کیا آپ حسد کی آگ میں جلتی رہتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوشی بٹ کا خط

ڈاکٹر خالد سہیل صاحب

آداب!

امید ہے آپ بالکل خیریت سے ہوں گے اور جسٹن ٹروڈو بھی یقیناٌ ٹھیک ہو گا۔ جب بھی آپ کو خط لکھتی ہوں تو ایک خوشی کا احساس ساتھ ہوتا ہے۔ کہ یہ خط ایک انسان دوست حکمران کے ملک میں ایک انسان دوست شخص کے پاس جا رہا ہے۔ جن کی دوستی میرے لیے قابل فخر ہے۔ آپ چونکہ نفسیات کے ڈاکٹر ہیں اس لیے میں آپ سے چند سوال کرنا چاہتی ہوں۔ میں آپ سے ہر خط میں ایک سوال پوچھوں گی۔ امید ہے کہ آپ وقت نکال کر جواب ضرور دیں گے۔

انسانی ذہن کو سمجھنے کا شوق بعض اوقات عجیب عجیب چیزیں سوچنے پہ مجبور کرتا ہے۔ میں نے آپ سے پہلا سوال ان خواتین کے بارے میں پوچھنا ہے جن کا اپنے شوہر یا اپنے پارٹنر کے بارے میں possessive رویہ ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجوہات ہوتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک حد تک تو آپ اپنے پارٹنر کے بارے پوزیسو ہوں تو ٹھیک ہے لیکن اگر بہت زیادہ ہوتے ہیں تو اس کے نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں۔ جو عورت اپنے والد یا بھائی کی طرف سے محبت سے محروم ہوتی ہے ان میں یہ رویہ زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کا پارٹنر ان سے دور ہو یا ان کی محبت کسی اور سے شئیر کرے۔ آپ کا اس بارے کیا خیال ہے؟

۔ ہمارا معاشرہ عورت کو خودمختار کرنے کی بجائے اسے بچپن سے ہی اس بات پہ فیڈ کرتا ہے کہ شوہر ہی تمہارا اصل مالک ہو گا۔ شوہر کے گھر جا کے فیشن کرنا۔ شوہر کے ساتھ گھومنے جانا۔ شوہر ہی سے فرمائشیں کرنا۔ اس کی بجائے اگر والدین بیٹی کو خودمختار بنانے کی طرف زور دیں تو عورتوں میں اس رویے کی کمی یا یہ رویہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔ پھر بھی اگر کوئی کرے تو پھر ایسی عورت کو نفسیاتی علاج ہی کرانا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کو مرد کا دست نگر کر کے ہمیں خوشی ملتی ہے۔ اس سے گھر کا ماحول تو خراب ہوتا ہی ہے بچوں پہ بھی اثر پڑتا ہے۔ کیا آپ ایسے رویے کا ذمہ دار سماج کو سمجھتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ان باتوں کی تہہ تک پہنچ کے ہمیں اس کے سدباب پہ بھی غور کرنا چاہیے۔ آگاہی دی جانی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ ؟

۔ باقی سوال اگلے خط میں۔

نئے پاکستان سے پرانی نوشی کو اجازت دیں۔ اپنا بہت خیال رکھیں۔

نوشی بٹ 27۔ اگست۔ 2019

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترمہ نوشی بٹ صاحبہ!

سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے بڑے خلوص اور اپنائیت سے ’درویشوں کے ڈیرے‘ پر تبصرہ لکھا اور ’ہم سب‘ پر چھپوایا۔ آپ کے تبصرے کو میرے ادبی دوستوں نے بہت سراہا۔

تبصرے کے بعد آپ نے مجھے اپنا فیس بک فرینڈ بنا کر جو خطوط کا سلسلہ شروع کیا ہے، وہ میری عزت افزائی ہے۔ آپ ہر خط میں ایک دلچسپ سوال پوچھنا چاہتی ہیں۔ میں ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

اس خط میں آپ نے ان بیویوں کی نفسیات کے بارے میں سوال پوچھا ہے جو اپنے شوہروں کے بارے میں POSSESSIVE ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں آپ کے سوال کا جواب دوں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے کلینک میں اتنے ہی مرد بھی آتے ہیں جتنی عورتیں جو حسد کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ آپ نے صرف عورتوں کا ذکر کیا ہے اس لیے میں اپنی توجہ ان پر ہی مرکوز کروں گا۔ حسد کا مسئلہ کافی پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ میں اس مسئلے کے صرف چند پہلوؤں پر روشنی ڈالوں گا۔

اس مسئلے کا پہلا پہلو اعتماد ہے۔ میری نگاہ میں صحت مند جوڑے ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ جو عورتیں حسد کی آگ میں جلتی ہیں ان کے دل اعتماد سے تہی ہوتے ہیں۔

میں ایسی کئی بیویوں سے مل چکا ہوں جو اپنے شوہر کا سیل فون بھی چیک کرتی ہیں اور ای میل بھی

وہ شوہر کو بار بار فون کر کے پوچھتی ہیں کہ آپ کہاں ہیں اور کس کے ساتھ ہیں

وہ شوہر کے کپڑے بھی چیک کرتی ہیں اور پرس میں رسیدیں بھی کہ کہیں وہ کسی اور حسینہ کے پہلو سے تو نہیں آ رہے۔

وہ شوہر سے لڑتی ہیں اگر وہ کسی محفل میں کسی اور عورت سے ہمکلام ہو۔

ایسی عورتیں بنیادی طور پر شکی مزاج ہوتی ہیں۔

وہ اپنے شوہروں کا کسی پولیس افسر یا پرائیویٹ جاسوس کی طرح پیچھا کرتی رہتی ہیں۔

میں نے حسد کرنے والے جن مردوں اور عورتوں کا علاج کیا ہے ان میں سے اکثر بچپن میں SIBLING RIVALRY کا شکار تھے، وہ اپنے خاندان میں اپنے بہن بھائیوں اور کزنز سے بھی حسد کرتے تھے۔ وہ اپنی ماں کی محبت کے لیے لڑتے رہتے تھے۔

میں نے حسد کرنے والی عورتوں کی اکثریت کو احساسِ کمتری کا شکار دیکھا ہے۔ میں نے جب ان کا انٹرویو لیا تو وہ کہنے لگیں کہ وہ اپنے دوستوں اور شریکِ حیات سے

کم خوبصورت

کم ذہین

کم کامیاب اور

کم ہردلعزیز ہیں۔

مشرقی معاشرہ عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتا ہے۔ نجانے کتنی عورتوں کو نہ گھر والوں نے اعلیٰ تعلیم دلوائی اور نہ ہی گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دی۔ ایسی عورتیں معاشی اور نفسیاتی طور پر اپنے شوہر کی دست نگر رہتی ہیں۔

ہم اپنے کلینک میں مشرقی اور مغربی عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تا کہ وہ جذباتی، سماجی اور معاشی طور پر آزاد اور خود مختار ہوں تاکہ وہ اپنے شوہروں کی دست نگر نہ ہوں۔ کئی بیویوں کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کا شوہر دوسری شادی کر لے گا۔

میری نگاہ میں جو عورتیں معاشی اور جذباتی طور پر آزاد و خودمختار ہوتی ہیں وہ اپنے شوہروں کے ساتھ برابری کا سلوک رکھتی ہیں۔ ایسی عورتیں اپنے شوہروں کی دوست، ہمراز اور ہمدرد ہوتی ہیں۔ ایسے رشتوں میں اعتماد زیادہ اور حسد کم ہوتا ہے۔ اگر ان میں کوئی غلط فہمی کا شکار ہو جائے وہ جلد ہی اسے دور کر لیتے ہیں۔

کیا حسد کسی کی محبت کا اظہار ہے؟ اس کے بارے میں مجھے ایک گمنام فلسفی کا جملہ یاد آ رہا ہے

THERE IS MORE SELF LOVE THAN LOVE IN JEALOUSY

یہ تو تھا اس سوال کا مختصر جواب۔ اب اگلے دلچسپ سوال کا انتظار رہے گا۔

آپ کا انسان دوست ادبی دوست

خالد سہیل

28  اگست 2019

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 257 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail