الیکشن کمیشن میں ممبران کی تعیناتی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا نوٹس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن میں دو نئے ممبران کی تعنیاتی کے خلاف درخواست پر سماعت کی دوران سماعت چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے اپوزیشن کو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اُٹھانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی بجائے ان معاملات کو عدالت میں کیوں لایا جاتا ہے؟ اس عدالت نے بھی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ بتانا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کمزور ادارہ ہے؟ انھوں نے وکلاء سے پوچھا کہ کیا اپوزیشن نے تعنیاتی کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کی ہے؟

عدالت نے ممبر قومی اسمبلی بیرسٹر محسن شاہنواز رانجھا کو روسٹرم پر بلایا اور پوچھا کیا پارلیمنٹ میں کوئی ایسا فورم نہیں جہاں یہ معاملہ اُٹھایا جا سکے؟ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے ممبران کی تعنیاتی میں اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہیں کی۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عدالت سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی فورم نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ میں ماننے کو تیار نہیں کہ نوٹیفکیشن ہو گیا تو پارلیمنٹ بے بس ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین سیکرٹری صدر پاکستان، پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم، وزارت پارلیمانی امور کو نوٹس جاری دونوں نئے ممبران اور الیکشن کمشن کو بھی نوٹس جاری کیے اور ممبران کو حلف لینے سے فوری روکنے کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا۔
سیکرٹری وزیراعظم اور سیکرٹری صدر سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 80 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui