ہماری عدلیہ کا وقار کیسے تباہ ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے جمہوری مملکت کے تین ستون جس زبوں حالی کا شکار ہیں اہل دانش و بصیرت خوب خوب اگاہی رکھتے ہیں کہ چوتھے ستون عدلیہ کی بدحالی کے اسباب وہی ہیں جنھوں نے انتظامیہ کو کام چور اور بدعنوان، مقننہ کو بازیچہ اطفال اور صحافت کو زیربار اور روبہ زوال کر رکھا ہے ۔شومئی قسمت سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک سوائے حامد خان کے کسی بھی دانشور یا وکیل نے عدلیہ کی بدحالی کے اسباب پر قلم نہیں اُٹھائی ۔

پاکستان کے پہلے چیف جسٹس عبدالرشید نے آزاد عدلیہ کی بنیاد رکھی اور اسے درست سمت فراہم کی مگر چیف جسٹس محمد منیر نے ”نظریہ ضرورت “ ایجاد کرکے عدلیہ کا رخ ہی تبدیل کردیا۔ چیف جسٹس کارنیلس نے مشکلات کے باوجود عدلیہ کا وقار بحال کیا۔ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں نیک نام منصفین انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جنھوں نے کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا مگر اُن کا انجام اچھا نہیں ہوا۔

نیک نام منصفین کو دوران ملازمت ہی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ۔ اگر کوئی اپنی مدت ملازمت پوری کر جاتا تو ازاں بعد اُسے کسی ٹربیونل کا سربراہ بنا کر اس پر غصہ اُتارا جاتا ۔جسٹس ایس اے رحمن 1968ء میں چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب سے ریٹائرڈ ہوتے ہیں وہ نیک نام منصف ہوتے ہیں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اگرتلہ سازش کیس کے ذمہ داروں کو تعین کرنے کے لیے سابق وفاقی وزیر قانون و ممتاز وکیل ایس ایم ظفر کی وساطت سے اُنھیں ٹریبونل کی سربراہی کرنے کی درخواست کی جاتی ہے وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ انتہائی پیچیدہ اور نازک سیاسی معاملہ ہے بہتر ہے کہ جج صاحبان ڈھاکہ ہائی کورٹ سے لیے جائیں اس پر ظفر صاحب دلیل پیش کرتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان اگر اسپیشل ٹریبونل کے چئرمین ہوں گے تو اس کے وقار و اعتبار میں اضافہ ہو گا جسٹس صاحب نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے سربراہی قبول کرتے ہیں ۔

جسٹس ایس اے رحمان مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں ڈھاکہ جاتے ہیں اور کئی روز قیام کرتے ہیں ۔1968ء میں ایوب خان اپنی دس سالہ ترقی کا جشن منایا عوام کے اندر شدید ردعمل ہوتا ہے ۔اگرتلہ سازش کیس کے مرکزی کرداروں تک پہنچا نہیں جاتا کہ سترہ فروری 1969ء کو اگرتلہ سازش کیس کے ملزم سارجنٹ کے ملزم ظہور الحق کو فرار ہونے کی کوشش پر گولی مار دی جاتی ہے۔ جسٹس ایس اے رحمان ڈھاکہ ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوتے ہیں ریسٹ ہاؤس پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے اور جج صاحب کو قمیض، پاجامے اور چپل میں جان بچانے کے لیے ملازمین کے کوارٹر میں پناہ لینا پڑی اس حادثہ کے بعد پُورا منظر نامہ تبدیل ہو جاتا ہے ۔ (حوالہ الطاف حسین قریشی کی کتاب: ملاقاتیں کیا کیا )

منصفین جب کسی مصلحت کا شکار ہوتے ہیں تو پھر وہ اپنے فرائض کماحقہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ انسان فطری طور پر لالچی ہوتا ہے دوران ملازمت یا ملازمت کے بعد اعلیٰ پوسٹ پر تعنیاتی بھی ذہن کے کسی گوشے میں اٹکی ہوتی ہے ۔

جسٹس منیر جب ایوب خان کے وزیر قانون بنے وہی جسٹس منیر جنھوں نے بطور چیف جسٹس نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور ایوب خان کے مارشل لاء کے حق میں فیصلہ سنایا۔ ایوب خاں نے اپنا شخصی آئین نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے جسٹس منیر سے اس کی آئین میں بنیاد اور جواز کے متعلق پوچھا تو اس پر جسٹس منیر نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ موچی گیٹ لاہور میں ایک جلسہ کریں پھر اسی طرح قصہ خوانی بازار پشاور اور ایک جلسہ پلٹن میدان ڈھاکہ میں کریں اور شرکاء سے ہاتھ کھڑا کروا کر اس آئین کی منظوری لے لیں اور کہا جا سکے گا کہ عوامی ریفرنڈم نے اس آئین کی توثیق کر دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایوب خاں جیسا ڈکٹیٹر بھی اس تجویز پر زوردار قہقہہ بلند کئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ وہ ذہنیت تھی جس سے نظریہ ضرورت نے جنم لیا اور آئینی جادوگر شریف الدین پیرزادہ نے ضیاء الحق سے لیکر پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کا حق سپریم کورٹ سے دلوایا۔

ممتاز قانون دان حامد خان اپنی کتاب  “A history of judiciary in Pakistan” میں لکھتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں منصفین کس طرح استعمال ہوتے رہے

مصنف نے بھٹو قتل کیس کے بارے میں پس پردہ محرکات بے نقاب کیے ہیں کہ کس طرح عدلیہ پر دباﺅ ڈال کر اسے مفلوج کیا گیا۔ جسٹس انوار الحق اور جسٹس مولوی مشتاق نے دباﺅ قبول کیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے سینئر ججوں کی حق تلفی کرتے ہوئے چیف جسٹس بننے کے لیے آصف زرداری کی کار کا دروازہ کھولا اور اس کے گھٹنوں کو چھوا۔ چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے نہ صرف جنرل مشرف کے مارشل لاءکو جائز قراردیا بلکہ اسے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ نے میاں نواز شریف کی حکومت (1993) بحال کرنے سے پہلے جی ایچ کیو فون کرکے آرمی چیف کی مرضی معلوم کی۔ جنرل وحید کاکڑ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا کہا۔

یہ وہ منصف تھے جو فیصلے پوچھ کر کرتے تھے ۔جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ میں مداخلت کا ذکر کیا تو اُنھیں مقام عبرت بنا دیا گیا ۔جسٹس فائز عیسیٰ کا انجام بھی شوکت صدیقی سے مختلف نہیں ہو گا۔ جو جج آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں اُنھیں یا تو تبدیل کر دیا جاتا یا پھر ارشد ملک جیسا انجام بنا دیا جاتا ہے ۔

انتقام پر مبنی نہیں، آئین اور قانون کے مطابق بلاتفریق عدل و انصاف جس معاشرے میں ہو رہا ہو، اُس معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیاں پنپتی ہیں ۔ ہم ماضی کی گئی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اور ہر ادارہ اپنی حدود و قیود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے تو ہمارا مُلک ترقی کی اوج ثریا پر پہنچ سکتا ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بشارت راجہ

بشارت راجہ رفاہ یونیورسٹی سے میڈیا سائسز میں ایم فل کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ بطور کورٹ رپورٹننگ کر رہے ہیں۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے بلاگ اور کالم بھی لکھتے ہیں۔

bisharat-siddiqui has 79 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui