تحریک انصاف مجھے استعمال نہیں کر رہی: ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا شکوہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالم آن لائن اور رکن قومی اسمبلی “ڈاکٹر” عامر لیاقت حسین کو اپنی جماعت تحریک انصاف سے شدید شکایات پیدا ہو گئی ہیں۔ وہ ان دنوں سوشل میڈیا پر اہم حکومتی ارکان مثلاً فردوس عاشق اعوان، شاہ محمود قریشی، علی زیدی اور سرور خان پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ایم کیو ایم چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی تحریک انصاف میں شمولیت کے وقت بھی خاصے تنازعات اٹھے تھے۔ 2018ء کے انتخابات میں انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے پر بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان پہلی بار کراچی پہنچے تو عامر لیاقت حسین کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

اب عامر لیاقت حسین نے ایک بار پھر پی ٹی آئی سے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سماء نیوز کے مطابق ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے فردوس عاشق اعوان اور علی زیدی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔

بحری امور کے وزیر علی زیدی نے چند ہفتے قبل کلین کراچی مہم کا آغاز کیا تھا، عامر لیاقت نے شکوہ کیا کہ میں کراچی سے تعلق رکھتا ہوں اور اس شہر کے لئے بہت کچھ کرسکتا ہوں، لیکن مجھ سے اس حوالے سے پوچھا تک نہیں گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید علی زیدی کراچی کے میئر بننا چاہتے ہیں، تاہم عامر لیاقت نے یہ بھی کہا کہ علی زیدی اس عہدے کیلئے ایک اچھا انتخاب ہوں گے۔

پارٹی چھوڑنے سے متعلق سوال پر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ عمران خان میری محبت ہیں، میں انہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا، وہ میری زندگی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں درباری نہیں ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے مجھے درس دیا ہے کہ جہاں بھی غلطیاں ہوں، ان کی نشاندہی کریں۔

عامر لیاقت حسین نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مرکزی قیادت انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ اس شکایت کے اظہار کے بعد بھی عمران خان سمیت کسی پارٹی رہنما نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ وزیراعظم عمران خان سے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے کبوتر اب وزیراعظم ہاؤس کی جانب نہیں جاتے، کوئی باز آ کر انہیں راستے ہی میں لپک لیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •