کشمیر کی آزادی: فسطائیت کے مقابلے میں جمہوری ماڈل لائیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کے حکم پر کل بارہ سے ساڑھے بارہ بجے کے درمیان پاکستان میں ہر کام بند کردیا جائے گا۔ تمام شہری گھروں، دفاتر اور کام کی جگہوں سے نکل کر اہل کشمیر کے ساتھ اظہار یک جہتی کریں گے۔  سڑکوں پر ٹریفک روک دی جائے گی اور آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے اعلان کے مطابق سائرن اور قومی نغمے بجائے جائیں گے۔

عمران خان نے قومی احتجاج اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے اس سرکاری طریقہ کار پر عمل کرنے کے لئے دو روز قبل قوم کے نام خطاب میں اپیل کی تھی۔ آج ایک ٹوئٹ پیغام میں انہوں نے ایک بار پھر قوم کو تاکید کی ہے کہ وہ جمعہ کو بارہ بجے دوپہر احتجاج کرنے کے لئے گھروں سے نکلنے اور کام چھوڑنے کا پیغام یاد رکھیں۔  امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت کی خواہش کے مطابق کل نصف گھنٹے کے لئے پاکستان کو ’لاک ڈاؤن‘ کردیا جائے گا۔

 یہ تو واضح نہیں ہے کہ احتجاج کے اس طریقہ سے کیا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن وزیر اعظم کے پیغام کے مطابق اس کے ذریعے ’مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتی ہے۔  وہ بھارت کے فاشسٹ ظلم و جبر کے خلاف ہیں جو 24 روز سے کرفیو کی صورت میں اہل کشمیر پر مسلط کیا گیا ہے‘ ۔

کشمیر و کشمیریوں کے ساتھ تمام پاکستانیوں کی ہمدردی، یک جہتی اور آزادی کی خواہش کے بارے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ پاکستانی لیڈروں نے کشمیر کے معاملہ کو ہمیشہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔  اس معاملہ کو کشمیری عوام کی آزادی اور خود مختاری سے زیادہ پاکستان کی جغرافیائی توسیع اور اسٹریجک ضرورتیں پوری کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

اگرچہ پاکستانی وزیر اعظم سمیت تمام سرکاری نمائندے مودی سرکار کے یک طرفہ اقدامات کے بعد کشمیر کاز کو عالمی ایجنڈے پر لانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن اس جد و جہد میں یہ واضح نہیں ہے کہ دنیا اگر یہ مان بھی لے کہ اقوام متحدہ کی 70 برس قبل منظور کی گئی قراردادوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے تو اس سے کیا نتیجہ حاصل کیا جاسکے گا۔ یہ تصور خام خیالی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ بھارت دنیا کے دباؤ میں آکر کشمیر میں ریفرنڈم کروانے پر آمادہ ہوجائے گا۔ بالفرض محال یہ ناممکن معاملہ ممکن بنا بھی لیا جائے تو کشمیری عوام اس رائے دہی میں بھارت کی بجائے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے۔

اس غیر یقینی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان، بھارت کے مقابلے میں کسی طرح بھی بہتر متبادل نظام فراہم نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ کشمیری یہ کیوں چاہیں گے کہ اگر بے شمار قربانیوں کے بعد بالآخر انہیں اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ ایک ملک کی ’غلامی‘ سے دوسرے ملک کے دائرہ اختیار میں جانے کا فیصلہ کر لیں؟ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں حتیٰ کہ آزاد کشمیر میں آباد لوگوں کی بڑی اکثریت خود مختار کشمیری ریاست کی حامی ہے۔  آزاد کشمیر میں پاکستانی حکومت کے اثر و رسوخ اور مالی و سیاسی محتاجی کی وجہ سے پاک و بھارت سے یکساں طور سے ’آزادی‘ حاصل کرنے کی بات بلند آواز سے نہیں کی جاتی لیکن کوئی بھی غیر جانبدار مبصر ان جذبات کی موجودگی اور مقبولیت سے انکار نہیں کر سکتا۔

مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی توجہ کا مرکز حریت رہنما ہوتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ الحاق کا نعرہ لگاتے ہیں۔  کشمیر کے تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی ماحول اور حالات پر اختیار حاصل کرتی نوجوان نسل میں یہ نعرہ اتنا ہی غیر متعلق ہے جتنا بھارت کے زیر تسلط یا زیر انتظام رہنے کا تصور ہے۔  اس ماحول میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ خود مختار کشمیر کا متبادل سیاسی نعرہ پیش کرتا ہے۔  کشمیری عوام میں اس فرنٹ کی مقبولیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ حقیقت ہے کہ بھارتی حکومت اس کے سربراہ یاسین ملک کو مسلسل قید رکھتی رہی ہے۔

اور اس سیاسی تحریک کو کالعدم بھی قرار دیا گیا ہے۔  کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد بھارت نواز کشمیری قیادت نے اپنی اس غلطی کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے نئی دہلی پر اعتبار کرکے غلطی کی تھی۔ اس بات کا امکان نہیں کہ مقبوضہ علاقے میں شہری سہولتیں بحال ہونے کے بعد جو تحریک سامنے آئے گی اس کی قیادت ان لیڈروں کے ہاتھ میں ہوگی جو گزشتہ ستر برس کے دوران نئی دہلی کے ساتھ مل کر کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے بغیر ان پر حکومت کرتے رہے ہیں۔

اسی طرح یہ سچ بھی تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی باتیں کرنے والے کشمیری لیڈروں کو بھی اب مقبوضہ کشمیر میں خاص اہمیت اور مقبولیت حاصل نہیں۔  حیرت انگیز طور پر پاکستانی حکومت کشمیریوں کے خلاف بھارتی جرائم کا ذکر کرتے ہوئے اسی قیادت کے ذریعے کشمیریوں کو ’آزادی‘ دلوانے کی بات کرتی ہے۔  کیوں کہ یہ لیڈر پاکستانی حکومت کی زبان بولتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ الحاق کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں۔  اس سراب سے نکل کر اور کشمیری عوام کی خواہشات اور ضرورت کے مطابق حکمت عملی بنا کر ہی پاکستان کی کوئی سفارتی و سیاسی کاوش کامیاب ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جن قرار دادوں کے مطابق کشمیر میں ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کرنا مطلوب ہے، ان میں ہندوستان کے علاوہ پاکستانی فوج کے کشمیری علاقوں سے نکل جانے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔  بھارت نے اگر مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوج نہیں نکالی تو پاکستان نے بھی کبھی اپنے زیر انتظام کشمیری علاقوں سے فوج نکالنے کا اشارہ نہیں دیا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان کو اندیشہ ہے کہ اگر آزاد کشمیر یا دیگر کشمیری علاقوں سے پاکستانی فوج کو نکال لیا گیا تو بھارت ان پر بھی زبردستی قبضہ کرلے گا۔

 یہ اندیشہ کافی حد تک حقائق کی بنیاد پر استوار ہے لیکن آزاد کشمیر کے معاملات میں جس طرح پاکستانی سیاسی پارٹیوں کو ملوث ہونے کی اجازت دی گئی ہے اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا اقدام کر کے پاکستان نے بھی کشمیریوں کے دل کی مراد پوری نہیں کی، اس تناظر میں پاکستان کے لئے خوشنما امکانات نہیں ابھرتے۔

کشمیر کی آزادی کے لئے چلنے والی تحریک میں اگر پاکستان کا پرچم بلند ہوتا ہے یا پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے ہیں تو ان سے یہ تصور قائم کر لینا کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کررہے ہیں، خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ یہ نعرے بھارتی سیکورٹی فورسز اور حکومت کو زچ کرنے کے لئے بلندکیے  جاتے ہیں۔  کشمیریوں کو جب بھی خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا تو وہ خود مختار مملکت کے حق میں ہی ووٹ دیں گے۔

  پاکستان اگر اس اصول کی بنیاد پر کشمیری جد و جہد کے لئے حکمت عملی تیار کرسکے تو مستقبل میں بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔  اس سلسلہ میں سب سے پہلے پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں کشمیریوں کو پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے چنگل سے نجات دلانا ضروری ہے۔  کشمیری عوام کی اپنی پارٹیاں اس خطے کے مسائل کو بہتر طور سے سمجھ اور حل کر سکتی ہیں۔  پاکستانی حکومت کا فرض ہے کہ انہیں اس کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خصوصی حقوق ختم کرنے کا مناسب اور ٹھوس جواب دینے کے لئے پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیریوں کو زیادہ حقوق دے کر اور ان کی خود مختاری کو تسلیم کر کے یہ واضح کر سکتا ہے کہ اس کی پالیسی توسیع پسندی پر استوار نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی معنوں میں کشمیری عوام کی آزادی اور حق خود اختیاری کی حمایت کرتا ہے۔  اسی طرح دنیا بھر میں پاکستانی حکومت کے نمائندوں کی بجائے اگر کشمیریوں کے نمائندے سفارتی کوششوں اور کشمیر کی آزادی کی بات کرنے کے لئے جائیں گے تو ان کی باتوں کو زیادہ توجہ اور غور سے سنا جائے گا اور اس کی اہمیت بھی زیادہ ہو گی۔ بھارت نے کشمیریوں کے خصوصی حقوق ختم کر کے بحران اور بد اعتمادی پیدا کی ہے۔  پاکستان اس کا جواب کشمیریوں کو آزادی اور خود مختاری دے کر اور تسلیم کر کے ہی دے سکتا ہے۔

عمران خان نے کشمیر کی حمایت میں میڈیا مہم چلاتے ہوئے بھارت کی حکمران پارٹی کو فسطائی، ہندو انتہا پسند اور نسل پرست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔  وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کر دے گی۔ پاکستانی لیڈروں کا یہ اندیشہ درست بھی ہو سکتا ہے لیکن کشمیر میں آزادی کی تحریک کو مذہب کے خانوں میں بانٹنے کا اقدام پہلے پاکستان کی جہادی تنظیموں کے ذریعے ہی شروع کیا گیا تھا۔

 1989 کے بعد کشمیریوں کے اندر سے اٹھنے والی تحریک کو باہر سے گئے ہوئے جہادی گروہوں نے ہندو مسلمان تنازعہ بنا کر ہندوؤں کو ہلاک کرنے اور نقل وطن پر مجبور کیا تھا۔ کسی بھی ا نتہا پسندی کے رد عمل میں دوسری طرح کی شدت پسندی سامنے آتی ہے۔  کشمیر کو ہندو اکثریت کا علاقہ بنانے کی بھارتی خواہش کو رد کرنے کے لئے کشمیر کو مسلمانوں کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کی بجائے کشمیری شہریوں کی آزادی و خود مختاری کا سوال بنا کر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اگر بھارت جیسی تسلیم شدہ جمہوریت کے خلاف عالمی سفارتی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے خود اپنے ملک کو ایک مثالی جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسدار مملکت بنانا ہوگا۔ یہاں میڈیا کو آزادی اور عدالتوں کو انصاف کرنے کا حق دینا ہو گا۔ سیاسی آزادیوں کو یقینی بنانا ہو گا۔ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر لیڈروں کو جیلوں میں بند کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر تمام سرکاری وسائل سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے پر صرف کرنے کا طریقہ ترک کرنا ہوگا۔ بھارت آبادی اور معاشی وسائل کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے۔  پاکستان ایک بہتر اور قابل تقلید سماج تخلیق کر کے ہی اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

پاکستان کو بھارت پر برتری کے لئے بہتر اخلاق، درخشدہ جمہوری نظام اور انسانی حقوق کے تحفظ اور اقلیتوں کی حفاظت کے لئے مثال بننا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں کشمیر کی آزادی کا راستہ اپنے آنگن میں وسیع اصلاحات اور تبدیلیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔  ہر جمعہ کو نصف گھنٹہ کے لئے سڑکوں پر کھڑے ہوکر کشمیر کو آزاد نہیں کروایا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1348 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali