غربت اور ہوس جرم کی بنیاد ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی شہرت یافتہ امریکی ناول نگار ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ”گارڈ فادر“ کا ایک جملہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے کو ازبر ہوا۔ اس جملے کے زبان زد عام ہونے کی ایک وجہ یہ بنی کہ یہ جملہ ایک بڑے سیاسی کیس کا فیصلہ لکھتے وقت موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے لکھا۔ ”ہر دولت کے پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے“۔ سوشل میڈیا پہ بکھرے بہت سے اردو اور انگریزی ادب کے صفحات جب کوئی ایسے نثری اقتباسات پڑھنے والوں تک پہنچاتے ہیں تو اکثر و بیشتر اس کے نیچے لوگ مختلف تبصرے کرتے ہیں۔

کسی کو ایک مخصوص نثر پارہ یا کسی کردار کا مکالمہ آفاقی حقیقت لگتا ہے اور کوئی اس کو یکسر مسترد کر دیتا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ناول کے کردار اور مکالمے چاہے کتنے ہی حقیقی کیوں نہ ہوں ان کو ایک آفاقی سچائی کے طور پہ قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ناول، کہانی یا افسانے کے کردار اور ان کے مکالمے مصنف کے تجربے، مشاہدے اور اس کے اظہار بیان کے غمّاز ضرور ہوتے۔ لیکن بہرحال وہ ایک مخصوص پس منظر میں محدود سیاق و سباق میں لکھے گئے ہوتے ہیں۔

وہ مخصوص پس منظر، منظر سے کتنا متعلق ہے اور سیاق و سباق کس طرح حقیت حال کا نمائندہ ہے یہ باتیں ناول اور کہانی کے مکالمے کو پر اثر بنا دیتی ہیں۔ اور ان مکالموں کے اثرات پڑھنے والوں کے ذہن پہ اتنا ہی گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ چاہے مکالموں کی تاثیر کس قدر زیادہ ہو، ان کا آفاقی حقیقت کا روپ دھارنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر ہردولت کے پیچھے جرم کے تصور کو مان لیا جائے تو مجھے دنیا میں محنت کے بل بوتے پہ کامیاب لاکھوں انسانوں کی محنت کو جرم کے پلڑے میں رکھنا پڑے گا۔ یقیناً یہ بات شبانہ روز محنت کرنے والوں کے لیے ناقابل قبول ہوگی۔ اسی طرح دنیا میں لاکھوں کامیاب لوگوں کے پیچھے ان کی محنت سے زیادہ مقدر کا عمل دخل ہوتا ہے۔ مقدر کو جرم کے کھاتے میں ڈالنا بھی کسی طور مناسب نہیں۔

جس طرح ہر دولت کے پیچھے جرم نہیں ہوتا ایسے ہی ہر جرم کے پیچھے غربت یا ہوس نہیں ہوتی۔ لیکن پھر بھی اگر ہم معاشرے میں ہونے والے جرائم کے پیچھے چھپی سوچ کا ایماندارنہ تجزیہ کریں تو یہ بات عیاں ہو گی کہ غربت اور ہوس دو ایسے عناصر ہیں جو جرائم کے لیے بنیادی محرکات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں سے شروع ہونے والی مسابقت کی دوڑ جب ترقی پذیر ممالک تک پہنچی تو جرم کے محرکات میں غربت سب سے بڑا فیکٹر بن گئی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہماری فی کس آمدنی ایک محتاط اندازے کے مطابق محض چودہ سو ڈالر سالانہ ہے اور کم و بیش تیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے وہاں لوگوں کو شعور اور ہنر دے کر محنت کا زینہ چڑھانے کی بجائے مسابقت کے ایسے چکر میں پھنسا دیا جہاں وہ صبح شام اپنی موجودہ سماجی حیثیت سے نا خوش ہے۔ اسی طرح خط غربت سے نیچے رہنے والے خاندان بھی جہاں معاشرے تعلیم کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی معاشرتی برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں وہاں ان لوگوں کو غربت مٹانے کی خواہش جرائم کی ایسی دلدل میں دھکیل دیتی ہے جہاں سے ایک انسان عادی مجرم کا روپ دھار لیتا ہے۔

جرم اور گناہ کا دوسرا بڑا محرک ہوس ہے۔ ہوس چاہے دولت کی فروانی کی ہو یا جنس مخالف سے ناجائز اختلاط کی۔ یہ بھی انسان کو جرم اور گناہ کے راستوں کا اندھا مسافر بنا دیتی ہے۔ پھر اس راستے پہ چلتے ہوئے انسان ایک ایسے ایسے جرم اور گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے جس سے انسانیت بھی شرمسار ہو جاتی ہے۔ ان محرکات یا ان سے متعلقہ جرائم کی روداد دیکھنے کے لیے ہمارے کسی ادارے کے رپورٹس کا مطالعہ کرنے کی یا کسی مخصص ملک کے سفر پہ جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ صبح کا اخبار اٹھایے اور پڑھتے جائیں۔

اخبار کی خبروں کے ساتھ ایک المیہ یہ ہو چکا ہے کہ روزانہ ایک جیسی خبریں قاری پہ کوئی خاص اثر نہیں چھوڑتی۔ اس لیے معمول کے حادثات، گھریلو ناچاقی پہ قتل، جنسی زیادتی اور چوری ڈاکہ زنی کی خبریں بطور معاشرے ہمیں قطعاً نہیں جھنجھوڑتی۔ ہم آئے روز یہ خبریں پڑھتے ہیں اور ایک میکانیکی انداز سے اپنی ذات میں دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگلے روز پھر ایسی ہی خبریں ہماری منتظر ہوتی ہیں اور ہم ویسا ہی رد عمل دیتے ہیں۔ کوئی خوش نصیب حادثہ ایسا ہو کی جس پہ لوگوں کی نظر التفات پڑ جائے اور وہ سوشل میڈیا کی وساطت سے وائرل ہو کر لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کر لے۔ لیکن شاید وائرل ہوتا کوئی بھی واقعہ بھی ابھی تک سماج کو بدلنے میں اتنا کار آمد ثابت نہیں ہوا۔

چند روز قبل مانسہرہ میں ایک خواجہ سرا کا گھر میں قتل ہوا۔ خبر اخبارات کی زینت بنی۔ لیکن شاید ہم بطور معاشرہ ابھی اس مقام پہ نہیں پہنچ سکے جہاں ایسا ایک واقعہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ چند دنوں میں خبر ساعتوں کی گرد میں چھپ گئی۔ خواجہ سراؤں پہ قتل اور تشدد کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن شاید ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ایسا شخص انسان ہی نہیں ہوتا اس لیے ان کے قتل و تشدد پہ کوئی آنکھ اشک بار نہیں ہوتی۔ کوئی مظاہرہ نہیں ہوتا، سوشل میڈیا پہ کوئی ٹرینڈ نہیں بنتا۔ بلکہ نوجوان تو محفلوں میں ایسے قتل پہ بات کرتے ہوئے بھی ذومعنی مسکراہٹ دیتے ہیں۔

دو روز قبل ایک اور دل دہلا دینے والی خبر نظر سے گزری نوشہرہ میں ایک والد نے غربت کے ہاتھوں دو سالہ بچی کو قتل کر دیا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق میاں بیوی کا بھی غربت کی وجہ سے جھگڑا رہتا تھا۔ باپ کا اپنی اولاد کو قتل کرنا یا ماں کا بچوں کو مار کر خودکشی کرنا میری معاشرے میں نئی بات نہیں۔ بہت زیادہ نہیں لیکن پھر بھی ایسے واقعات کا ایک تسلسل ہے۔ میں نے جس وقت یہ خبر پڑھی تو میرے جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی۔

لیکن جب چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھا تو سب کو اسی اطمینان کے ساتھ اپنے کاموں میں مصروف پایا۔ کوئی دبے لفظوں میں اس قتل اور اس کے محرکات کا ذکر نہیں کر رہا تھا۔ اور کرے بھی کیوں ایسے مقتولوں پہ بات کرنا نا تو فیشن ہے اور نہ ہی اس سے سیاسی مخالفین کو زچ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ تو شاید دھرتی کا بوجھ ہوتے ہیں اور بوجھ کسی وقت بھی کم ہو جائے کوئی مضائقہ نہیں۔

ہر دولت کے پیچھے جرم چاہے ہو نا ہو لیکن ہر جرم کے پیچھے غربت یا ہوس ضرور ملے گی۔ ہمیں اپنے جیسے انسانوں کی ان خطوط پہ تربیت کرنا ہوگی تا کہ وہ غربت سے لڑ سکیں اور ہوس جیسی قوت کو سدھار سکیں۔ جو معاشرے یہ گُر سیکھ جاتے ہیں وہ ایک قتل یا ایک خودکشی سے بھی جاگ جاتے ہیں۔ ورنہ مردہ معاشروں کو سانحہ کوئٹہ یا سانحہ پشاور بھی نہیں جگا سکتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •