افغان طالبان نے قندوز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی


افغان طالبان نے افغانستان کے شہر قندوز میں حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ قندوز میں حملے انہوں نے کیا ہے۔

آج صبح افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا تھا کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر ملک کے بڑے شہر قندوز پر حملہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ طالبان نے سویلین آبادی میں گھس کر حملے کی پوزیشن اختیار کی ہوئی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا تھا کہ ہ افغان سیکیورٹی فورسز طالبان کے اس حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اسٹریٹجک سنگم ہے جس کے ذریعے شمالی افغانستان کے بیشتر حصے اور دار الحکومت کابل تک آسانی سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہر کے ایک اسپتال پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں طالبان نے صوبہ تخار کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز کو نذر آتش کر دیا۔ اب طالبان نے افغانستان کے شہر قندوز میں حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی برائےافغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغان جنگ صرف تب ختم ہو گی جب تمام فریقین اس پر متفق ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں قندوز حملے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ انہیں بتایا ہے کہ قندوز حملے جیسے واقعات رکنے چاہیے۔ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ جنرل ملز نے آج قندوز کا دورہ کیا ہے اور ان کی توجہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت پر مرکوز ہے۔

Facebook Comments HS