تم سوچتی بہت ہو


یاد ہے مجھے تم اکثر کہا کرتی تھی ”یہ محبت میں بچھڑنے والے بھٹکتی روحوں کی طرح ہوتے ہیں جو اذیت کے خلاوں میں بھٹکتے رہتے ہیں مگر کبھی وہ سکون کے جزیرے پر نہیں پہنچ پاتے“ تم ٹھیک ہی کہتی تھی، محبت عجیب سانحہ ہے عجیب واردات ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس پر سے محبت گزر جائے۔ آج اتنے برسوں بعد بھی رات کا آخری پہر تمھارے ہی نام ہوتا ہے، بارشیں سبھی تمھارے ہی نام ہوتی ہیں اور اُن بارشوں میں پئے جانے والے چائے کے کپ تمھارے ہی نام ہوتے ہیں۔

مگر یہ سب یاد کا عذاب ہے جو میں برسوں سے جھیلتا آ رہا ہُوں اور شاید ہمیشہ جھیلتا رہوں گا۔ تم بھی اب اپنے بچوں میں مگن ہو گئی ہو گی اور ان مصلحتوں کو مشرقی تہذیب کا نام دے کر زندگی کی ساری تلخیوں کو قبول کر چکی ہو گی، ہاں مگر اب بھی کبھی کبھار میں تمھاری آنکھوں سے نکل جاتا ہُوں گا اور تمھیں کتنے ہی جھوٹے بہانے بنانے پڑتے ہوں گے۔

حالات کی گردش نے میرا بھی حال عجیب کر دیا ہے سارا دن فکر معاش میں گزر جاتا ہے اور کسی طرف دھیان ہی نہیں جاتا، فکر معاش سے کچھ نکلتا ہُوں تو ستر سالوں پر محیط معاشرے پر چھایا جبری مسلط اور معاشرتی محرومیاں میرے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں میرے جیسے کروڑوں لوگوں کی محرومیاں اور دکھ گلے کا ہار بن جاتے ہیں۔ سیاست اور اہل سیاست کی سفاکیوں اور بد اعمالیوں کا دکھ، جا بجا بکتے ہوئے انصاف کا دکھ اور انصاف کے نام بے انصافیوں کا دکھ، ریاست ماں کے جیسی مگر اسی ماں کے ہاتھوں اپنے ہی بچوں کے استحصال کا دکھ، مٹھی بھر مراعات یافتہ اشرافیہ کہ جس نے سوچ سے لے کر نظام تک پر ستر سالوں سے اپنا طلسمی قبضہ کر رکھا ہے اور معاشرے کا فرد جبر کا قیدی بن کر رہ گیا ہے، اپنی اس آزادی کے کھو جانے کا دکھ۔

اپنی سوچ کے غلام ہونے کا دکھ کھائے جاتا ہے۔ اپنی رائے کے لُٹ جانے کا المیہ بے چین کیے رکھتا ہے۔ کوئی بول نہیں سکتا کوئی سوچ نہیں سکتا وقت کی کوئی چال کہا جائے یا پھر حالات کا ستم مگر اس سب کا بہت ملال ہے مجھے۔

میں اکثر سوچتا ہُوں کب تک دکھ سہنا ہے کب تک چُپ رہنا ہے، ستر سالوں سے چُپ رہ کر بھی دیکھ لیا دکھ سہہ کر بھی دیکھ لیا کچھ نہیں بدلا تو اب سب کیسے بدلے گا۔

سنو اب خوف ٹُوٹ رہا ہے جبر قریب المرگ ہے عام لوگ اپنی محرومیاں پہچاننا شروع ہو گئے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ ستر سالوں کا جبر میں ختم کروں گا مگر میں نے فیصلہ کیا مجھے تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہونا ہے اس آخری لڑائی میں اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کروں گا۔

ایک بات بولوں اب یہ بائیس کروڑ لوگ مجھے ”تم“ لگتے ہیں تمھارے جیسے دکھتے ہیں کہ جن کے عشق میں گرفتار ہو گیا ہُوں اور اب بے وفائی ممکن نہیں۔

دیکھو بات ایک دل کی تھی اور دل سے نکل کر کہاں تک پہنچ گئی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اب تمھاری یاد نہیں آتی مگر اب اپنے دل کا سانحہ اس بے انصاف اور جبری معاشرتی تقسیم کے سامنے بہت چھوٹا لگتا ہے۔

ایک مزدور محض دو وقت کی روٹی کے لئے صبح سے شام بے وقعت ہو رہا ہے وہ مزدور جو شاید کچھ پیسے تو کما لیتا ہے مگر عزت نہیں کما پا رہا، یہ میرا دکھ ہے۔ ٹریفک سگنل پر غلطی کرنے والا ایک عام آدمی روز اپنی عزت نفس تار تار کرواتا ہے مگر ٹھیک اُسی وقت کسی رولنگ ایلیٹ والے کی گاڑی پروٹوکول کے جھرمٹ میں سائرن بجاتے ہُوئے مجھ جیسے کروڑوں کی بے بسی کا مذاق اُڑاتے ہُوئے آرام سے گزر جاتی ہے اور کوئی کچھ کہنے والا نہیں ہوتا، مجھے اس غلامی کا دکھ ہے۔ جب پھول جیسا کوئی بچہ کسی سڑک پر مانگتے دیکھتا ہُوں تو لگتا اس کی معصومیت چھننے کا میں گناہ گار ہُوں اور یہ احساس ندامت مجھے پتھر سا کر جاتا ہے، مجھے اس معاشرتی بے انصافی کا دکھ ہے۔ انسان کا ہونا نہ ہونا برابر ہو گیا ہے سانس لیتے انسان کی بے قدری کا دکھ ہے۔

تم کہا کرتی تھی میرے چہرے کی شکن کے بھی تم معانی و مفہوم سمجھ لیتی ہو، کاش تم میرے دل کے سارے آزار سمجھ پاؤ۔

تم سوچتی بہت ہو نا!

تو پھر ایک بات ضرور سوچنا

میں ہارا تو کون ہارے گا، میں جیتا تو کون جیتے گا!

مگر میرا یہ تم سے وعدہ ہے کہ جب بھی کبھی بارش ہو گی جب بھی کبھی چائے پئیوں گا جب بھی رات کا آخری پہر ہو گا تو تمھیں پہلی سی شدت سے یاد کروں گا اور میرے جذبات کے سمندر کبھی مدو جزر کا شکار ہو کر نیچے نہیں اُتریں گے، بالکل وہی شدت جس شدت سے تمھیں چاہا تھا۔

جیسے میرے پاؤں کے نیچے آنے والی گھاس کے ٹکڑے تم نے سنبھال رکھے ہیں، وہ پھول بھی کتابوں میں پڑے رہنے دینا یہ خشک پھول کتابوں میں ہماری محبت کی داستاں بن کر مہکتے رہیں گے اور ہم ایک دوسرے کے دل کے کسی نا کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہیں۔

اور ہاں تمھارا میرا نہ ملنا اتنا بڑا واقعہ نہیں مگر ہماری محبت اس کائنات کا سب بڑا اور اہم واقعہ ہے

ذرا سوچنا کیوں کہ تم سوچتی بہت ہو۔

Facebook Comments HS