کچے مکان میں رہنے والی پکے ایمان والیاں


آج دو دوستوں کے درمیان اختلافات کو لے کر وہ جنگ ہوئی، وہ گولہ باری ہوئی دونوں جانب سے کہ خدا کی پناہ۔ کوئی بھی اپنے فرقے پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دینا چاہتا تھا آخر ایک لمبی بحث کے بعد دونوں پرانے دوستوں نے ایک دوسرے کو بلاک کر کے اپنا اپنا ایمان بچا لیا۔ سارا دن ایک افسردہ سی کیفیت طاری رہی کہ بچپن کا یارانہ تھا اور بالغ النظری کی بھینٹ چڑھ گیا۔

اس موقعہ پر وہ دو گجریاں بڑی شد ومد کے ساتھ یاد آگئیں جنہیں ہم بچپن میں ہندو ماسیاں کہا کرتے تھے۔ ماسی نوراں اور منظوراں دونوں بہنیں تھیں اس زمانے میں تو بڑی بوڑھیاں دِکھتی تھیں نظر کو مگر اب یاد پڑتا ہے کہ چالیس پینتالیس کے درمیان تھیں۔ ہم لوگ قریبی قصبے سے شہر نکل مکانی کر آئے تھے۔ ابھی پوری طرح سے ہوش نہیں سنبھالا تھا۔ والد صاحب اسکول کے معیار سے مطمئن نہیں تھے۔ کچھ دیگر گھریلو مسائل بھی لاحق تھے۔ سو عمل درآمد کر لیا گیا۔ یار لوگوں کے آبائی مکانات قصبوں اور دیہاتوں میں واقع ہوتے ہیں مگر ہمارا شہر کے بیچوں بیچ مین روڈ پر تھا۔

کچھ یاد نہیں پڑتا کہ وہ کب اور کیسے ہمارے ہاں آنا شروع ہوئیں البتہ یہ یاد ہے کہ ان کا تعلق بھی اسی قصبے سے تھا۔ ہمارا شہر والا گھر چونکہ مین روڈ پر تھا سو قصبے والی گاڑیوں کی آمد ورفت سارا دن جاری رہتی۔ وہ دونوں بہنیں بہنیں بھی ہمارے گھر کے آگے اترتیں۔ بڑی بڑی پیتل کی چمکتی گرگابیں ان کے ساتھ ہوتیں۔ وہ اپنا فالتو سامان یہاں رکھ کر، ایک گرگابی سر پر اور ایک بغل میں دبا کر دودھ کی تقسیم کاری پر نکل جاتیں۔ دوپہر میں ان کی واپسی ہوتی تو اکثر کھانا تیار ہوتا۔ وہ زمانے کچھ اور تھے اگر گھروں میں لگ جاتا تو آنے والوں کو بھی شریک کر لیا جاتا۔ اکثر نہیں بھی کھاتی تھیں کہ اب گھر جاکر ہی کھائیں گی مگر کبھی شریک بھی ہو جاتیں۔ بس ایسے ہی چلتے پھرتے کانوں میں بات پڑی تھی کہ کبھی ہندو تھیں اب مسلمان ہو چکی ہیں۔

مجھے انسانی فطرت اور اسکی جانکاری میں ہمیشہ سے ہی دلچسپی رہی ہے۔ بڑی بہنیں والدہ کے ساتھ گھر داری سنبھال رہی ہوتیں اور وہ دونوں ہاتھ منہ دھو کر میرے ساتھ بیٹھ جاتیں، جیب میں سے قرآنی پارے کا خستہ حال سا نسخہ نکال کر مجھے آموختہ سناتیں اور ایک نیا حرف نئے سبق کے طور پر لیتیں۔ کافی دیر تک دہراتیں پر لفظ ان کے منہ پر نا چڑھتے کہ عمر کافی ہو چکی تھی اور الفاظ پہلے سے ان کے حافظے میں نہیں تھے۔ بہت وقت لگتا بار بار آواز دے کر ازسرِ نو درست ادائیگی کے لیے رجوع کرتیں۔ میں بہت نخرے دکھاتی، جھنجھلاتی، بچی ہی تو تھی۔ میں نہیں آرہی ماسی تم بار بار کیوں بلاتی ہو، اب جاؤ نا اپنے گھر وہاں یاد کر لینا۔ وہ بے بسی سے دیکھتیں اور سر جھکا کر میرے موڈ کا انتظار کرتیں۔ سورج غروب ہونے کے قریب پر واپسی کی راہ لیتیں۔

ہمارا فارم ہاؤس چونکہ ابھی تک قصبے میں موجود تھا سو آنا جانا لگا رہتا تھا۔ والد صاحب موسم کی سبزیاں اور پھل لگوا لیتے، سالانہ اجناس بھی کاشت ہوتیں سو چکر بھی لگتے رہتے۔ روز کا رابطہ رہنے سے مجھے ان کی ذات میں گہری دلچسپی پیدا ہوتی گئی تھی یا شاید اُنسیت۔ ایک دن والد صاحب فارم ہاؤس جانے والے تھے میرے اصرار پر مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ بڑا اچھا لگتا تھا جب چوکیدار کی بیوی ہمارے لیے اینٹوں کا چولہا بناتی۔ لکڑیوں کی آگ پر کچھ بناتی بہت مزے کا لگتا ایک پکنک کا سا مزا آتا۔ گیٹ کھلا دیکھ کر ماسی نوراں بھی اندر آگئی اور میرے کہنے پر اپنا گھر دکھانے مجھے ساتھ لے گئی۔

دماغ میں کوئی واضح خیال تو نہیں تھا البتہ نوعمری والا بے پناہ تجسس ضرور تھا۔ لکڑی کا بھاری سا دروازہ دو قدمچے اتر کر کنڈی کھٹکھٹانے پر ماسی منظوراں نے کھولا۔ باہر تو اچھی خاصی روشنی تھی مگر اندر اندھیرے کا راج تھا۔ میں نے کہا کہ ماسی لائٹ جلاؤ نا تو وہ ایک لالٹین لے آئی۔ اس نے بتایا کہ میٹر تو جانے کب کا کٹ چکا ہمیں اب عادت ہو چکی ہے کون جائے دفتروں کے چکر کاٹنے اور پھر بل کا مفت کا خرچہ۔ گھر سے ملحقہ باڑے میں دو گائیں بندھی تھیں، ان کی روزی روٹی کا آسرا۔

باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ ماں باپ تو ہجرت کے وقت مر گئے، ہم دو بہنیں اور ایک بھائی اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ بھائی کو تو کسی بیماری نے لپیٹ لیا، ہم دونوں اکیلی رہ گئیں۔ شادی کون کرواتا؟ چند ہندو گھرانے تب سے اب تک محلے میں رہتے چلے آرہے ہیں۔ مسلمانوں کے اچھے سلوک سے متاثر ہوکر اسلام قبول کر لیا پر مشکلات نے دروازہ پکڑ لیا۔ گاہے بگاہے ہندو مامے چاچے دھمکیوں کی صورت رشتہ داری ثابت کر جاتے ہیں تاکہ مکان پر قبضہ جما سکیں۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے خار کھائے رہتے تھے۔ بس کسی نا کسی بہانے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ مچا کر چلے جاتے۔

مسلمان ہونے پر مولوی صاحب نے قرآن کے دو نسخے تحفۃً عطا کئے تھے، وہ بھی رشتہ داروں نے شہید کر دیئے تھے۔ بلوے کے ڈر سے انہوں نے یہ بات محلے میں تو کسی کو نہیں بتائی تھی لیکن مجھے بے ضرر سمجھتے ہوئے یا پھر گفتگو کے تسلسل اور جذبات کی روانی میں ان کے منہ سے نکل گئی۔ آنکھوں میں موٹے موٹے چمکتے آنسو آج بھی پوری آب و تاب سے میرے سامنے آگئے ہیں۔

وہ بیچاریاں ایک مسلمان ملک میں، مسلمان محلے میں جہاں ان کے چند ہندو رشتہ دار بستے تھے، بڑی ایمانداری سے اپنا ایمان چھپائے پھر رہی تھیں۔ وہ جاہل عورتیں آج اچانک یاد آئیں تو بے ساختہ ان کی عظمت کو سلام کرنے کو جی چاہا۔ وہ اپنی بستی سے دور شہر میں اسی لالچ میں دودھ فروخت کرنے آتی تھیں کہ قرآن کا سبق بھی لے لیں گی اور وہاں کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ دونوں بہنوں کی آرزو تھی کہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ قرآن مجید پورا ختم کر لیں۔ نماز ان کو نہیں آتی تھی، جمعہ کے دن والدہ کے ساتھ کھڑی ہوکر پڑھ لیا کرتیں اور بہت خوش ہوتیں۔ اب یاد پڑتا ہے کہ جمعہ کو بڑے اہتمام سے نہائی دھوئی آیا کرتی تھیں۔ دنداسے، سرمے کا استعمال بھی خوب کیا ہوتا کہ آج تو مولا پاک کے دربار میں حاضری کا دن ہے بڑی عظیم لگتی ہیں اب۔ سپاروں کو پلاسٹک شیٹ میں لپیٹ کر صدری کی بڑی جیب میں رکھتیں۔ گھر چھوڑ کر نہیں آتی تھیں۔ ان کا یہ جملہ کافی بڑی ہونے پر سمجھ میں آیا کہ یہی تو ایمان کا سارا اثاثہ ہے جو ہم جیب میں ساتھ لئے پھرتی ہیں، کوئی رشتہ دار پھر ناں شہید کر دے۔ کیا ان کا جذبہ ایمانی تھا کہ ہمارے پاس تو معمولی سا ایمان ہے اسی کو بچا کر اور اسی کے ذریعے سے آخرت میں بیڑا پار ہوگا۔ نا بچہ تم لوگ تو پرانے مسلمان ہو بڑے مضبوط اعتقاد والے، اصلی اور نسلی ہو سیدھا جنت میں جاؤ گے۔

کٹر نسلی اور اصلی مسلمانوں کا تو پتہ نہیں البتّہ دل گواہی دیتا ہے کہ ان کا وہ معمولی سا ایمان روزِ قیامت ان کی نجات کا ذریعہ بن جائے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “کچے مکان میں رہنے والی پکے ایمان والیاں

  • 01/10/2016 at 3:47 شام
    Permalink

    ایمان افروز بیان !
    اللہ کریم ان پکے ایمان والیوں کو جنت اور ہم سب کو ہدایت عطا کرے۔
    آپ کا شکریہ

Comments are closed.