اجی یہ رنگین مومی چاک ہے یا ”وہ“ چیز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تحریر ذی شعور متفکر عاقل بالغ والدین کے لئے ہے، ننھے منے معصوم بچوں کو اس سے دور رکھا جائے تو مناسب ہو گا۔
آج صبح ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ اس میں قوم، ملت، امت اور نئی نسل کا شدید درد رکھنے والے ایک بھائی صاحب نے سب کو خبردار کیا تھا کہ بہت ہی ننھے منے بچوں کو دکھائے جانے والے کارٹون نہایت تشویشناک ہیں اور ہمیں ذرا بھی احساس ہی نہیں کہ ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں کیسی برائی دیے ہوئے ہیں۔ انہیں اس کارٹون کے الفاظ میں تو کئی غلط بات دکھائی نہیں دی مگر اس میں دکھائی جانے والی بوتل کی شکل ان کی رائے میں نہایت ہی بالغانہ اور مردانہ تھی۔

بعض افراد نے انہیں گمراہ کرنے کی کہ یہ بوتل نہیں بلکہ کرئیون (رنگین مومی چاک) ہے اور اس کی شکل ایسی ہی سی ہوتی ہے۔ مگر انہیں وہ نہایت ہی فحش شکل والی بوتل ہی دکھائی دے رہی تھی اور انہوں نے شدید تاسف اور فکر کا اظہار کیا کہ کارٹون بنانے والے بدطینت افراد، معصوم بچوں کے تحت الشعور میں بڑوں والے آلاتِ افزائش نسل نقش کر رہے ہیں۔

ہم اس صیہونی سازش پر پریشان ہوئے اور سیدھے یوٹیوب پر جا کر عینی شاہد کا درجہ پایا۔ یاد رہے کہ ہمارے تحت الشعور، لاشعور اور شعور میں پہلے ہی بہت گند بلا بھرا ہوا ہے اس لئے ہمیں ان کے مزید کرپٹ ہونے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

دیکھا تو ایک بے بی نظموں کا پیج تھا۔ اس فحش نظم کا عنون تھا ”فائیو ان دی بیڈ کرئیونز، کڈز سونگز فار بے بیز“۔ متذکرہ ”مردانہ افزائشی بوتل“ واقعی کرئیون تھی۔ یہ نظم بچوں کو پانچ سے ایک تک الٹی گنتی سکھا رہی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے پانچ گھر سے نکلنے والے چوہے سکھاتے ہیں۔

اب ہم نے ان صاحب کے دماغ سے سوچا تو بہت پریشان ہو گئے۔ یعنی ایسی فحش شکل والی بوتلیں، وہ بھی پانچ، اکٹھی ایک بیڈ میں اور بچوں کے لئے نظم کے نام پر دکھائی جا رہی ہیں۔ ویسے تو یہ مغرب والے بہت شور کرتے ہیں کہ بڑوں کو سب گندی گندی باتیں کرنے کی اجازت دیتے ہیں مگر بچوں کو ان سے محفوظ رکھتے ہیں تو پھر یہ کیوں ہو رہا ہے۔ مزید غور کیا تو ان صاحب کے لئے دل میں مزید ہمدردی ابھری۔ اگر وہ کرئیون دیکھ دیکھ کر یہ سوچ رہے ہوں گے تو اللہ جانے ان بے بیز کا فیڈر دیکھ کر اپنا جیا کتنا جلاتے ہوں گے کہ ان معصوموں کے تحت الشعور میں یہ کیا فیڈ کیا جا رہا ہے۔

بہرحال ہم نے فوراً ان کی حمایت شروع کرتے ہوئے ایک تقریر کی اور امت کی تباہی کے متعلق متفکر والدین کو خبردار کیا۔ ہم نے کہا کہ بچوں کے کارٹونوں پر سب ذی شعور خواتین و حضرات شاہین کی سی نظر رکھیں اور ان کارٹونوں میں کوئی بچہ لالی پاپ یا آئس کریم کھاتا دکھائی دے تو فوراً سمجھ جائیں کہ تحت الشعور میں پیغام رسانی کے ذریعے بچوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ اس کارٹون کے نتیجے میں بالغ ہوتے ہی وہ فسق و فجور اور گمراہیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔

لیکن مغرب کی یہ سازش بہت بڑی ہے۔ بچوں کے لئے ایسے کارٹون تو آپ بند کر دیں گے۔ لیکن ہر گلی محلے کی ہر دکان پر یہ سازش پہنچائی جا چکی ہے۔ بچہ گھر کی قریبی دکان پر دال ماش خریدنے جاتا ہے تو اسے ادھر سب سے پہلے مرتبان میں لالی پاپ پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ساتھ ہی بڑا سا فریزر آئس کریم سے بھرا پڑا ہوتا ہے۔ ان کے تحت الشعور میں اگر یہ دو اشیا دیکھ کر وہی باتیں جم گئیں جو قوم کی گمراہی کا شدید درد دل میں رکھنے والے ذی شعور حضرات کے شعور میں جمی ہوئی ہیں تو پھر کیا ہو گا؟

ہم نے مزید نشاندہی کی کہ یہ سازش بہت بڑی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کو سودے سلف کی دکانوں سے عاقل و بالغ ہونے تک دور بھی رکھا جائے تو کتابوں کاپیوں کی دکان سے کیسے محفوظ رکھیں گے جہاں کرئیون سامنے ہی ڈسپلے کیے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ ”بوتلوں“ کی شکل کے کرئیون تو بچے کو پلے گروپ اور نرسری میں ہی پکڑا دیے جاتے ہیں اور کئی برس وہ انہیں استعمال کرتا ہے۔ اس سازش سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔

ہمارا خیال تو یہ تھا کہ وہ صاحب ہماری حمایت کرتے ہوئے پلے گروپ اور نرسری کے بچوں کے لئے تختی، گاچی اور قلم تجویز کریں گے اور رنگ کرنے کے لئے نہایت محفوظ شکل کے پتھر والے کوئلے (بشرطیکہ چھوٹے ٹکڑے ہوں ) استعمال کرنے کا کہیں گے، مگر نہ جانے کیوں وہ اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر گئے۔ شاید انہیں یقین ہو گیا ہو کہ ہم نہایت احمق ہیں۔ کسی مفکر نے درست ہی کہا تھا کہ اتنی دانائی میں نے احمقوں سے سیکھی ہے۔

بہرحال ان صاحب کا مسئلہ تو غالباً حل ہو گیا ہے لیکن ہم ایک نئی سوچ میں پڑ گئے ہیں۔ اگر وہ کرئیون دیکھ کر یہ سب کچھ سوچتے رہے ہیں تو ونسٹن چرچل کی بالکل کرئیون جیسا ہیٹ پہن کر سگار پیتے ہوئے تصویر دیکھ کر نہ جانے کیا کیا الم غلم سوچتے رہے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1205 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar