دریچے:مسافر کاغان کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں جی سے کھانا کھا کر نکلے تو چار بج چکے تھے۔ ٹریفک اسی طرح چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھی۔ میاں جی سے تھوڑا سا آگے ایک میکڈونلڈ بھی کھل گیا ہے۔ اس کی لوکیشن بھی اچھی ہے اور خاصا وسیع ہے۔ میکڈونلڈ چھوٹو کی فیورٹ جگہ ہے، دیکھتے ہی اس کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ اس وقت دیر ہو رہی تھی اس لئے واپسی پر رکنے کا وعدہ کرکے آگے نکل گئے۔ صبح سے گاڑی چلا رہا تھا اور ہمّت جواب دیتی جارہی تھی، اس لئے گاڑی بیٹی کے حولے کی اور بیک سیٹ پر براجمان ہو کر خوبصورت نظاروں میں کھو گیا۔

مانسہرہ کراس کرتے ہی کاغان روڈ آپ کو اپنے اردگرد خوبصورت جنگلات اور پہاڑی ڈھلوانوں کے دیدہ زیب اور خوشنما نظاروں کے ساتھ خوش آمدید کہتی ہے۔ خوبصورت روڈ پر آپ بابو سرٹاپ تک اپنی گاڑی، بھلے وہ سوزوکی مہران ہی کیوں نہ ہو، آسانی سے سفر کرسکتے ہیں۔ سڑک اگرچہ دورویہ ہے مگر کشادہ ہے، اور پہاڑی موڑ اتنے تنگ نہیں، کہ آپ کا دل تنگ آ جا ئے۔ مانسہرہ سے بالاکوٹ کوئی چالیس کوس دوری پر ہے، مگر خوبصورت نظاروں سے بھرپور، یہ سفر عمومی طور خوشگوار ہی رہتا ہے، بشرطیکہ آپ کے آگے کوئی دھواں اگلتا ٹرک یا ٹرالہ نہ لگ جائے۔

ایسا ہونا آپ کی بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں۔ ہمارے ملک میں گاڑیوں اور انسانوں حتٰی کہ ڈرائیوروں کے سالانہ چیک اپ کا کوئی انتظام نہیں۔ ایک بار ڈرائیونگ لائسنس بن جا ئے، پھر بھلے آپ کی آنکھوں پر موتیا اتر آئے، آپ کے ہاتھ پاوں مفلوج ہو جائیں، آپ ڈرائیور ہیں۔ آپ کی گاڑی جتنا مرضی دھواں اگلتی رہے، سڑک کے بیچوں بیچ بند ہو جائے، ٹریفک رک جائے، کوئی پرواہ نہیں۔ اس دن بھی یہی ہوا۔ ایک دھواں چھوڑتا ٹرالا، سڑک کو باپ کی ملکیّت سمجھ کر اپنے عقب میں گاڑیوں کی قطار لگائے، مسلسل پندرہ منٹ تک ہمیں خوار کرتا رہا۔ ہم خوبصورت نظارے چھوڑ کر اس موذی سے نجات پانے کے جتن کرنے لگے، حتٰی کہ جابہ کی چڑھائی آگئی۔ ٹرالے کی رفتار ذرا مدھم ہوئی اور ہم نے اس اذیت کو پیچھے چھوڑا۔

جابہ کی چڑھائی کراس کرتے ہی دائیں جانب دریائے کنہار لشکارے مارتا نظر آیا۔ یہ خوبصورت دریا نوید سنا رہا تھا کہ اب بالاکوٹ قریب ہے۔ بالا کوٹ کے قریب کئی جگہوں پر، آپ دریا سے ہاتھ ملا سکتے ہیں، کہ دریا زمین کی سطح پر پھیلے پتھروں سے سر پٹختا، مدھم سروں کے گیت گاتا، آپ کا سواگت کرتا ہے۔ جگہ جگہ پر ٹورسٹ سپاٹ آپ کو دعوت نظارہ دے رہے ہوتے ہیں۔ سورج غروب ہو چکا تھا اور رات کی تاریکی پھیلتی چلی جارہی تھی۔ ہم ابھی بالا کوٹ سے آٹھ کلو میٹر پیچھے تھے۔

یہیں سے بالا کوٹ کے ہوٹلوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ہم نے ایک ہوٹل میں کمرہ بک کروالیا۔ اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ اچھی خاصی گرمی تھی۔ چھوٹو نے کمرے میں جاتے ہی اعتراض اٹھا دیا ”اے سی تو ہے نہیں“۔ بالا کوٹ میں جون جولائی میں اچھی خاصی گرمی پڑتی ہے۔ ہوٹل منیجر نے ہمیں یقین دلایا کہ رات تھوڑی ہی دیر میں ٹھنڈی ہو جائے گی۔ آپ ابھی گاڑی سے نکلے ہو اس لئے آپ کو گرمی محسوس ہو رہی ہے۔ ہم نے سامان کمرے میں رکھا اور ہوٹل کے لان میں پڑی کرسیوں پر آبیٹھے۔

یہ آٹھ دس کمروں پر مشتمل صاف ستھرا اور کھلا ہوٹل تھا۔ ساتھ کی گلی میں سپر مارکیٹ اور سامنے مسجد بھی موجود تھی۔ ہوٹل بھر چکا تھا۔ پارکنگ میں چھ سات گاڑیاں کھڑی تھیں۔ وقت گزارنا اس لئے بھی ضروری تھا کہ بقول ہوٹل منیجر تھوڑی دیر میں رات ٹھنڈی ہو جائے گی۔ ہم نے گاڑی نکالی اور کسی ریستوران کی تلاش میں چل پڑے۔ دوتین کلومیٹر آگے پٹرول پمپ کے ساتھ ایک صاف ستھرا ریسٹورنٹ نظر آیا۔ یہاں پنجابی کھانے دستیاب تھے۔

کھانا ٹھیک تھا اور چائے اچھی، کھانا کھاتے گیارہ بج گئے تھے اور رات بھی ٹھنڈی پڑتی جارہی تھی، ہوٹل جاتے جاتے بارش شروع ہو گئی۔ کمرے میں پہنچے تو چھوٹو کے بیڈ کے ساتھ کاکروچ ٹائپ کیڑا نظر آگیا، واش روم میں اسی نسل کے کچھ اور کیڑے بھی براجمان تھے۔ ، سپرے کرنا پڑا۔ دروازہ بند کیا اور برآمدے میں بیٹھ کر بارش کا نظارہ کرنے لگے۔

بالا کوٹ خیبر پختون خواہ میں ضلع مانسہرہ کی ایک تحصیل ہے، جسے وادی کاغان کا دروازہ کہتے ہیں۔ مانسہرہ سے چالیس کلومیٹر کے فاصلہ پر دریائے کنہار کے دونوں اطراف میں آباد یہ ایک خوبصورت اور پر فضا مقام ہے۔ وادی کاغان کے اس حصے کو نین سکھ ویلی بھی کہتے ہیں۔ روایت ہے کہ ملکہ نور جہاں کشمیر سے بالا کوٹ کے قریب گڑھی حبیب اللہ کے راستے لاہور کا سفر کر رہی تھی، جب اس کی آنکھیں خراب ہو گئیں۔ روایت کے مطابق ملکہ نے دریائے کنہار کے پانی سے اپنی آنکھیں دھوئیں تو اسے آرام آگیا۔

بالاکوٹ سطح سمندر سے تقریباْ تین ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ جوں جوں ہم دریائے کنہار کے کنارے آگے کی طرف سفر کرتے ہیں، وادی کی بلندی بڑھتی جاتی ہے حتٰی کہ بابوسر ٹاپ پر یہ بلندی تیرہ ہزار فٹ تک چلی جاتی ہے۔ دو ہزار پانچ میں آئے زلزلے نے کشمیر کے ساتھ بالا کوٹ کو بھی تہس نہس کردیا تھا، لیکن ایک بار پھر یہ شہر آہستہ آہستہ آباد ہو گیا ہے۔

صبح، ناشتے سے پہلے، بچّے ابھی سوئے ہوئے تھے جب میں نے شاہ اسمٰعیل شہید کی قبر پر جانے کا قصد کیا۔ بالاکوٹ کے مین بازار سے ناران جاتے ہوئے بائیں ہاتھ، اس عظیم مجاہد کا مدفن ہے۔ شاہ اسمٰعیل شہید بالاکوٹ کے مقام پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ یہ عظیم مجاہد، سیّد احمد بریلوی کے ساتھ مل کر اس خطّے میں اسلامی انقلاب کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اس کی تحریک کافی منظم تھی مگر طاقتور رجیت سنگھ کے مقابلے میں شکست کھائی۔ 1831 میں یہ دونوں شہید ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •