کشمیری کیا امید کرتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر ایسا لگ رہا ہے کہ کشمیر اب آزاد ہوا کہ تب آزاد ہوا۔ مجاہدین کی ایک فوج برسرپیکار ہے۔ سب اپنے خیالات اور نظریات کے مطابق جہاد بھی کر رہے ہیں اور مخالف نظریات کے حامل مجاہدوں کو غداری کے سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم فرما رہے ہیں۔ یہ کب تک کشمیر کو آزاد کروا لیں گے یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ لیکن اس جہاد سے باہر ایک الگ دنیا آباد ہے۔ اور میں چند گزارشات اس دنیا کے بارے میں عرض کرنا چاہوں گا۔

کشمیری اس وقت تک مکمل صدمے میں ہیں۔ اچانک اتنے بڑے فیصلے اور مسلسل کرفیو نے ان کو اس قدر غم زدہ کر دیا ہے کہ وہ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہے۔ دکھ اور لاچاری کے احساس نے ان کو کرفیو کے علاوہ ایک اور حصار میں قید کیا ہوا ہے اور یہ دونوں حصار ایک ساتھ ٹوٹنے والے ہیں اور اس کے بعد جو طوفان آنے والا ہے اس کا احساس کسی کو بھی نہیں۔ کشمیری قوم خاموشی سے تو موت کو بھی قبول نہیں کرتی۔ یہ بھارت کیا سوچ کے آیا ہے اس کا اندازہ بہت جلد اس کو ہو جائے گا۔

بھارت کی ہٹ دھرمی کی انتہا یہ ہے کہ اس کی فوج نے وادی کو پوری طرح گھیرے اور محاصرے میں لے رکھا ہے، غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی حقیقت حال جاننے کے لئے وادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بین الاقوامی وفود کو بھی سری نگر جانے سے روک دیا جاتا ہے، انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں کو بھی سروے کرنے سے روک دیا جاتا ہے اس کے باوجود دنیا کو علم ہوچکا ہے کہ بھارتی حکومت وادی کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے۔

کشمیر کا مسئلہ اسلامی دنیا کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہونا چاہیے۔ اس مسئلے کو معمولی سے دباؤ سے بھی حل کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ وہ عرب ممالک اور ایران جو امت مسلمہ کے تحفظ کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے اس وقت خاموشی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ وہ جو تیز ہوا چلنے پر بھی پاکستان سے مدد مانگ لیتے ہیں ان کے مالی مفادات نے کشمیریوں کا خون ان کی نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔

بھارت نے پاکستان کے اندرونی حالات پہ نظر رکھی اور ایک کمزور حکومت پہ ہاتھ ڈالنے کی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنایا۔ لیکن شاید مودی یہ بھول گیا جس کا وہ خود بار بار اعتراف کر چکا تھا کہ پاکستان کے اندر بننے والی ہر گورنمنٹ فوج اور سیکیورٹی اداروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے بس یہیں بھارت سے بھول ہو گئی اور وہ غلط سوراخ میں انگلی ڈال بیٹھا۔ اب مسئلہ بھارت کا یا ہندو نظریہ کا نہیں بلکہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کشمیریوں کا ہے کہ وہ جو توقعات پاکستان، پاکستانی عوام، اور پاک فوج سے لگا ئے بیٹھے ہیں ان کا انجام کیا ہو گا۔

کشمیری عوام اس وقت پاکستان اور پاک آرمی کی پورے بھروسے اور اعتماد کہ ساتھ منتظر ہے۔ میں ایک کشمیری ہوں اور میں اپنے ارد گرد بدلتے خیالات اور توقعات کو محسوس کر سکتا ہوں۔ کشمیری اب بھی یہی سوچ رہے ہیں کہ پاک آرمی کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہو گی۔ پاکستان آرمی آئے گی اور مودی کو حیران کر دے گی۔

میں پاکستان کی بین الاقوامی مجبوریوں کو سمجھتا ہوں۔ بہت سے کشمیری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو براہ راست فوج کشی کے کیا نقصان بھگتنے پڑیں گے۔ جنگ اور کنٹرول لائن پہ محاذ آرائی کے کیا کیا نقصان ہو سکتے ہیں۔ لیکن اکثر کشمیری صرف ایک ہی امید اور ایک ہی مطالبہ لیے کھڑے ہیں کہ پاک آرمی کشمیر میں داخل ہو جائے۔ کشمیر کا بچہ بچہ ان کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا۔ اب اگر پاکستان آرمی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا پاتی جس سے کشمیریوں کی تسلی ہو تو مجھے میرے اپنے وجود اور اپنے خیالات سے خوف آتا ہے کہ جب ایک قوم مرنے اور مارنے پہ آ جائے اور اس کو کسی بھی دوسرے فریق پر اعتبار ہی نہ رہے تو اس خوفناک تصادم کا انجام بھی خوفناک ہی ہو گا۔

میری آواز تو ایوانوں تک نہیں پہنچ پائے گی نہ مقتدر حلقے اس خاموش طوفان کو ایسے محسوس کر پا رہے ہیں جیسے یہ کشمیریوں کے خون کے اندر ابل رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں جہاں جہاں تک میری آواز جا سکتی ہے میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ وقت خاموش رہ کر انتظار کرنے کا نہیں۔ کشمیریوں کو ایک ایسا مرہم چاہیے جو واضع نظر بھی آ رہا ہو۔ ورنہ ہم جنگ کے میدانوں میں بھلے ہی بھارت کو خاک میں ملا سکتے ہوں لیکن ہم کشمیر کو کھو دیں گے۔ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ جب امید، آس، بھروسے جیسے لفظ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں اس کے بعد حالات کسی کے بھی قابو میں نہیں رہتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ارشاد خان کی دیگر تحریریں
ارشاد خان کی دیگر تحریریں