پاکستان امریکن کمیونٹی۔ مسائل اور امکانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ سب کا ہمسایہ ہے اور بعض مقامات پر ہمسائے سے بڑھ کر شراکت دار بھی ہے۔ ایسا شراکت دار جو زیادہ تگڑا ہو مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ عشروں سے موجود پاکستانی کمیونٹی نے نہ تو امریکہ میں بطور امریکی اپنی ایسی شناخت قائم کی کہ جو ہزاروں کلو میٹر دور موجود پاکستان کے لئے فائدہ مند ہوتی اور شناخت تو بہت دور کی بات ہے وہ تو امریکی معاشرے میں ان کے ہمسائے کا بھی کردار حاصل نہ کر سکیں۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی کی خوشی کے مواقع ہو یا خدانخواستہ کوئی تکلیف ہو عام امریکی ان کے امور سے غافل ہیں اور یہ غفلت لا تعلقی کو جنم دیتی ہے جو کہ اب بہت توانا طور پر محسوس ہو رہی ہے۔

ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کوئی وہاں پر موجود پاکستانی کمیونٹی کے افراد متحرک نہیں ہیں وہ متحرک ضرور ہیں مگر اپنی کمیونٹی کی حدود کی حد تک بس متحرک ہے۔ پاکستانی سفارتخانوں سے پردیسی پاکستانیوں کو ہر جگہ پر شکایات ہیں سو یہاں بھی ہے مگر امریکہ کی اہمیت کے پیش نظر معاملہ صرف سفارتخانے کی حد تک نہیں چھوڑا جانا چاہیے بلکہ اس کے لئے علیحدہ سے حکمت عملی تیار ہونی چاہیے۔ پاکستان کے بہت سے لوگ جو متحرک ہیں ان کو درست سمت دکھانے کی بھی ضرورت ہے۔

میں جن دنوں امریکہ تھا تو وہاں کے مقامی گوروں سے ملاقاتوں کا ایسا سلسلہ جاری رہا کہ بہت کم پاکستانی امریکیوں سے ملاقات ہو سکی۔ بلکہ نہ ہونے کے برابر ہی ہوئی۔ لیکن کچھ افراد کا نام سنا ضرور ہے کہ ان افراد کو خود بھی اپنی سرگرمیوں میں جدت لانی چاہیے کہ امریکی معاشرہ متوجہ ہو اور حکومت کو بھی ان سے روابط بڑھا کر ریاستی سطح پر معاملات کرنے چاہیں۔

مثلاً نیویارک میں پاکستان ڈے پریڈ ہوتی ہے۔ اچھا خاصا انتظام کیا جاتا ہے۔ وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ احمد جان اس کا انتظام کرتے ہیں اور اب تو پاکستان ڈے پریڈ ان ہی وسائل کے خرچ کے ساتھ جگہ جگہ ہوتی ہے۔ مگر اس کو مزید بہتر اور با اثر کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ڈے پریڈ جتنے شہروں میں ہوتی ہے وہاں پر ان کا کوئی مشترکہ تھیم نہیں ہوتا۔ مشترکہ تھیم ہو اس کو مشتہر کیا جائے تو عام امریکی بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کریں گے۔ آپ اپنا کوئی پیغام گورے امریکیوں تک پہنجا سکیں گے۔ میری معلومات ہیں کہ اس کے آرگنائزر بہت دل جمعی سے یہ کام سر انجام دیتے ہیں۔ بس کچھ مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

امریکی معاشرے میں قابل قدر حصہ بنانے کے لئے بھارت کے ایک اقدام کی نقل کی بہت ضرورت ہے۔ جو پاکستانی کمیونٹی با احسن طریقے سے سر انجام دے سکتی ہے۔ بھارت نے امریکی تھنک ٹینکوں میں اپنے افراد کی جگہ بنانے کی غرض سے ان کو تھنک ٹینکوں میں انٹرن شپ دلائی۔ معاوضہ ان کو تھنک ٹینک ادا نہیں کرتے تھے بلکہ بھارت ادا کرتا تھا۔ آج وہ لوگ کلیدی عہدوں پر موجود ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی کے اراکین پاکستان میں سکولوں کی حالت پر کام کر رہے ہیں۔ طلحہ خان تو بہت بڑھ چڑھ کر کر رہے ہیں۔ مگر اگر اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے اس ماڈل کو اپنا لیا جائے اور پاکستانی طلباء و طالبات کو وہاں پر مواقع دلوائے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ چند ہی برسوں میں یہ کلیدی عہدوں کو سنبھالے ہوئے ہوں گے۔

نیو جرسی ایڈیسن میں ڈاکٹر صفدر خان جیسے لوگ ہیں جن کو امریکہ اور چین کو سکالرشپس دینے کے لئے توثیق کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ انہوں نے بہت ساروں کو سکالر شپ دلائی بھی ہے مگر سفارتخانے کی جانب سے صرف سرد مہری کے اور کچھ نہیں۔

اسی طرح وہاں پر ایسے لوگ موجود ہیں جو سماجی فلاح کے حوالے سے اپنا ایک مقام بنا چکے ہیں۔ پاکستان میں یہ نہ ہونے کے برابر ہی ہوگا کہ کسی ریسٹورنٹ کے باہر لکھا ہو کہ جس کے پاس کھانے کو پیسے نہیں وہ آ کر کھا لے اور بچوں کے لئے پیک بھی کروا لے۔ واشنگٹن پوسٹ نے جب ایک پاکستانی ریسٹورنٹ سکینہ گرل کے مالک قاضی کو یہ کرتے ہوئے دیکھا تو پوری سٹوری چھاپ دی کہ حیرت ہے کہ یہ کاروبار کیسے کر رہے ہیں۔ اور واشنگٹن پوسٹ کے بقول کما بھی اچھا خاصا رہے ہیں۔

اگر ایسے لوگ جن کی ایسی شخصیت بن چکی ہے کو درست انداز میں استعمال کیا جائے تو کمیونٹی کے بارے میں رائے بہت مثبت تشکیل پا سکتی ہے۔ مثبت رائے تشکیل دینے کے لئے پوری دنیا میں اہم میڈیم صحافت ہی ہے۔ محسن ظہیر، انور اقبال، فاروق مرزا اس ضمن میں کام بھی کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے نوجوان پاکستانی جو صحافت کا پیشہ وہاں اختیار کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر پرانے صحافی حضرات مؤثر تنظیم سازی کریں۔

معتبر امریکی اخبارات تک رسائی حاصل کریں یہ سب ممکن ہے۔ بات کوشش کی ہے۔ میں نے جب سیمینار کا انعقاد کروایا تو وہاں پاکستانیوں نے اس کا اظہار کیا کہ کوئی گورا امریکی ہماری دعوت پر نہیں آتا۔ اس لئے سیمینار نہ رکھیں آپ کی دعوت پر بھی نہیں آئے گا۔ میں مسکرا دیا اور جب سب گورے آ گئے تو ان کو کہا کہ بس محنت اور موضوع میں جان ہونی چاہیے سب آ جاتے ہیں۔ سب کچھ ممکن ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔

یہ بات میں نے نیو یارک کے معروف سکالر جیمس ٹراؤب سے پوچھی تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کے لوگ کوشش ہی نہیں کرتے۔ کوشش کریں گے تو روابط بنائیں گے۔ اپنی ضرورت ثابت کریں گے تو ہر کوئی آ سکتا ہے۔ مگر یہاں تو آپ کے لوگ باہمی سیاست اور ایک دوسرے کو بس نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ یہ جگہ پاکستانی سیاست کے لئے نہیں ہے۔ میں اب اس کو کیا جواب دیتا۔ کیونکہ اسی دن عمران خان نے امریکہ میں ایک جلسے سے خطاب کیا تھا اور ایئر کنڈیشنر ”اتارنے“ کا اہم ترین اعلان کے لئے امریکہ کو مختص کیا تھا۔ جب اس سطح پر یہ ہو تو باقی کسی کو کیا کہنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •