ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک لڑکی بنی قندیل بلوچ، وہ اپنی ادنی حیثیت ہی بھول بیٹھی۔ اسے اپنی کسی غلطی کا احساس تک نہیں تھا، حالانکہ اس کی غلطیوں بلکہ جرائم کی لسٹ بہت لمبی تھی۔ سب سے پہلا جرم تو اس کا یہ تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ وہ ہمارے پاک اور غیرت مند معاشرے میں پیدا ہوئی ہے۔ وہ غریب گھر سے تھی۔ اس ماں بھی اس کے جرائم میں شامل تھی کیونکہ اس نے اس کے چھ بھائی پیدا کر دیے تھے۔ اب چونکہ وہ لڑکی تھی اور غریب کی بیٹی تھی تو معاشرے اور ریاست نے مل کر اس پر بہت احسان کیے ہوئے تھے۔ اس کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے قوانین وغیرہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیونکہ بغیر کسی قانون کے ہی اس کی ساری مرادیں اور خواہشیں پوری کر دی جاتی ہیں۔

سب رشتہ داروں نے مل کر اس کی شادی کی خواہش تو وقت سے بہت پہلے ہی پوری کر دی تھی۔ پھر کیا تھا اس پر نعمتوں کی بارش رکی نہیں، بیٹا بھی جلد ہی پیدا ہو گیا۔ یعنی ایک ہی وقت وہ بچی تھی اور ماں بھی۔ لیکن وہ لڑکی چونکہ غلطیاں اور جرائم کرنے کی عادی تھی تو اس نے وہ روش نہ صرف جاری رکھی بلکہ کہیں آگے بڑہ گئی۔ اب تو اس نے ظلم کے پہاڑ ہی ڈھا دیے۔ اپنی غربت زندگی سے تنگ آنے لگی حالانکہ وہ ایک عورت تھی اسے غربت کے دکھ محسوس نہیں ہونے چاہیے تھے لیکن اس نے غربت کی تکلیفوں کو محسوس کرنے کا جرم بھی کر ڈالا۔ اور یہی نہیں اپنی تکلیفوں کا اظہار بھی کر ڈالا۔

یہاں بھی رکی نہیں۔ اب باغی ہو گئی اور نکل پڑی اپنی قسمت کو بدلنے۔ اس کے سارے جرائم میں یہ سب سے بڑا جرم تھا۔ لیکن اس نے ٹھان لی کہ اس معاشرے کے احسان مزید نہیں لے گی اور کچھ الٹا ہی کر کے دکھائے گی، ہے نا بے وقوف کملی لڑکی۔ جلد ہی ہم نے اسے بتا دیا کہ ہم جہالت، مردانگی اور ثواب زدہ گھٹن کی پیداوار ہیں اور حوروں کے منتظر وہ نر مخلوق ہیں جو غیرت کے غبارے کو لمبا دھاگہ ڈال کے بیٹھے ہیں۔ ہم حاضر ہیں جب تک کہ کسی کو پتا نہ چلے کہ ہم کون ہیں اور غیرت کے غبارے کو کیسے رولتے ہیں، ہم حاضر ہیں۔ ہم حاضر ہیں کسی بھی جاندار مادی چیز کا گوشت نوچنے کو، بس بات باہر نہ نکلے۔ ہمارے ہاتھ سے غیرت کے غبارے کا دھاگہ چھوٹتے ہوئے کوئی دیکھ نہ لے۔ گوگل کے سالانہ سرچ کے اعداد و شمار اور دیواروں پر لکھے ہوئے طاقت کے نسخوں کے اشتہارات گواہ ہیں ہماری حسرتوں، کوششوں اور عظمتوں کے۔ بار بار کوشش کرنے کا گر مکڑی نے ہم سے ہی تو سیکھا ہے۔ یہ تو ہماری بڑائی ہے کہ ہم نے کریڈٹ مکڑی کو دے دیا ہے۔ اس نادان لڑکی کو بھی ہماری طاقت اور اپنی کمزوری کا اندازہ ہو گیا۔

بھلا ہو سوشل میڈیا کا، ساؤتھ پنجاب کی ایک نیم خواندہ لڑکی کو بھی یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنا نام پتا چھپا کر جسم ظاہر کر دے۔ ہم دل کے سخی مرد ہیں۔ ہم نے قندیل بلوچ کی ویڈیوز کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ لاکھوں لائیکس اور لاکھوں فینز۔ ہم میں جو جو بھی جتنا کچھ دے سکتا تھا دیتا گیا۔ قندیل بلوچ ہمارے درمیان گھر سے باہر ایک گھریلو نام بن گیا۔ ہم مردوں کی سخاوت اور بڑے پن کا خوب فائدہ اٹھایا قندیل بلوچ نے۔

قندیل بلوچ اتنا بڑا نام بن گئی کہ مین-سٹریم میڈیا نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔ ریٹنگ کو ہر چیز پر برتری حاصل ہے۔ اس کے لیے دوسروں کی جو بھی چیز قربان کرنا پڑے مین-سٹریم میڈیا اس میں کنجوسی دکھانے کا قائل ہی نہیں۔ قندیل بلوچ کو اہم ٹی وی شوز میں بلایا جاتا تاکہ اس کی خوبیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جا سکے۔ انہی ٹی وی شوز کے ذریعے لوگوں کو اندازہ ہوا کہ قندیل بلوچ کے پاس کوئی یونیورسٹی ڈگری نہیں ہے اور اس کی انگریزی تو میرا سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ سب کو پتا چل گیا کہ کسی غریب گھر سے آئی ہے۔ اب مین-سٹریم میڈیا میں دوڑ لگ گئی کہ کون اس بات کا کھوج نکالتا ہے کہ قندیل بلوچ کون ہے، اس کا اصلی نام کیا ہے، وہ کہیں شادی شدہ اور بچوں والی تو نہیں ہے، اس کے باپ دادا اور گھر کے باقی مردوں کے نام کیا ہیں اور گھر کا پتا کیا ہے۔ کیونکہ ایک عورت جو فیس بک پر اپنے جسم کی نمائش کرتی ہے، پرائیویسی اس کا تو حق ہی نہیں۔ اس کی کسی چیز کو بھی بغیر اجازت پبلش کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا نے محنت کی اور اس کا پھل پایا۔ ایک صحافی نے قندیل بلوچ کے پاسپورٹ کی کاپی چھاپ کر اپنی صحافتی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ کر ڈالا۔ قندیل بلوچ کی اصلی شناخت کا مسئلہ تو حل ہوا۔

مین-سٹریم میڈیا نے قندیل بلوچ کی طاقت ور کمزوری کا اور بھی فائدہ اٹھایا۔ اس کے ذریعے مفتیوں کا تماشا لائیو ٹی وی پر دکھایا۔ میڈیا کے ان تمام اقدام سے قندیل بلوچ کی زندگی کے لیے خطرات تو اور بھی بڑھ گئے لیکن اسے ویسے بھی حفاظت کی کیا ضرورت تھی۔ وہ تو ایک لڑکی تھی جو غلطی پر غلطی بلکہ جرائم کا ارتکاب کرتی جا رہی تھی اس لیے اس کا غیر محفوظ ہونا ہی بہتر تھا۔

قندیل بلوچ کی نئی زندگی موبائل سکرینوں کے ذریعے اس کے گلی محلے اور گھر تک پہنچ گئی۔ گھر میں چھ بھائی تھے۔ اب جب مین-سٹریم میڈیا اپنا کردار ادا کر چکا تو محلے والوں اور رشتہ داروں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ قندیل بلوچ کے بھائی نے قربانی دی اور قندیل بلوچ کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر کے ایک ہیرو بن گیا۔

وہ دن اور آج کا دن، پاکستانی مردوں کو ایک لڑکی کے قتل کا افسوس تو ہے لیکن ساتھ ہی پوچھتے ہیں کہ یار اس کی ویڈیوز دیکھی ہیں آپ نے فیس بک پر۔ اس کا بھائی بیچارہ اسے قتل نہ کرتا تو کیا کرتا۔

یہ تو قندیل بلوچ کا قصور ہے نا کہ وہ اپنے آپ کو ایک آزاد انسان تصور کرنے لگی۔ ایک انسان جو اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے، لیکن یہ تو بے غیرتی کی بات ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کرتے۔ اص میں تو وہ اپنے گھر کے مردوں کی پراپرٹی تھی اور اسے یہی بن کر رہنا چاہیے تھا۔ پاکستان میں خود کو پراپرٹی سے زیادہ سمجھنے والی عورت کو کم ہی طبعی موت نصیب ہوتی ہے۔

ہمیں فخر ہے کہ پاکستان میں غیرت کے غبارے کا دھاگہ بہت محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ہمارے حکمران خاص طور بہت غیرت مند ہیں۔ تبھی تو ستر سال گزر گئے لیکن غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے خلاف قوانین بنانے والی ہر مغربی سازش کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ہم ان غیرت مند مردوں کی حفاظت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں جو اپنی بہن یا بیٹی کو قتل کرتے ہیں۔ قندیل بلوچ کے والد نے بھی اپنے قاتل بیٹوں کو معاف کر دیا ہے۔ لیکن اس دفعہ صورت حال تھوڑی سی مشکل نکلی ہے۔ انہیں پھانسی تو نہیں ہو گی لیکن کچھ عرصہ جیل بہرحال کاٹنی پڑے گی۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 217 posts and counting.See all posts by salim-malik