پاکستان کے نئے نویلے ملحد ”روشن فکر“ دانشوروں کی خدمت میں چند گزارشات

یہ بات شک سے بالاتر ہے کہ سائبر اسپیس نے نئے لکھنے والوں کو اپنا نکتہء نظر قارئین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایڈیٹر و مدیران کے عمل دخل کے بغیر سوشل میڈیا پر شائع ہونی والی تحریروں کا اک منفی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اس منفی جہت کی وجوہات میں…

Read more

مراکشی جنگلی درخت اورحسن و جمال سے وابستہ دیہی معیشت

آرگن کے جنگلی درخت اب مراکشی دیہی معیشت کے لئے سونے کی کان ثابت ہونے لگے ہیں۔ آرگن ایک کیکر کی طرح کا ایک کانٹے دار درخت ہے جو ایسے صحرائی علاقوں کے لئے موزوں ہے جہاں سردیوں میں سردی ہوتی ہو اور گرمیوں میں سخت گرمی۔ مراکشی ثقافت میں اس درخت کے پھل کے…

Read more

ہالینڈ کی ترقی کا راز: با اختیار بلدیاتی حکومتیں

اکثر احباب ہالینڈ کی ترقی کا راز دریافت کرتے ہیں۔ ہالینڈ ہی کیا، یورپ کے اکثر ممالک کی ترقی کے رازوں میں سے اک اہم ترین راز بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ ہالینڈ کے شہری پانچ قسم کے عام انتخابات میں براہ راست حصہ لیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے انتخابات، صوبائی اسمبلی کے انتخابات، پانی کے معاملات کی اسمبلی کے انتخابات، یورپی یونین کے انتخابات اور بلدیاتی انتخابات۔

Read more

افغانستان میں خچر اور مراکش میں خچر

افغانستان میں ستر کی دہائی میں بڑھتے ہوئے سوویت اثر و رسوخ نے آخرکار امریکہ کو بھی اس میدان میں سوویت یونین کے مدمقابل لاکھڑا کیا تھا۔ امریکہ اور پاکستان اس جنگ میں اسٹریٹیجک پارٹنرز تھے۔ جیسے جیسے جنگ اور مزاحمت افغانستان کے اندرونی علاقوں میں پھیل رہی تھی ویسے ویسے دشوار گزار پہاڑی علاقوں…

Read more

مراکشی اشرافیہ کی دس ہزار سے زیادہ متروکہ حویلیاں

نوآبادیات اور اسُ کی نفسیات کا مطالعہ اک دلچسپ مضمون ہے۔ مراکش کی حالیہ سیاحت اور وہاں کے علماء سے گفتگو نے مراکش کے دور نوآبادیات کے نئے زاویوں سے آگاہ کیا۔ شمالی افریقہ کا علاقہ تیونس، الجزائر اور مراکش اجتماعی طور پر المغرب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں پر رہنے والوں کی…

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے سفری روزنامچے ”ہیلو ہالینڈ“ میں مغالطے

یورپ میں مقیم ایک دوست نے جناب مستنصر حسین تارڑ کے سفری روزنامچے ”ہیلوہالینڈ“ کے صفحات کے کچھ عکس بھیج کر دریافت کیا کہ: ”کیا یہ بات سچ ہے کہ ہالینڈ کے معروف فلم ڈائریکٹرکو ایک پاکستانی نے جذبہ ایمانی کے تحت قتل کردیا تھا؟ “ اس سوال نے مجھے ان کی اس تخلیق کو پڑھنے پر مائل کیا۔ ہالینڈ میں ہمیں اک علم دوست پاکستانی کے کتب خانہ سے مذکورہ سفری ڈائری پڑھنے کو مل گئی۔

آج کل عالمی سطح پر فیک نیوز اور جھوٹی اطلاعات کا مسئلہ سنجیدگی اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ اگر کسی کتاب میں درج بے سر و پا باتوں کی بر وقت اصلاح نہ کی جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ کتاب میں شایع ہوا مواد تاریخ کا حصّہ بن جاتا ہے تو پھر سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سفری ڈائری میں درج تاریخ، ثقافت اور سیاست سے متعلق واقعات عام طور پر فکشن نہیں ہوتے کہ انہیں نظرانداز کر دیا جائے۔ میں ادب کا ناقد نہیں، یہ مضمون مذکورہ کتاب میں ہالینڈ کی بابت درج مغالطوں کی درستی کی نیت سے تحریر کیا ہے۔

Read more