حکمران، پاکستان اور کشمیریوں کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت نے آئین میں تبدیلی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے وادی میں سرکاری عمارتوں سے کشمیر کے پرچم کو اتار کرعملی اقدامات کا آغازکردیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں اس وقت ہر ایک گھر بدترین جیل خانے کا منظر پیش کررہا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے کرفیو نافذ ہے۔ سرکاری ادار ے بند ہے۔ بازاروں کو تالے لگا دیے گئے ہیں۔ ہسپتال مقفل ہیں۔ مواصلات کے پورے نظام کو بند کردیا گیاہے۔ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے۔

مریضوں کوہسپتال لے جانے پر پابندی ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ پوری وادی میں صرف سانس لینے پر پابندی نہیں باقی سب کچھ کو قفل لگا کربندکردیا گیاہے۔ سوال یہ ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکی عوام یہ سب مشکلات کیوں برداشت کر رہی ہے؟ مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کی اجازت دی جائے۔ وہ استصواب رائے کیوں چاہتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے۔

پاکستان بھی مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کے اس مطالبے کا نہ صرف حامی ہے بلکہ ان کا موقف ہے کہ ہم اس مقصد کے حصول کے لئے کشمیریوں کا سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔ 5 اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پوری دنیا میں اگر کوئی کشمیریوں کا مقدمہ لڑ رہا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے، لیکن اس حوالے سے ان کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم اس مضمون میں چند گزارشات پیش کریں گے ہوسکتا ہے کہ ان چند اقدامات سے عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان اس وقت جن مشکلات یا دوستوں کی بے وفائی کا شکار ہے اس سے مستقبل میں نجات مل جائے۔

کوئی بھی ریاست جوعلاقائی یا عالمی تنہائی سے نکلنا چاہتا ہو ضروری ہے کہ وہاں سیاسی استحکام ہو۔ گزشتہ ایک سال سے پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ابتدائی چند مہینوں تک ملک کی پارلیمنٹ غیرفعال رہی۔ وزیراعظم عمران خان، حزب اختلاف کے سربراہ میاں شہباز شریف کو چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی بنانے سے انکاری تھے۔ بعد میں وہ حزب اختلاف کے احتجاج پروہ ایسا کرنے پررضامند ہوئے لیکن ملک اور قوم کے قیمتی شب وروز ضائع کرکے۔

اسی طرح جب سے عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں وہ ایک ہی وظیفے کا ورد کررہے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان حزب اختلاف سے زیادہ شورشرابا کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے دوارکان کئی مہینے قبل اپنے عہدوں سے فارغ ہو چکے ہیں لیکن تاحال یہ اہم عہدے خالی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر بھی سال کے آخر میں فارغ الخدمت ہو جائیں گے۔ اگر حکومت اس آئینی عہدوں پر تقرریاں کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو ملک میں آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

ملک میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں اگر الیکشن کمیشن مکمل نہ ہو تو اس پر سوالات اٹھیں گے۔ ابھی چند روز قبل چیف الیکشن کمشنر نے کمیشن کے نئے ارکان سے حلف لینے سے انکار کیا۔ اگر ستمبر میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو ریلف نہیں ملا تو پھر اکتوبر میں وہ بھی اسلام آباد لاک ڈاؤن میں مو لانا فضل الرحمان کے ساتھ ایک ہی ٹرک پر ہوں گے۔

معاشی استحکام اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا:

پاکستان نے احتجاج کے طور پر بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت کو بند کردیا ہے۔ موجودہ صورت حال میں یہ ایک مستحسن فیصلہ ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ علاقائی اور عالمی منظرنامہ اس وقت یہ ہے کہ دنیا ان کا ساتھ دیتی ہے جس کی معیشت مستحکم ہو۔ بھارت کے ساتھ تجارت معطل کرنے کے بعد وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی مصنو عات کے لئے نئی منڈیاں تلاش کریں۔ پڑوس میں ایران پر عالمی پابندیاں ہیں۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں۔ چین کی کوشش ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کے لئے عالمی منڈیوں میں جگہ بنائیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ یورپ میں چالیس سے زیادہ ممالک ہیں۔ متعلقہ وزارتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہاں کی منڈیوں تک رسائی کے لئے حکومت کی مدد کریں۔ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی تجارت پر توجہ کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان، قطر، بحرین اور دوسرے ملکوں کے ساتھ اب ذاتی دوستیوں کی بجائے تجارتی دوستیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وفاقی وزارت خارجہ کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دینے کی ضرورت ہے۔ ان کو پابند کیا جائے کہ ملک میں معاشی استحکام کے لئے قلیل مدتی، وسطہ مدتی اور طویل مدتی پالیسیاں تشکیل دیں۔ پارلیمنٹ سے منظوری لیں اور اس پر عمل درآمد کر کے دکھائیں۔ اس وقت ملک میں سرمایہ کاروں اوراداروں کے درمیاں مختلف معاملات پر جنگ جاری ہے۔ سرمایہ کارییسہ لگانے سے انکاری ہے جبکہ صنعت کار، صنعتوں کو بند کرنے پر مجبور ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملکی سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی جائز مطالبات فوری حل کریں۔

وزیر اعظم اور دیگر حکومتی عہدے دارغیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کردیں :

وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزراء، پنجاب، خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے وزیراعلی جبکہ تمام صوبائی وزیراورمشیرغیرذمہ دارانہ رویہ ترک کر دیں۔ وزیراعظم عمران خان کو خود این آر او والے وظیفے کا ورد ختم کرنا چاہیے۔ پرسوں انھوں نے کشمیر کے حوالے سے قوم کو خطاب کیا۔ اس میں بھی انھوں نے غیرضروری طورپراین آر او کا تذکرہ کیا، حالانکہ اس وقت جن مقدمات میں میاں نواز شریف اورآصف علی زرداری گرفتار ہے ان میں سے ایک مقدمہ بھی وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے دائر نہیں کیا ہے۔ میاں نواز شریف جس مقدمہ میں سزایافتہ ہے وہ خود انہی کا بنایا ہوا ہے، جبکہ آصف علی زرداری بھی ان مقدمات میں سزا بھگت رہے ہیں جو گزشتہ دور حکومت میں بنا ئے گئے تھے۔

پارلیمنٹ کو فعال اور وفاقی وزراء کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے :

ضروری ہے کہ تمام آئینی اور قانونی معاملات پارلیمنٹ میں حل ہوں۔ حزب اختلاف بھی پارلیمنٹ ہی کا حصہ ہے۔ جہاں آئینی اور قانونی ضرورت ہو وہاں ان کو اعتماد میں لینا چاہیے جیسا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر پرحزب اختلاف کے سربراہ سے مشاورت کا معاملہ ہے۔ صوبوں میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی حزب اختلاف سے صلاح مشورہ کرنا ضروری امر ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ تمام وفاقی وزراء کو غیرضروری بیان بازی سے روک دیں۔

ان کو اپنی وزارت پر توجہ دینے اور کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کریں۔ ممکن ہے کہ پارلیمان کی فعالیت اور وزراء کی زبان بندی سے بھی بہت سارے مسائل حل ہوں۔ اگر حکمرانوں کی خواہش ہے کہ دنیا ہمارے ساتھ چلے توپھرسیاسی اورمعاشی پالیسوں کو بدلنا ہوگا۔ وزیروں کوغیرضروری بیان بازی کی بجائے کارکردگی دکھانی ہوگی۔ پارلیمنٹ کوفعال اورآئینی اور قانونی معاملات کو دستور اور قانون کے سانچے کے اندر حل کرنا ہو گا ورنہ ہم درد کی وجہ سے روتے رہیں گے اور دنیا اس کو ہنسی سمجھ کرمزید کچھ کرنے کا مطالبہ کرتی رہی گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •