حکومت اور فوج کا ایک ہونا کافی نہیں‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عجیب نعرہ ہے کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں لہذا ترقی کے لئے تیار ہو جائیں۔ جنگی ماحول بن رہا ہے تو کیا ہوا، حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ بھارت کشمیر ہڑپ کر رہا ہے، مت گھبرائیں، حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ او بھائی، حکومت اور فوج نہیں، قوم اور فوج کو ایک صفحے پر ہونا چاہئیے۔ حکومت تو محض ایک سیاسی پارٹی کی نمائندگی کر تی ہے، بائیس کروڑ کے ملک میں ڈیڑھ کروڑ ووٹ سے بھی کم ووٹ لینے والی پارٹی، فوج کو کیا طاقت دے گی، زیادہ سے زیادہ اپنا حلقہ اثر یا ووٹر اور بس۔ یا تمام سیاسی قیادت کو جنگ کے خطرے کے پیش نظر اپنے حلقہ اثر سمیت فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ہے؟ اور صرف قوم نے فوج کے ساتھ نہیں، فوج نے بھی قوم کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ یہ قومی مسائل ہیں، قومی ہنر اور ذہانت مانگتے ہیں۔ چند بنیادی اصولوں پر “ہم ایک ہیں” کا گانا گانے سے کوئی نہیں مانے گا کہ ہم واقعی ایک ہیں۔

تکبر کے بارےمیں اس سے زیادہ کچھ کہنا بے کار ہے کہ یہ جہالت ہے۔ جہالت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی لاعلم ہو بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حق اور سچائی سامنے آنے اور اس کو سمجھنے کے باوجود اس وجہ سےماننے سے انکار کر دینا کہ انا مجروح ہو جائے گی۔ ہم میں کون اپنی موت کا وقت اور وجہ جانتا ہے؟ کون ہے جو آنے والی صبح کی ضمانت دے پائے کہ وہ زندہ یا صحت مند رہے گا۔ کون نہیں جانتا کہ ہمیشہ رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ پھر بھی، طاقت، حسن یا دولت پر گھمنڈ محض جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔ قومی معاملات جن سے سب کی زندگی،موت، خوشحالی یا بد حالی جڑی ہو، وہ کسی ایک پارٹی پر کس طرح چھوڑے جا سکتے ہیں، اگر یہ ہی مطلوب ہو تو آمریت کیا بری ہے؟ کشمیر جیسا سلگتا ہوا نازک ایشو بھی اگر بر سر اقتدار پارٹی کو سیاسی حرکیات یا حقیقت دکھانے سے قاصر ہے تو پھر جان لیں کہ دور دور تک ایسا ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں۔ کشمیر کا نام کے کر آدھا گھنٹہ کھڑے رہنے کو ہی کافی جاننے والوں کو کیا کہوں، صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ اگر اس احتجاج میں تمام سیاسی قیادت اکھٹی ہوتی تو پھر قومی پیغام بھی جاتا، کل جو پیغام گیا وہ زیادہ سے زیادہ برسراقتدار پارٹی یا ان کے حامی حلقوں کی جانب سے تھا اور بس۔

لیکن کیا کریں کہ دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے خاموش انقلاب نے پرانے سیاسی ڈھانچوں اور روایتوں کو اس بری طرح روندا ہے کہ اب یہاں حیرت کیسی۔ کون سوچ سکتا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم اپنی پارلیمنٹ کو معطل کر دے گا۔ کسے خبر تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کا صدر بنے گا اور اپنے ہی ملک کا تماشا بنا ڈالے گا۔ بھارت میں مودی دوبارہ برسر اقتدار آئے گا اور کشمیری قوم، بھارتی سماج کے لئے ایک بھنا مرغ بن جائے گی۔ مگر یہ ہوا اور ہو رہا ہے۔ آگے بھی ایسی ہی توقعات رکھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ قدرت کے قوانین میں تبدیلی آ چکی ہے، تاریخ اپنی جگہ اٹل کھڑی ہے اور بتا رہی ہے کہ دیوانگی کا ایک انجام ضرور ہوتا ہے۔ جہالت کی قیمت بہرحال دینی ہوتی ہے اس سے بچت ممکن نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اپنے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے بھی ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، کون سا وہ تجربہ رہ گیا ہے جو ہم نے چھوڑا ہو؟ صالحین کی حکومت، منتخب، غیر منتخب، ملی جلی، سب تجربوں کا انجام سامنے ہے پھر بھی ہم کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔

چار موسم ہوں یا انتہائی اہمیت کے حامل راستے، قدرتی حسن کے شاہکار خطے ہوں یا زراعت کے لئے شاندار زمینیں۔ یہ سب قدرت کے انعام ایک غافل قوم کے لئے بے معنی ہیں جس کی مثال ہم خود ہیں کہ قدرت کی بے مثال مہربانیاں سب مل کر بھی بہتر سال میں خوشحال تو کیا، ایک مڈل کلاس معاشرہ بھی نہ دے سکیں اور نہ ہی آئندہ کچھ دے پائیں گی۔ سب سے ضروری کام اپنی نسلوں کی تربیت ہے، اس کی تعلیم ہے کیا یہ سمجھنا اتنا مشکل ہے کہ ہم سمجھ کر نہیں دے رہے۔ واقعی یہ سمجھنا مشکل ہے ہم نے تو عمل سے ایسا ہی ثابت کیا ہے۔ ایک لڑی میں پروئی قوم، تعلیم یافتہ قوم تو جنگل میں منگل بنا دیتی ہے۔ صحراؤں اور سخت موسموں سے لڑ کے فصلیں اگا ڈالتی ہے، زلزلوں کی سر زمین پر رہتے جاپانی قوم نے کیا بلندو بالا عمارتیں نہیں بنائیں؟ اسرائیل کس طرح فصلیں اگا رہا ہے اور پانی کی بچت کرتا ہے؟

مگر ظاہر ہے یہ ہمارا مسلہ ہی نہیں۔ ہم فلک شگاف نعرے لگانے میں مشغول ہیں۔

میرا گمان ہے کہ کشمیر کا مسلہ تو اب حل ہو گا، اس وقت ہم کشمیری عوام کی بہترین مدد اتنی ہی کرنے کے قابل ہیں کہ ہم ان پر ہونے والے مظالم کو کم یا ختم کروا سکیں، اگر ہم آج بھی لائین آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد ماننے کی پیشکش کر کے مقبوضہ کشمیر کا پرانا سٹیٹس بحال کروا سکتے ہیں تو ہمیں ایسا کر گزرنا چائیے۔ جس کے بعد امن اور خوشحالی کی امید کی جاسکتی ہے مگر یہ فیصلہ یا کوئی اور قابل عمل حل تجویز کرنے اور منوانے کے لئے جس قومی یک جہتی کی ضرورت ہے وہ یہاں اس وقت نظر نہیں آتی۔ کیا ہماری وجہ سے ہمارے دشمن رک جائیں گے یا اس کا فائدہ اٹھائیں گے؟ اور فائدہ اٹھائیں گے بھی کیا، اٹھا رہے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی کا جادو ایک مرتبہ پھر مڈل ایسٹ کے عرب ممالک میں جلوہ گر ہو رہا ہے، مطلب یہ کہ ہم جس رستے پر چلے یہ اس کا انجام یا نتیجہ ہے۔ اور ہم اس سے کیا سیکھ رہے ہیں، یہ کہ عرب ممالک ہی غدار نکلے، یا ہم سے کچھ غلط ہو ا ہے؟ اگر غلط ہوا ہے تو کیا؟

وقت نہیں کہ قومی قیادت مل بیٹھے اور ایک مرتبہ طے تو کرے کہ ہم کہاں کہاں غلط ٹھہرے جس کے انجام سے آج دوچار ہیں۔ کیوں ہمارے ملک کا پاسپورٹ دیکھتے ہی باقی دنیا کی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی بنیادی دستاویز اس کا آئین ہوتا ہے، ہم نے آدھا ملک گنوا دیا پھر کہیں جا کر آئین بنانے پر تیار ہوئے، یہ وہ وقت تھا کہ بحیثیت قوم ہم ان راستوں پر چلنے سے توبہ کر ڈالتے جن پر چل کر ہمارے غرور کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا،مگر نہیں۔ پہلے بھٹو صاحب کی سول آمریت چڑھی اور پھر باقاعدہ آمریت آ گئی۔ وہ وقت اور آج کا دن، نہ تو یہاں آئین کو عزت ملی نہ ہی اس کو توڑنے والوں کو سزا ملی۔ نتیجہ آج کی ہماری وہ شکل ہے جو ہمارے علاوہ باقی تمام دنیا کو نظر آتی ہے۔ ہم اپنے جائز حقوق سے محروم اور ہمارا ملک دنیا میں اس عزت سے محروم جس کا وہ مستحق ہے۔

ایک خاندان کو کس طرح رہنا چائیے اس کے بنیادی اصولوں پر تمام دنیا، بلا تفریق مذہب و رواج، اتنا تو متفق ہے نا کہ والدین کا احترام ہو نا چائیے۔ باہر کی مصیبت آنے پر، آپس کے جھگڑے ایک طرف رکھ کے ایک دوسرے کا ساتھ دینا چائیے۔ ایک دوسرے کی عزت کرنی چائیے وغیرہ۔ یہ بنیادی اصول اگر کسی خاندان میں نہ پائے جاتے ہوں، مثلآ، والدین کا احترام نہ ہو، اولاد پر ظلم و زیادتی ہو، اخلاقی اقدار نام کو نہ ہوں۔ محلے میں سب اس خاندان کے آپس میں جھگڑوں کی شکایت کرتے ہوں تو آپ ایسے خاندان میں رشتہ کرنے یا میل جول سے کترائیں گے نا؟ تو پھر باقی دنیا ہم ایسوں کی عزت کیوں کرے؟

ہم آئین نہ بنا سکے، آدھا ملک گیا۔ جو آئین بنایا اس کو دو ٹکے کا بنا ڈالا، قانون صرف عام آدمی کے لئے، آدھی سے زیادہ آبادی شدید غربت کا شکار، صحت، تعلیم آج بھی کسی ترجیحات کا حصہ نہیں، سڑکوں پر بھیک مانگتے بچے، بوڑھے اور عورتیں۔ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھے، اسی سے نا جس سے دیکھتی ہے۔ پھر کبھی یہودیوں کو الزام، کبھی ہندوؤں کو، کبھی اہل کتاب بھائی بھائی کبھی کافر، ہماری نفرت کا تازہ شکار عرب ٹھہرے ہیں اب ہم تمام سازشوں کا ذمہ ان پر ڈال دیں گے۔ کسے فرصت کہ رک کے دیکھ تو لے کہ ہمارا چال چلن کیا رہا اور کیا ہے۔

شادیانے بجانے والوں پر غور کریں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں تو در اصل وہ اپنی ناکامیاں فوج پر ڈال کر ڈرا رہے ہوتے ہیں کہ ڈنڈا ہمارے ساتھ ہے۔ او بھائی یہ ڈنڈا، کب مستقل طور پر کسی سیاسی جماعت کا یا لیڈر کا بنا ہے جو آپ کا بن جائے گا۔ یہ پاکستان کی فوج ہے اور اس کی ہی رہے گی۔ یقین نہیں آتا تو اپنے محبوب پنچ بیگ نواز شریف سے پوچھ لیں، یہ ڈنڈا کبھی معین قریشی یا شوکت عزیز کے ساتھ بھی تھا، آج وہ کہاں ہیں؟ یہ ڈنڈا اپنے ہم وطنوں پر ایک حد تک ہی چلا ہے اور اسی حد تک چلے گا، بات اگے بڑھی تو یہ ڈنڈا، اوپر کی جانب واپس گھومنا اچھی طرح جانتا ہے اور اس کا طویل تجربہ بھی رکھتا ہے۔ لیڈر شپ فوج نے نہیں حکومت کے آئینی وزیراعظم نے دینی ہے، وہ کہاں ہے؟ اگر آپ کے رہنے کا جواز صرف ڈنڈا ہے تو وہ ڈنڈا، آپ کے لئے کب تک چلے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •