مسز خان اور مسٹر مودی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”شوہر جب گھر آئے تو توا چڑھا ہونا چاہیے، اس کے کپڑے پڑے ہونے چاہیں، ہر چیز موجود ہونی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔“ اچانک سوشل میڈیا پر اس آواز نے چونکا دیا۔ اوہ مسز خان ایک بار پھر اپنا چورن بیچنے میں کامیاب ہو گئیں۔ مسکراہٹ نے لبوں کو کھینچ کر کچھ مزید پھیلا دیا اور آنکھیں بند کر کے ذرا تصور کیا کہ اگر اگلی بار ان کے شوہر کا انٹرویو کیا جائے (مگر ان کی عدم موجودگی میں ) تو تصویر کا اصل رخ دیکھنے کو ملے گا۔

ایسا ہی چورن ہمارے عرب شہزادے بھی بیچ رہے ہیں آج کل۔ وہ ایک محاورہ ہے نہ ’سجی دیکھا کر کبھی مارنا۔‘ بالکل ایسا ہی کر رہے ہمارے عرب اپنے اربوں کے زعم میں۔

اسلام کے نزول کی بات ہوتی تھی تو بچپن میں یہ سو ال ذہن میں آتا تھا کہ عرب کی زمین کا انتخاب ہی کیوں کیا اللہ نے؟ تب ابا کہا کرتے تھے ”کیو نکہ عرب سب سے سخت دل قوم ہوا کرتی تھی اس لیے“ اور شاید آج بھی ہے۔ ہم بھی مسز خان کے خو ابوں کی وہی لڑکی بن کر رہ گئے ہیں جو شوہر کی تابعداری میں زبان پر خاموشی کا قفل لگائے اس خوش فہمی میں خدمت کرتی رہے کہ شوہر اپنا ہی ہے۔ اسی سے محبت کرتا ہے، کچھ کہے یا نہ کہے۔

اب شوہر نے ایسی پلٹی کھائی کہ چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کہیے مسز خان اب طلاق جائز ہو گی یا نہیں؟

کشمیریوں کی بہتر سال کی جدوجہد اور آج بھارتی مودی کا خون کی ہولی کھیلنے کا پروانہ، ہم فلسطین میں جاری مظالم پر بھی ایمان کے سب سے کمزور زینے پر کھڑے رہے، چلیے مان لیتے ہیں حکومت کی اپنی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ بالکل مسز خان کے بتا ئے ہوئے معصوم شوہر کی طرح۔

کشمیر کو تو ہم اپنی جنت کہتے رہے اور دعوی یہ رہا کہ ’جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی۔‘ اب یا تو ہم کافر ٹھہرے یا پھر جنت کے حق دار۔ فیصلہ تو اب بھی ہمارے اختیار ہی میں ہے۔ ظلم کے خلاف آوا ز بلند کرنا ہی آپ کو ظالم سے بچا سکتا ہے۔

دوبئی اور بحرین کے حکمرانوں کی طرف سے مو دی کو دیا گیا اعلی سول ایوارڈ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مسز خان کے خوابوں والا شوہر اپنی فرمانبردار خاندانی بیوی کی خاموشی اور وفاداری کے باوجود اس کا نہیں رہا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ رشتہ بچانا اہم ہے یا خود داری!

سیانے کہتے تھے ’برے وقت کا ایک فائدہ ہوتا ہے و ہ دوست اور دشمن کی پہچا ن کرا دیتا ہے‘ عرب کے شہزادے اور ایران کے حکمران! ہر چہرہ عیاں ہے۔ اب بھی اگر فیصلہ کرنے میں دشواری ہے تو پھر کشمیر سے محبت کے دعوے سے باز رہیں آپ۔

جس زمین کی تین نسلیں اس بارود کی نذر ہو گئیں انہیں اپنی شناخت کے لیے کسی اور کے بازو کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں پاکستانی حکمرانوں کو اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ضرور ہے۔

ہر ملک میں پاکستانی سفارتخانہ موجود ہے۔ کیا حکومت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو ا جاگر کرنے کے لیے اپنے سفارت کاروں کو ہدایات دی گئی ہیں؟ مسلم امہ جہاں جہاں بھی ہے آج ہر کشمیری بہن ا ور بچے کی آواز بننا آپ پر فرض ہو چکا۔ کشمیر نے آ زاد ہونا ہی ہے یہ طے ہے۔ جیسے جناح نے کہا تھا ’دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو توڑ نہیں سکتی‘، بالکل ایسے ہی دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں سے ان کی سرزمین چھین نہیں سکتی۔

دشمن کا مشکل وقت میں عیاں ہونا بھی اللہ کی مدد کے مترادف ہے۔ مسز خان کی وہ بیوی مت بنیں جو ہر وقت جوتے سیدھے کرتی رہتی ہے اور اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کی اہمیت بھی کھو دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •