معذور افراد اور معذور معاشرے


ہارون اعوان

پچھلے دنوں مجھے ایک تربیتی ورکشاپ میں جانے کا اتفاق ہوا جس کا اہتمام معذور افراد کی ایک تنظیم نے کیا تھا۔ جس میں معذور افراد اور ان کے والدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور ان کو معذور بچوں کی صحیح دیکھ بھال اور اچھی تربیت کرنے کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ ورکشاپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ لیکن صحافت کے طالب علم ہونے کے ناطے میں نے جو کچھ دیکھا، سیکھا، محسوس کیا اور مشاہدہ کیا تو اس کو تحریری شکل میں پیش کرنا چاہوں گا۔

جس طرح میری اس تحریر کا عنوان ایک سوال کی شکل میں ہے کہ معذور کون ؟ یقیناً آپ کے ذہن میں لفظ معذور کے بارے میں یہی آئے گا کہ لنگڑا، لولا، کانا، پاگل، بھکاری، دیوانہ، مستانہ اور نابینا یا کوئی اور مخلوق وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر اگر مختصر بیان کیا جائے تو ذہنی یا جسمانی طور پر کمزور افراد کو معذور کہا جا سکتا ہے۔ الفاظ استعمال کرنے کے لئے معذرت خواہ ہوں لیکن یہاں پر ان الفاظ کے بغیر معاشرے کی اس تلخ حقیقت کو بیان کرنا شاید مجھ جیسے ایک ادنٰی طالب علم کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ آج تک میرے ذہن میں بھی معذور کے بارے میں یہی الفاظ آتے تھے لیکن میں نے جب ان لوگوں کو قریب سے دیکھا تو یقین مانئے یہ لوگ معذور نہیں بلکہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے لئے مثال ہیں۔

اب آتے ہیں اپنے معاشرے کی طرف۔ میرا ذاتی تجربہ یہ کہتا ہے کہ معذور وہ نہیں جو جسمانی یا ذہنی طور پر کمزور ہوں بلکہ معذور وہ معاشرہ ہے جو ان کو معذور کہتا ہے، معذور وہ افراد ہیں جو ان لوگوں کو برے القابات سے پکارتے ہیں، معذور وہ ہیں جو اپنے حقیقی خالق و مالک اللہ تعالی کی ذات پر یقین نہیں رکھتے، معذور وہ لوگ ہیں جو ان افراد کی معذوری کو معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں، معذور وہ لوگ ہیں جو ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے، معذور وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کو کمتر سمجھتے ہیں۔

معذور وہ تعلیمی نظام ہے جو آپ کو پیسے کمانے کا گر تو سکھا دیتا ہے لیکن ایک اچھا انسان بننے کا گر نہیں سکھاتا، معذور وہ انجینئرز ہیں جن کو بلڈنگ کوڈز کا علم ہی نہیں، معذور وہ ڈاکٹرز ہیں جو قابل علاج مریض کو کہتے ہیں کہ آپ کی بیماری ناقابل علاج ہے یا پھر اپنے چند پیسوں کی خاطر مریض کو ایسی دوائی تجویز کرتا ہے جس کی ضرورت ہی نہ ہو، معذور وہ وکیل ہے جو جھوٹے مقدمے لڑ کر قاتلوں کو چھڑواتا ہے، معذور وہ ہیں جو بد اخلاق ہیں اور معذور وہ ہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں لیکن ان کا پڑوسی بھوکا سوتا ہے، معذور ہر وہ شخص ہے جو اپنے پیشے سے مخلص نہیں ہے، معذور وہ لوگ ہیں جو سڑک پار کرتے وقت انڈر پاس یا زیبرا کراسنگ کا استعمال نہیں کرتے، معذور وہ لوگ ہیں جو اپنی باری کا انتطار نہیں کرتے، معذور وہ ہیں جو وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ معذور وہ لوگ ہیں جو دوسروں کا حق مارتے ہیں۔

 معذور وہ لوگ ہیں جو زندگی میں محنت اور کوشش نہیں کرتے اور اپنے اور دوسروں کے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھاتے، معذور وہ ہیں جو امن کی بجائے جنگ کو ترجیح دیتے ہیں، معذور وہ حکمران ہیں جو عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتی ہے، معذور وہ حکمران ہیں جو عوام کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں، معذور وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو قانون سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں، معذور وہ سیاست دان ہے جو کہتا ہے کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے جعلی ہو یا اصلی۔

معذور وہ لوگ ہیں جو بے گناہ انسانوں کا خون بہاتے ہیں، معذور وہ حکومت ہے جو عوام کو اپنا جائز حق نہیں دیتی، معذور وہ والدین اور وہ لوگ ہیں جو ان کو کہتے ہیں کہ تم کچھ نہیں کر سکتے اور ان کو صرف بھکاری بناتے ہیں، معذور وہ لوگ ہیں جو انسانوں کی فلاح کے لئے کچھ بھی نہیں کرتے اوراس دنیا سے گزر جاتے ہیں، معذور وہ ہیں جن کا ضمیر مر چکا ہے، معذور وہ عوام ہیں جو ووٹ ڈالتے وقت اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ میں جس کو ووٹ دے رہا ہوں وہ اس کا اہل بھی ہے یا نہیں اور جو کرپٹ اور لٹیروں کا انتخاب کر کے ان کو اسمبلیوں میں بھیج دیتے ہیں۔

معذور وہ سیاست دان اور وہ حکمران ہیں جو عوامی مسائل کو چھوڑ کر ایوان میں ذاتی انا کی خاطر لڑتے جھگڑتے ہیں، معذور ہر وہ شخص ہے جو ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دیتا ہے۔

 ذرا سوچئے کیا ہم اور آپ معذور تو نہیں؟

Facebook Comments HS