مسلم امہ، اِن تلوں میں تیل نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوش سنبھالا تو یہی دیکھا کہ پڑوس یا رشتے دار وں کے ہاں کسی کا انتقال ہو جاتا تو گھر میں افسردگی کا سایہ نظر آتا، میت کی تدفین تک کسی بھی گھر میں کھانا تیار ہوتا نہ کوئی کھاتا، چالیس دن تک کسی کی شادی کرنے سے بھی گریز کیا جاتا اور قریبی رشتے دار کی صورت میں تو یہ دورانیہ چھ، چھ ماہ تک چلا جاتاتھا۔ بچپن میں تو اس کی زیادہ سمجھ نہ آئی مگر جوں جوں بڑے ہوئے سمجھتے گئے کہ یہ احساس ہے، یہ دوسروں کے غم میں شامل ہونے کا عملی اظہار ہے تا کہ دکھی خاندان یہ محسوس نہ کرے کہ وہ دکھ کی گھڑی میں تنہا ہے، مسلمان گھرانوں میں ایسی روایات کو مذہبی اخلاقیات سے بھی موسوم کیاجاتاہے کیوں کہ مومن مومن کا بھائی ہے توپھر بھلا کیسے ممکن ہوتا جب ایک بھائی پریشان ہو اور دوسرا خوشیاں مناتاپھرے۔ خوشیاں، غم، دوستی اوردشمنی بھی سانجھی سمجھی جاتی تھی۔

اسی تعلق کو ملکی سطح پر دیکھیں تو ہمسایوں اور مسلم ممالک کے بُرے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہونادوسروں پر لازم ہے مگر جب ہم وادی کشمیر کو دیکھتے ہیں تو پھر حکومتی سطح پرمختلف ممالک کی ذمہ داریاں مایوس کن ہیں۔ کشمیر لہو لہو ہے مگر مظلوم جن کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ خود کسی اور کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے دو چار ملکوں کے دورے کرکے اپنی سفارتی کامیابیوں کے خوب چرچے کیے اور عام عوام کو سوشل میڈیا پر خوش کردیا کہ دیکھیں امریکہ بھی اب ثالثی کی پیش کش کررہا ہے مگر اگلوں نے کشمیر کی خصوصی حیثیٰت ہی ختم کرکے اسے اپنا اندرونی مسئلہ قرار دے کر پھراسی ٹرمپ سے ملاقات بھی کرڈالی۔

ہم نے مسلم امہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا تو اگلوں نے اسی ”شخص“ کو عزت کے ہار پہنا دیے ہم جسے دنیا بھر میں دہشتگرد کہتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ بڑا افسوس بھی ہے کہ مودی کی عزت افزائی کرنے والا کوئی اور نہیں، ”اپنا“ ہی ہے۔ کشمیر میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کے خون پینے والے کی عزت افزائی کرتے وقت ان ”اپنوں“ کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ گو کو کیا حکم دیا ہے؟ انہیں حضورﷺ کی احادیث کی روشنی میں کچھ خیال نہیں آیا کہ مظلوم کا ساتھ دینے کی بجائے ظالم کا نہ صرف ساتھ دے رہے ہیں بلکہ اسے اپنے گھر بلا کر عزت کے تمغے پہنا رہے ہیں۔ ہم خام خیالی میں ہی رہ گئے اور اگلوں نے مذہب تو کیا، انسانیت پر بھی اپنے کاروبار کو ترجیح دے ڈالی۔

مجھے یہاں اپنے ایک سجادہ نشین وزیرخارجہ کی گفتگو یا د آرہی ہے جو فرما رہے تھے کہ ”ہماری قوم جذباتی ہے، یہ یاد رکھیں کہ اگر عربوں کے انڈیا کے ساتھ تعلقات ہیں تو انہوں نے ہماری بھی مدد کی ہے۔ وہ اپنے معاملات میں آزاد ہیں اور کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں“۔

مانا کہ سفارتی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، کوئی کسی کا پابند نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک سے مراسم بناتے وقت کسی سے اجازت لے مگر کیا یہ ہماری خام خیالی نہیں تھی کہ ہم جنہیں امہ امہ کہہ کر اپنی توقعات پوری ہونے کا مرکز سمجھتے رہے ان کی ترجیحات میں ہم نہیں، کوئی اور ہے۔ لوگ تو کہتے ہیں اور درست ہی کہتے ہیں کہ جب انڈیا اُن سے اپنے کاروباری مراسم بڑھا رہا تھا تو تب ہمیں ہوش نہیں تھی، ہم صرف کشکول لیے گھومتے رہے اور ”وہ“ کاروباری تعلقات بناتے رہے کیوں کہ دنیا میں اب وہی بڑا ہے جس کا کاروبار بڑ اہے، اسی پر پنجابی میں کہتے ہیں ”جنہاں دے گھر دانے، اوہناں دے کملے وی سیانے“۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مکہ ومدینہ سے ہماری مذہبی، روحانی وابستگی اپنی جگہ مگر وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ معاملات الگ ہونے چاہئیں۔ اگر سرزمین مقدس کے ساتھ تعلقات کووہاں کے حکمرانوں کے ساتھ جوڑیں گے تو ہمارے ساتھ آئندہ بھی ایسے ہی ہوگا جیسا کہ پہلے ہوتا آ رہا ہے۔ یہ تب ممکن تھا کہ اگر عرب حکمران بھی اللہ ورسول کے احکامات کی پاسداری کرتے، پھر بے شک ان کے لیے مر مٹ جاتے تو سودا گھاٹے کا نہیں۔ ایک چھوٹی سی مثال ہی لے لیتے ہیں ویسے تو ہزاروں ہیں۔

ہم جس مذہب کے پیروکار ہیں کیا اس میں بت پرستی کا کوئی تصور ہے؟ اگر نہیں تو پھر بت خانے کے قیام کاتصور توکسی صورت نہیں ہونا چاہیے۔ اگریہی رہنما جنہیں امہ کے بڑوں کا درجہ دیا جا رہا ہے وہاں اپنی حکمرانی میں بت خانوں کے افتتاح کریں کہ جس سرزمین پر حضورﷺ نے بتوں کو توڑا تھا۔ پھر نتیجہ اخذ کرنے میں کون سی مشکل ہے؟

ویسے تو ہمارے سفارتکار وسیع تجربے کے حامل ہیں اور وہ عالمی سطح پر اپنے ملک کی ساکھ مضبوط کرنے میں ہمیشہ کی طرح متحرک ہیں مگر کشمیر کے معاملے میں اگر کچھ ممالک سے مایوس ہوئی ہے اور جہاں ہمارے دشمن کو دشمن سمجھنے کی بجائے اسے عزت ملی ہے تو کیا رکاوٹ ہے کہ ہم بھی اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں؟ دنیا بھری پڑی ہے، کچھ نئی راہیں دیکھیں، کچھ نئے دوست بنائیں اور کچھ پڑوس میں اگر مل جائیں تو انہیں کے ساتھ مل جائیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں آپ توقع باندھے بیٹھے ہیں، ان تلوں میں اب تیل نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •