بہن جگمیت کور میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بار سرحد کے اس پار سے ایک اچھوتا پیغام آیا تھا۔ 5 اگست کو انتہا پسند ہندو اتحاد کی سربراہی والی بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ہٹاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ جنونی ہندو جشن منانے لگے اور کشمیری خواتین کے بارے اپنے دل میں چھپی سفلی خواہشات زبان پر لے آئے۔ کئی بدبخت تو سر عام کشمیری لڑکیوں کو زبردستی اٹھا کر ان کو اپنی بیویاں بنانے کے ارادے کا اظہار بھی کرنے لگے۔

ایسے میں جموں کی سکھ برادری کے سرکردہ افراد آگے آئے اور ایک زبردست پریس کانفرنس میں آر ایس ایس کے غنڈوں کو اپنے ارادوں سے باز رہنے کے لئے نہ صرف یہ کہ خبردار کیا، بلکہ کشمیری مسلمانوں کی بہنوں بیٹیوں کو اپنی بہنیں بیٹیاں قرار دیتے ہوئے ان کی عزت کی حفاظت کے لئے کٹ مرنے کا عہد بھی کیا۔ جب بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے متعلق اپنے آئین کی دفعہ 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کیا، تو اس کے ساتھ ہی کشمیر میں کرفیو لگا دیا اور فون اور انٹر نیٹ کی سروسز بند کر دیں۔

ایسے وقت میں کشمیر سے باہر بھارت میں زیر تعلیم طلباء و طالبات پریشانی کے عالم میں کشمیر واپس لوٹنے لگے۔ سرینگر ائرپورٹ پر ایسی کئی طالبات آ کر وہیں رکنے پر مجبور ہو گئیں کیونکہ سخت ترین کرفیو اور لاک ڈاون کی وجہ سے آگے گھر جانے کے لئے کوئی بھی ذریعہ دستیاب نہیں تھا۔ ایسے حالات میں ایک بار پھر سکھ نوجوان اپنی گاڑیاں لے کر سرینگر ائر پورٹ پہنچے اور اپنی مسلمان بہنوں کو اپنی حفاظت میں پورے عزت و احترام سے ان کے گھروں میں پہنچایا۔

ایسے کئی مناظر عالمی نشریاتی اداروں کے ذریعے سے دیکھنے میں آئے، جن میں کشمیری لڑکیاں پورے اعتماد سے دشوار گزار پہاڑی پگڈنڈیوں پرآگے آگے چلتی ہوئی جا رہی ہیں اور سکھ نوجوان اپنے دونوں ہاتھوں میں ان کا بھاری سامان، بیگ اور سوٹ کیس اٹھائے سر جھکائے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے جا رہے ہیں اور ان کو ان کے والدین کے حوالے کر کے خاموشی سے واپس لوٹ رہے ہیں۔ یہ مناظر ساری دنیا نے دیکھے اور سکھ قوم کے نوجوانوں کے ان اقدامات کو پوری دنیا میں سراہا گیا۔ سکھ بھائیوں نے جیسے کہا ویسے کر کے بھی دکھایا۔ سکھ نوجوانوں کے اس اقدام نے بلاشبہ سرحد کے دونوں پار رہنے والے مسلمانوں کے دل موہ لئے تھے۔

اب ایک جوابی پیغام سرحد کے اس پار بھیجا گیا ہے، جس نے سکھ کمیونٹی کے اندر تو آگ لگا ہی دی ہے، اس کے ساتھ ساتھ سارے پاکستانی مسلمانوں کے سر بھی شرم سے جھکا دیے ہیں۔

بھگوان سنگھ اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ ننکانہ صاحب میں رہتے ہیں۔ یہ گردوارہ جنم استھان بابا نانک جی کے ہرگرنتھی بھی ہیں۔ یہ وہی گوردوارہ ہے جو دنیا بھر کے سکھوں کے لئے مسلمانوں کے مکہ کی طرح مقدس ہے، جس کے درشن کرنے دنیا بھر سے سکھ ہر وقت پاکستان آتے رہتے ہیں، جس کی طرف رخ کر کے وہ ماتھا بھی ٹیکتے ہیں۔ غالباً تین دن پہلے کی بات ہے، اس سکھ گھرانے کے مرد کسی کام کے سلسلے میں گھر سے دور تھے گھر میں صرف خواتین تھیں، جب رات اڑھائی بجے کے قریب نام نہاد مسلمان غنڈے حسان ولد ذوالفقار وغیرہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس گھر میں داخل ہوئے اور بھگوان سنگھ کی چھوٹی بیٹی جگمیت کور کو زبردستی اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

اس موقع پر لڑکی کے ساتھ ہی سونے والی اس کی شادی شدہ بڑی بہن نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے سختی سے زدوکوب کیا گیا، جس سے اس کے ہاتھوں اور کلائیوں پر زخم بھی آئے۔ اس واردات کے فوراً بعد اسلام کے متوالوں نے لڑکی کے قبول اسلام اور نکاح کی ویڈیو بھی جاری کردی، جیسا کہ داعش اور اس قبیل کے دیگر داعیان اسلام خود کش حملہ آور کی، یا کفار کے سر بریدہ کرنے کی جاری کرتے ہیں۔ اس ویڈیو میں سہمی ہوئی لڑکی صاف لگ رہا ہے کہ رٹے رٹائے جملے بول رہی ہے، کہ اس کے اوپر کوئی دباؤ نہیں ہے اور نام نہاد مبلغ اسلام کی بھی صرف آواز ہی سنائی دے رہی ہے، جو دوسروں کی ہتھیائی ہوئی بیٹی کا اس طریقے سے نکاح پڑھا کر اپنے لئے جنت پکی کر رہا ہے۔

ایسی ہی ویڈیوز کی وجہ سے تو پوری دنیا میں اسلام کا ”بول بالا“ ہو رہا ہے۔ اس سانحے کے بعد مظلوم خاندان کبھی تھانوں تو کبھی ڈی سی او آفس میں خجل خوار ہو رہا ہے۔ ابھی تک کہیں پر ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ تنگ آ کر لڑکی کے بھائی سویندر سنگھ نے پورے خاندان کے ساتھ کھڑے ہو کر اس ظالمانہ واقعے کے بارے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اسے وزیراعظم کو انصاف کی دہائی دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے انصاف نہ ملنے کی صورت میں 31 اگست کو گورنر ہاؤس کے سامنے خود سوزی کی دھمکی بھی دی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں لڑکیوں کے اغوا اور ان کے جبری مذہب کی تبدیلی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سندھ میں پھچلے کئی سالوں میں سینکڑوں ہندو لڑکیاں اسی طرح سے اسلام کا نام لے کر ہوس رانی کے لئے اٹھائی جا چکی ہیں۔ البتہ پہلے اس قبیح فعل کی خبریں زیادہ تر اندرون سندھ کے دور دراز کے علاقوں سے آتی تھیں۔ اب پنجاب میں بھی یہ گندہ کھیل شروع ہو گیا ہے۔ سکھ پاکستان کی قدرے چھوٹی اور انتہائی پر امن برادری ہیں۔

2001 میں پاکستان کے قبائلی علاقے وادی تیراہ میں ایک چھوٹی سی آبادی میں سکھوں کے چند گھر انے آباد تھے۔ ایک دن پانچ یا چھ سال کی عمر کی ایک سکھ بچی اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی ہوئی پڑوسی مسلمانوں کے گھر چلی گئی، اس بچی کو وہی پر روک لیا گیا کہ یہ بچی اب مسلمان ہو چکی ہے۔ وہاں پر چونکہ پولیس اور عدالتوں کا عمل دخل نہیں تھا تو اس بچی کے والدین اور دیگر رشتے دار مقامی مسجد کے مفتی کے پاس گئے اور اسے یہ داستان سنائی مفتی نے فتویٰ دے دیا کہ ”اتنی چھوٹی بچی کو اسلام قبول نہیں کروایا جا سکتا۔“

اتنے میں بچی کو اسلام کے نام پر محبوس کرنے والے بھی مفتی کے پاس اسلام کا مقدمہ لے کر پہنچ گئے۔ ان کی بات سننے کے بعد مفتی نے فتویٰ تبدیل کرتے ہوئے بچی کو مقامی مدرسے میں بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا کہ بچی ابھی بالغ نہیں ہے، جب سولہ سال کی ہو جائے گی تو اس وقت اس سے ہی پوچھ لیا جائے گا کہ وہ اب کہاں جانا چاہتی ہے۔ اس طرح کے انصاف کے بعد ایسے گھرانے ان علاقوں کو جہاں قانون کی عمل داری ہی نہیں تھی چھوڑ کر پنجاب میں آ کر آباد ہونے لگے تھے۔ پاکستانی سکھ برادی ننکانہ صاحب کو پاکستان کے باقی علاقوں کے مقابلے میں قدرے محفوظ سمجھتی تھی لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اب یہاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

پتا نہیں کتنے بھائی اور کتنے باپ اپنی اس بیٹی جگمیت کور کے لئے آواز اٹھائیں گے، اور کتنے بے شرم اسے کفر اور اسلام کا معرکہ مان کر لٹھ اٹھا کر دوسروں کی بیٹیاں ہتھیانے والے حیوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے لیکن تاریخ اس طرح کے واقعات کو ضرور یاد رکھے گی کہ جب ایک طرف والے اپنی بہنوں کو غنڈوں سے بچا رہے تھے، ان کی عزتوں کی رکھوالی کر رہے تو اسی وقت دوسری طرف والے اپنی بہنوں کے سر سے چادریں اتار رہے تھے اور ا نہیں مذہب کے لبادے میں پامال کر رہے تھی۔ میری بدقسمتی کہ میں انہی حیوانوں والی بستی میں رہتا ہوں اور میری چھوٹی بہن جگمیت کور میں شرمسار ہوں ہوں کہ میں تمہاری عزت کی حفاظت نہ کر سکا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •