انڈیا کے جج کو ملزم کے ٹالسٹائے کے ناول پڑھنے پر اعتراض کیوں ہے؟

راجیش پریہ درشی - ڈجیٹل ایڈیٹر بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وار اینڈ پیس
ٹالسٹائے ایک ایسی زندگی کا تصور کرتے تھے جس میں نفرت کو محبت سے جیتا جا سکے

انصاف کی مورت کہے جانے والے ججوں سے نہ صرف انصاف بلکہ سمجھداری کی بھی امید کی جاتی ہے کیونکہ سمجھداری کے بغیر انصاف کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟

پچھلے کچھ عرصے میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے جس طرح کے فیصلے سنائے ہیں اور جس طرح کے تبصرے کیے ہیں وہ حیران کر دینے والے ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کنہیا کمار کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت کرنے والی جج نے اپنے فیصلے کی شروعات ہندی فلمی گانے ’میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے اگلے ہیرے موتی‘ سے کی تھی۔

جج پرتیبھا رانی نے کنہیا کمار کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئِے انھیں اداکار منوج کمار سے دیش بھکتی یا حب الوطنی کا سبق لینے کی نصیحت بھی کی تھی۔

لیو ٹالسٹائے
ٹالسٹائے ایک لبرل خیالات کے حامی اور سیکولر مصنف تھے

اسی طرح راجستھان ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج مہیش چندر شرما نے ’مورنی کے حاملہ ہونے کے راز‘ سے پردہ اٹھایا تھا۔ اب ایک جج نے ایک اور کیس کے دوران ملزم ورنن گونزالویس سے پوچھا ہے کہ ان کے گھر پر معروف روسی مصنف لیو ٹالسٹائے کی کتاب ’وار اینڈ پیس‘ کیوں رکھی ہوئی ہے۔

اور اگر انڈیا کے ایک مرکزی وزیر ملک کی سب سے اچھی ساکھ والے تعلیمی اداروں میں سے ایک انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کے انجینیئروں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ ایٹمی مالیکیولز کا انکشاف سادھوؤں اور سنتوں نے کیا تھا اور یہ کہ گائے آکسیجن لیتی اور آکسیجن ہی چھوڑتی ہے، تو باقی تو معمولی باتیں ہیں۔

گونزالویس اور ان کے کچھ ساتھیوں پر 31 دسمبر 2017 کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی تقاریر کے سبب بھیما کورے گاؤں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔

ہائی کورٹ کے جج سارنگ کوتوال نے گونزالویس سے پوچھا کہ ’آپ نے ’وار اینڈ پیس‘ جیسی قابلِ اعتراض کتاب اپنے گھر میں کیوں رکھی ہوئی ہے، آپ کو عدالت کو اس بات کا جواب دینا ہوگا۔‘

گاندھی
ٹالسٹائے گاندھی سے چالیس سال بڑے تھے اور گاندھی نے ان کا تذکرہ ایک عظیم انسان کے طور پر کیا ہے

اسی طرح ان جج نے کچھ سی ڈیز اور دیگر کتابوں پر بھی اعتراض کیا۔ لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ انڈرسٹینڈنگ آف ماؤسٹس جیسی کتاب پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے پڑھنے والا ماؤ نواز ہی ہو۔

آپ کے بک شیلف پر اکثر ایڈولف ہٹلر کی آٹو بائیو گرافی ’مِین کامف‘ سجی ہوئی نظر آئے گی، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا یہودیوں کے قتلِ عام کا منصوبہ بنا رہا ہے؟

دنیا بھر میں کسی بھی زبان میں لکھی جانے والی ادبی کتابوں کی فہرست ٹالسٹائے کے دو ناولوں ’وار اینڈ پیس‘ اور ’اینا کارینینا‘ کے بغیر نا مکمل تصور کی جاتی ہے لیکن جسٹس کوتوال نے یہ نہیں بتایا کہ وار اینڈ پیس کو وہ کس لحاظ سے قابِل اعتراض کہہ رہے ہیں۔

ٹالسٹائے گاندھی سے عمر میں 40 سال بڑے تھے اور گاندھی جی نے کئی بار ان کا ذکر عدم تشدد، محبت اور امن کے حوالوں سے اور ایک عظیم انسان کے طور پر کیا تھا۔

وار اینڈ پیس
وار اینڈ پیس نا انصافی اور ظلم کا خوفناک چہرہ دکھاتی ہے

ٹالسٹائے نے یورپی تاریخ کا سب سے خون ریز دور اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے مگر انھوں نے اپنی تمام زمین عطیہ کر دی تھی اور اپنے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا تھا۔

اپنی زندگی میں ایک سنیاسی کی طرح رہنے والے ٹالسٹائے ایک ایسی زندگی کا تصور کرتے تھے جس میں نفرت کو محبت سے جیتا جا سکے۔

وار اینڈ پیس نیپولین کے دور میں روس پر ہونے والے فرانسیسی حملے، جاگیردارانہ نظام، نا انصافی اور مظالم کی کہانی ہے۔پہلے یہ ناول قسطوں میں چھاپا گیا تھا مگر اب ایک کتاب کی شکل میں موجود ہے۔

ان کا یہ ناول دنیا کی سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔

گاندھی جی کو قتل کرنے والے نتھو رام گوڈسے کے دور میں گاندھی اور ان کے استاد ٹالسٹائے کا ناول قابلِ اعتراض لگ سکتا ہے۔

وار اینڈ پیس

ٹالسٹائے کا انتقال میں 1910 میں ہوا جب گاندھی اپنی مقبولیت کی بلندیوں پر تھے۔ 9 ستمبر 1928 کو ٹالسٹائے کی سوویں سالگرہ کے موقع پر گاندھی نے کہا تھا ’انھوں نے جو سکھایا ویسی ہی زندگی بسر کی۔ ان کی سادگی غیر معمولی تھی اور وہ بغیر کسی سمجھوتے کے سچائی کے راستے پر چلتے تھے۔ وہ اپنے دور میں عدم تشدد کے سب سے بڑے پیروکار تھے۔‘

یہ پہلی بار نہیں ہوا جب ماؤ ژی تُنگ کی بائیو گرافی یا چے گوئرا کی موٹر سائیکل ڈائری کی برآمدگی کو کسی کے نکسل وادی ہونے کا ثبوت مان لیا گیا، جیسے قران یا اردو کے اخبار یا کسی مولوی کی کتاب کی برآمدگی کو کسی کے اسلامی دہشت گرد ہونے کا پختہ ثبوت مانا جاتا رہا ہے۔

ایسے میں وار اینڈ پیس کو قابلِ اعتراض ہی کہا جانا چاہیے کیونکہ یہ نا انصافی اور ظلم کا خوفناک چہرہ دکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ جنگ کا انجام کتنا بھیانک ہوتا ہے۔

ٹالسٹائے ایک لبرل خیالات کے حامی اور سیکولر مصنف تھے لیکن یہ لبرل ہونے، یا انسانیت اور امن کی باتیں کرنے کا دور نہیں ہے۔ یہ نسلی و مذہبی تفریق اور منافرت پھیلانے کا دور ہے۔

اب وہ دور ہے جہاں گاندھی کو تحریک دینے والے ٹالسٹائے کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور گاندھی کو قتل کرنے والے گوڈسے کی کتاب ’گاندھی کا قتل اور میں‘ کی فروخت بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

اس سے ظاہر ہے کہ ہم کس دور میں جی رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9872 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp