وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے مطالبے کی پذیرائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے اس مطالبے کو کشمیریوں میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے کہ پاکستان حکومت آزاد کشمیر حکومت کو تمام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پر تسلیم کرے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 14 اگست کو مظفر آباد میں آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کشمیریوں کو پاکستان کی بھر پور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر تمام ریاست کے نمائندہ وزیر اعظم ہیں۔

اسمبلی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے سامنے، کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر حکومت کو تمام متنازعہ ریاست کی نمائندہ حکومت تسلیم کیا جائے۔ آزاد کشمیر حکومت اور حریت کانفرنس کو ’پی ایل او‘ کی طرز پر، بین لاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھانے کے لئے ذمہ داری دی جائے اور حکومت پاکستان اس کی معاونت کرے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس بات کی ضرورت ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کو، اس کے جو خد وخال ہیں، اس کو تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اور حریت مل کر دنیا میں کشمیریوں کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ پیش کر سکیں۔

مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو انڈیا میں مدغم کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں مزید فوج متعین کرتے ہوئے کشمیریوں کو عملا گھروں میں قید کرنے اور ہر قسم کے مواصلاتی رابطے منقطع کرنے کی صورتحال میں پاکستان کے یوم آزادی کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر اور 15 اگست کو انڈیا کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا۔ اس سے پہلے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے طورپروزیرخارجہ شاہ محمودقریشی، پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری، مسلم لیگ (ن) کے اقبال ظفرجھگڑا سمیت کئی پاکستانی شخصیات نے مظفرآبادمیں عید الاضحی منائی۔

انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے ہمراہ، تقریبا بیس ہزار افراد کے ہمراہ مظفر آباد کی مرکزی عید گاہ میں عید کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد مقبوضہ کشمیر کے عوام اور کشمیریوں کی آزادی کے حق میں ایک ریلی منعقد کی گئی۔ آزاد کشمیر بالخصوص دارالحکومت مظفر آباد میں انڈیا مخالف مظاہروں، جلسوں اور مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی سربراہی میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے بدترین مظالم کے خلاف اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے سیز فائر لائین ( لائین آف کنٹرول) کی طرف مارچ کیا جائے گا۔

وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر ان دنوں امریکہ کے دورے پہ ہیں جہاں انہوں نے امریکی کانگریس کے ارکان، خارجہ امور کمیٹی اور مختلف امریکی شخصیات سے ملاقاتوں بھی کیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں امریکی میڈیا کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے بریفنگ د ی اور امریکی میڈیا کے نمائندگان نے وزیراعظم آزادکشمیر کے انٹرویوبھی ریکارڈ کیے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے امریکی تھنک ٹینک ووڈروولسن سنٹر واشنگٹن کا دورہ کیا اور تھنک ٹینک کے اراکین کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔

اگر پاکستان کی طرف سے تمام ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پر آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کیا جاتا ہے تو اس سے عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز بھی سامنے آ سکتی ہے جس کا وجود اس وقت عالمی سطح پر کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ ہر ملک اور عالمی ادارے مسئلہ کشمیر کو محض پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک تنازعہ، مسئلے کے طور پر ہی دیکھتے ہیں۔ اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی رائے شماری کی بات کی گئی ہے لیکن آج دنیا میں کہیں بھی کشمیریوں کی نمائندہ آواز موجود نہ ہونے سے مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملتی۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کئی معاہدوں میں مسئلہ کشمیر کو پرامن طور پر مذاکر ات سے حل کرنے کا عہد کیا گیا لیکن عشروں گزر جانے کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ پاکستان اور انڈیا کے کئی بار کے باہمی اتفاق کے باوجود کشمیریوں نے آزادی کے مطالبے کے ساتھ جدوجہد، مزاحمت اور قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ یوں اب اگر ایک جنگ کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی ایسا نیا معاہدہ سامنے آتا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا تو اس صورت کشمیریوں کی مزاحمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس طرح مسئلہ کشمیر کے حل میں کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو نظر انداز کرنا ایک خطرناک عمل ثابت ہو سکتا ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر اور لداخ کو انڈیا میں ضم کرنے کے جارحانہ اقدام کے فوری بعد پاکستان کی حکومت کی طرف سے زیادہ سخت ردعمل کا اظہار سامنے نہ آ سکا تاہم سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستان حکومت اور فوج کی طرف سے کشمیر کے معاملے پر جنگ کی باتیں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ اسی تناظر میں چینی فوج کے نائب سربراہ کا پاکستان کا دورہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ آج کل میڈیا پہ اکثر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر کیا کر سکتا ہے؟ بعض اطلاعا ت کے مطابق یہ معاملہ پاکستان میں سرکاری سطح پہ تجویز زیر غور ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کے لئے تمام ریاست کی نمائندہ حکومت کا درجہ تسلیم کیا جائے۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان کے لئے یہ بات اہم ہے کہ انڈیا کی طرف سے جنگ مسلط کیے جانے کے انتظار میں تیار بیٹھے رہنے کے بجائے اس طرح کے سرکاری، سیاسی اور سفارتی اقدامات پر فوری توجہ دی جائے جس سے مسئلہ کشمیر سے متعلق زمینی صورتحال کو کشمیریوں اور پاکستان کے حق میں بہتر بنایا جا سکے۔ مسئلہ کشمیر پر جنگ کی خطرناک صورتحال میں یہ بات بھی اہم ہے کہ کشمیر پر جنگ کے حوالے سے عالمی سازش کے طور پر پہلے سے طے شدہ امور کے مطابق لڑائی کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ حقیقی معنوں میں جنگ ہو جس سے مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت بھی ممکن ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •