اور اتحاد (اکثر اوقات طاقت کے بل پر ) کے ذریعے معیشت کی بڑھوتی پر توجہ دیں جو ان کے آبائی علاقے کی معیشت کو استحکام عطا کرسکے۔
Read more