عزاداری پر مسلکی رنگ کیوں چڑھ گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا تعلق جس بستی سے ہے وہاں ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے اور سنی اکثریتی محلے نئی بستی کی سرگرم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ہر چند کہ بستی کے اہل تشیع سے ان کی سلام دعا تھی لیکن شیعہ طبقہ میں عام تاثر یہی تھا کہ یہ صاحب دل ہی دل میں شیعوں سے چڑتے ہیں۔ ہم نے بھی کئی ایک سے یہی کچھ سنا اور ان کے بارے میں مخصوص تاثر قائم کر لیا۔ ایک بار محرم میں بستی میں جو تعزیتی بینر لگے ان پر کربلا سے متعلق اشعار درج کیے گئے۔ ایسے ہی ایک بینر پر میں نے یہ قطعہ پڑھا

یہ ہے ایثار و قربانی، مشیئت جس پہ واری ہے
بہتر میں بضد ہر ایک، پہلے میری باری ہے

لرز اٹھیں زمین و آسماں، جب ذکر ہو اس کا
وہ سجدہ دونوں عالم کی نمازوں پر جو بھاری ہے

اس قطعہ کے نیچے شاعر کے طور پر انہیں صاحب کا نام درج تھا جنہیں میں شیعہ مخالف مان بیٹھا تھا۔ پہلے پہل تو مجھے لگا کہ شاید کسی نے انہیں چڑانے کے لئے ان کا نام لکھ دیا ہے لیکن جب میں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ شعر انہیں صاحب کا ہے۔ میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ وہ صاحب تو سنی ہیں پھر انہوں نے یہ شعر کیونکر لکھ دیا؟

بابا میری بات سن کر مسکرائے اور بولے کہ بیس برس پہلے شیعوں کی طرف سے کرائی جانے والی منقبتی محفلوں میں وہ صاحب ہی کیا ایک درجن کے قریب سنی شاعر آتے تھے اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا کرتے تھے۔

میں نے بابا سے پوچھا کہ وہ سلسلہ ختم کیوں ہو گیا؟

بابا کہنے لگے کہ جب کچھ جاہل شعرا نے منقبت کے بجائے تبرائی ٹائپ چیزیں پڑھنی شروع کیں تو سنی شعرا کا آنا دھیرے دھیرے کم ہو گیا۔

میرا اور میرے والد کا یہ مکالمہ آج سے پندرہ برس پہلے کا ہے۔ اب وہ سنی شاعر انتقال کر چکے ہیں۔ ہر چند کہ بستی کے شیعہ اور سنی آج بھی ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں لیکن عزاداری جو کبھی مسلکی تفریق سے بالاتر ہوکر سب کی میراث ہوا کرتی تھی اب اس کے نام سے ہی کچھ غیر شیعہ مکاتب فکر بگڑ جاتے ہیں۔ اس میں یقینا ان سرگرمیوں کو دخل ہے جنہوں نے عزاداری کو دین مخالف عمل قرار دیا لیکن تبرا پسند جاہل ذاکروں کے اشتعال انگیز بیانات نے گویا آگ میں مزید گھی ڈال دیا۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ حضرت امام حسین جنہیں ہم پوری انسانیت کا شہید بتاتے ہیں ان کی اسی شہادت کی یاد مناتے ہوئے ہم نے بہت سے کلمہ گو افراد کو بھی پیغام کربلا سے دور کر دیا۔ برصغیر کے کچھ ذاکروں نے تبرائی، انتشار آمیز اور اشتعال انگیز باتوں کو ذکر حسین کی مجلسوں میں چھیڑ کر جس طرح بہت سے لوگوں کو پیغام حسین سے دور کر دیا ہے اس کے لئے ان کی جوابدہی بنتی ہے۔ یہ بات شرم سے ڈوب مرنے کی ہے کہ عزاداری مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بن جائے اور فرش عزا سے ایسی بات کی جائے جس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو۔

یہ بھی یاد رکھئے کہ اشتعال انگیز ذاکروں کے ساتھ ساتھ اس جرم میں وہ سامعین بھی شریک ہیں جو اس قسم کے مباحث کو سننا پسند کرتے ہیں اور جن کے گھٹیا ذوق کی وجہہ سے عزاداری جیسا مہتم بالشان ادارہ ایک مخصوص مسلک تک سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ اگر میں عزاداری میں کسی بھی ایسے عمل کو گوارا کرتا ہوں جس سے حسین کی شہادت کا مقصد متاثر ہوتا ہو تو مجھے چاہیے کہ میں فرش عزا سے اٹھ جاؤں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 87 posts and counting.See all posts by malik-ashter