ڈرامہ اڈاری کی آخری قسط پر ریویو اور کاسٹ سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"udari\"ہم ٹی وی سے چلنے والا ڈرامہ \’اڈاری \’ آخر کار اپنے اختتام پہ پہنچ گیا ہے۔ اڈاری اپنی نوعیت کا ایک انوکھا ڈرامہ تھا۔ اس میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور گانے بجانے والوں کے ساتھ معاشرے میں سلوک، اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ دکھایا گیا ہے کہ کیسے کبھی کبھی کسی مجرم کو بھی بچایا جاتا ہے۔ اور کیسے اگر عوام آواز اٹھائیں تو بہت کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ ڈرامے کے مرکزی کردار ادا کرنے والوں میں احسن خان، سمیعہ ممتاز، بشریٰ انصاری، عروہ حسین، حنا الطاف خان اور حارث وحید شامل تھے۔ یہ ڈرامہ کشف فاؤنڈیشن کے ساتھ ہم ٹی وی نے بنایا تھا اور گزشتہ ہفتے میں اس کی آخری قسط نشر کی گئی۔ عوام نے اس کو بہت سراہا۔ گو کہ پیمرا کی جانب سے چند نوٹس بھی جاری کئے گئے جن میں اعتراض اس بات پہ کیا گیا تھا کہ بھلا ایک باپ اپنی بیٹی پر بری نظر کیسے رکھ سکتاہے؟ مگر اعتراض والے یہ بھول گئے کہ \’امتیاز\’ اس چھوٹی سی بچی \’زیبو\’ کا سوتیلا باپ تھا اور اس طرح کے واقعات معاشرے میں ہو رہے ہیں۔ اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو منظر عام پہ لانا بہت ضروری ہے نیز اس پہ بات کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ مظلوم کی آواز سننے کی بجائے اس پہ طعنے کستا ہے۔ اور یہ بات ظالم خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ اسی لئے ظلم کئے جاتا ہے۔ اڈاری ایسے ہی ظالموں کے خلاف ایک زوردار اور زبردست آواز ہے۔

میں نے اڈاری کی ٹیم سے بات کی اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔ یہ بات بہت خوش آئیند ہے کہ ان تمام لوگوں میں اس جبر اور زبردستی کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات اور ہمت کا جذبہ دیکھا۔ احسن خان نے کہا کہ اگر ان کے توسط سے کوئی ایک شخص بھی اپنے بچے کو بچا سکتا ہے تو ان کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔ حنا الطاف نے کہا کہ ان کے لئے یہ رول مشکل تھا لیکن انہوں نے یہ رول اس لئے کیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ اس مسئلے کے حل کے لئے وہ بھی کچھ کریں۔ حارث وحید کے مطابق الیاس کا کردار ایک ایسا شخص تھا جس کے لئے صرف افسوس کیا جا سکتا ہے۔ روشانہ ظفر نے کہا کہ اڈاری ایک سفر ہے اور اس کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔ عرشیہ، جس نے چھوٹی زیبو کا رول ادا کیا، اس نے کہا کہ اس کو سب نے بہت سراہا اور پوری ٹیم نے اس کی بہت مدد کی۔ امید ہے کہ ایسے ڈرامے بنتے رہیں گے اور عوام ان کو سراہتی رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ڈرامہ اڈاری کی آخری قسط پر ریویو اور کاسٹ سے ملاقات

  • 01/10/2016 at 2:05 pm
    Permalink

    Creating awareness is a concept from the developed world, where systems are already in place to help, support, provide justice to a victim. The only thing lacking is awareness of the victim on what to do in such situation or whom to contact for help. However in Pakistan since there is no system to help the victim or to punish the culprit, creating awareness is useless. Secondly the entire play has created more miseries for helpless women who are divorced / widowed by portraying the second husband as a child molester. So the message for women who want to remarry is that you can remarry but at grave risks to your children. This is the last thing women of Pakistan need at this point who are already victims of abuse and exploitation in their current marriages.

Leave a Reply