تقریر پہ تقریر، بیچارہ کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر خود کے باغ میں آپ پھول پودے نہ اگا سکیں تو پڑوس والوں کو باغبانی کا مشورہ نہیں دینا چاہیے!

کشمیر میں لگے کرفیو کو تقریباً سولہ دن ہونے کو آئے ہیں، اور کشمیریوں کی آواز اس وقت دنیا کے ہر کونے میں سنائی دی جا سکتی ہے۔ دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے لے کر امریکا میں مقیم کشمیری، تمام لوگ آرٹیکل 370 کو لے کر سرتاپا احتجاج ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کوئی چار روز پرانا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ 1947 سے چلا آرہا ہے اور جانے کب تک چلے۔ اس دوران مقبوضہ علاقے میں ہونے والے مسائل اور مظالم صرف اور صرف وہ جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں یا جن کے پیارے وہاں موجود ہیں۔ میں، آپ، یا کوئی بھی تیسرا جس کو براہ راست اس صورتحال سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ کشمیر پراپنی آواز اٹھانے سے پہلے ایک دفعہ اچھی طرح سوچ لے۔

ہمیں اپنے وزیر اعظم کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں، خصوصی طور پر ان کی تقاریر پر۔

دو روز پہلے خان صاحب نے سرکاری سطح پر آ کر کوئی بائیس منٹ قوم سے خطاب کیا جس کا مرکز کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت تھی۔ جس روز یہ تقریر نشر ہوئی ہے، اسی دن فرانس میں G 7 سمٹ ہو رہا تھا، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ کشمیر پر گفتگو کر رہے تھے۔

جہاں پاکستان کو ملک ملک جا کر کشمیر کے لئے جگانا پڑ رہا تھا، وہیں بھارت اپنی معاشی اور سماجی استحکام کی بنیاد پر G 7 میں اپنا موقف رکھ چکا تھا۔ یہ پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ایسے وقت میں کون اس کے ساتھ ہے۔

تقریر میں خان صاحب نے کہا کہ آج بھلے کوئی ہمارے ساتھ نہ ہو، لیکن کل ہوں گے ۔ انہوں نے بوسنیا کی مثال دے کر کہا، تب بھی دنیا بالاخر بوسنیا کی مدد کو آگئی تھی۔ جناب والا، مدد اور آواز تب پہنچی تھی جب بوسنیا کی نسل کشی اپنے اختتام پر تھی۔ گھر لٹ چکے تھے، عزتیں پامال ہو چکی تھیں، اورکئی نسلوں کا خون جم چکا تھا۔

کیا امّت مسلمہ بھی تب جاگے گی جب کشمیر کی آگ ٹھنڈی ہوچکی ہوگی؟
یا شاید کشمیر کو امّت کے کھوکھلے وجود کی ضرورت ہی نہیں۔ کشمیر تو انصاف اور خودمختاری کی تلاش میں ہے۔

بحیثیت قوم ہمارے لئے آسان ہے شاہ رخ خان، پریانکا چوپڑا یا کسی بھی اداکار پر انگلی اٹھانا۔ ایسا نہیں کے ان کا اخلاقی فرض نہیں ہے لیکن اداکار، فنکار لوگوں کے ہاتھ میں فیصلہ سازی نہیں ہے، وہ طاقت نہیں ہے جو سعودی عرب یا متحدہ عرب امارت کے پاس ہے، یا روس کے پاس ہے۔

کیا ان میں سے کسی ملک نے آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملائی؟
کیا آپ بین الاقوامی سطح پر ان ممالک کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں؟

اس تقریر کی شروعات میں وزیر اعظم نے کہا، بھارت کو سوچنا چاہیے تھا پلوامہ حملہ کیوں ہوا؟ کیوں ایک نوجوان نے خود کو بم سے اڑا لیا؟

خان صاحب، یہی سوال اگر آپ سے کل کو اپنے لوگ کردیں تو؟ کیا جواب دیں گے آپ بلوچ نوجوانوں کو؟ کیا آپ اتنی ہی نرمی پشتون نوجوانوں کے لئے دکھائیں گے؟ کیا آپ ماروائے عدالت قتل ہونے والے مہاجر سے یہ پوچھیں گے؟

نہیں پوچھ سکتے!
دوسرے پر ایک انگلی اٹھانے کا مطلب ہے، چار آپ کی طرف ہیں۔

خان صاحب نے ریفرنڈم کا بھی ذکر کیا کہ کیسے مشرقی تیمور میں ریفرنڈم کی بنیاد پر آزادی ملی تھی۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ لفظ ریفرنڈم کا ذکر کرنے سے پہلے تھوڑا اغل بغل جھانک لیں۔ اگر آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان نے بھی ہاتھ اٹھا لیا تو ہم تو سیاحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

کشمیر میں جو ہورہا ہے وہ غلط ہے، انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

ہمیں ان کے لئے بحیثیت انسان آواز اٹھانی چاہیے، نہ کہ یہ کہنا چاہیے کہ آپ کشمیر کے سفیر ہیں۔ کشمیر، اور دنیا بھر کے کشمیری اپنی زمین کے سفیر خود ہیں۔ پاکستانیوں کو چاہیے جب وہ کشمیر کے احتجاجی مظاہروں میں جائیں تو اپنا جھنڈا نہ لہرائیں۔ ان کی آواز میں اپنی آواز ملائیں۔

”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ لگانے سے پہلے پوچھ لیں کیا انہیں پاکستان قبول ہے؟
خدارا، آپ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہوں، ان سے آگے نہیں۔ کشمیری جانتے ہیں انہیں کیا چاہیے۔ انہیں پاکستان سے ہدایت نامہ نہیں چاہیے۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی استحکامی کی جانب کام کرنا ہوگا جس کی بنیاد پرہی باقی ممالک سے دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے اور پاکستان کی آواز سنی جائےگی۔ پاکستان نے یقیناً متحدہ اقوام سیکورٹی کونسل تک کشمیر کا مسئلہ اٹھایا لیکن کوئی حل نہ نکل سکا، اس لئے اسے کسی بھی قسم کی کامیابی سمجھنا بیوقوفی ہوگی۔

مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر لانے کا سہرا صرف پاکستان کے سر نہیں جا سکتا۔ یہ نا انصافی ہوگی ان ہزاروں کشمیریوں، اور باقی قومیتوں کے ساتھ جنہوں نے ہر ممکنہ جگہ آرٹیکل 370 کی منسوخی پر آواز اٹھائی۔ یہ غلط ہوگا ان صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان کے ساتھ جنہوں نے بھرتی حکومت کے سامنے آواز اٹھائی اوراب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔

تقریر کا سب سے اہم حصّہ ”کھڑا ہونا“ تھا۔

ٹانگ اڑانے کے لئے ضروری ہے ٹانگوں کا مضبوط ہونا۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ تمام پاکستانی جمعے کو بوقت زوال تیس منٹ کشمیر کے مسئلے کے لئے کھڑے ہوں گے ۔

اگر آئنسٹائن یا نیوٹن زندہ ہوتے تو خان صاحب کے تجویزکردہ حل کی منطق پر دھیان کرتے۔ چونکہ وہ نہیں ہیں اور ہمارے پاس اتنا دماغ نہیں ہے اس لئے ہم صرف کشمیر کے حق میں دعا کر سکتے ہیں اور ان کے ہم آواز بن سکتے ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی امید کر سکتے ہیں کہ بھارت جمہوریت کا اطلاق کرے، حب الوطنی کا نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •